Header Ads

Breaking News
recent

اروند کیجری وال - کمشنر انکم ٹیکس سے وزیراعلیٰ تک....


سیاست ہمارے ملک کا مہنگا ترین اور خطرناک کھیل ہے، اس پُر خطر میدان میں ہر طرح کے کھلاڑی موجود ہیں، ہر جسامت، ہر قدکاٹھ، ہر زبان، اور ہر ذہن کا کھلاڑی۔ اس میں کئی میچ پہلے سے طے شدہ ہوتے ہیں، بعض اوقات تو میچ اتنا پیچیدہ اور مشکل ہو جاتا ہے جس طرح عمران خاں سربراہ پی ٹی آئی اور ڈاکٹر طاہر القادری سربراہ پی اے ٹی کا میچ کہ کھیلنے کی نوبت ہی نہیں آئی، اس طرح پاکستان میں اور بھی کئی سیاسی میچ ہوئے جن میں نتیجہ آنے سے پہلے ہی امپائر بدل جاتے ہیں، بلکہ بدلتے رہتے ہیں۔

 یہ بھی بہت عجیب اور دلچسپ ہوتے ہیں، کئی بار معذور شخص کو بیس کلومیٹر کی دوڑ میں شامل کروا کر جتا دیتے ہیں تو کبھی سب سے اچھے دوڑنے والے کو ریس سے نکال دیا جاتا ہے۔ لوگ کہتے ہیں کہ سیاست میں دل نہیں ہوتا اور جذبات بھی نہیں ہوتے۔ میرا ناقص تجزیہ کہتا ہے کہ اس کو بھرپور جذبے سے بھی جیتا جا سکتا ہے۔ اس سے زیادہ اچھا اور بہتر سلوک کیا ہوگا کہ مارنے والا بڑی تمیز اور ادب سے مقتل میں اپنے حریف سے پوچھتا ہے کہ وہ کیسے اس دنیا سے باعزت رخصت ہونا چاہتا ہے؟ کئی بار تو اس سے بھی زیادہ خلوص کا مظاہرہ کیا جاتا ہے کہ سیاسی حریف سے عرض کی جاتی ہے کہ اپنی گردن خود ہی تن سے جدا کر کے ہمارے حوالے کر دے تاکہ ہر ایک کی عزت برقرار رہے۔

دراصل یہ سانپ اور سیڑھی کا کھیل ہے کس کو 99سے زیرو پر لانا ہے، کسی کو پتہ نہیں چلتا، لیکن اس کھیل میں نیچے گرنے والے کو چوٹ بہت آتی ہے۔ وہ بتا بھی نہیں سکتا کہ چوٹ کیسے آئی اور تکلیف کتنی ہے اور کون سا بڑا کھلاڑی میدان سیاست میں سامنے آ گیا اور کس کھلاڑی نے دھوبی پٹرا مارا ہے۔ بہر حال جو کچھ بھی ہو، کوئی بھی میدان ہو، اس میں ایک اصول طے شدہ ہے کہ اس مشکل کھیل کا میدان ہمارے عام لوگ ہی ہوتے ہیں ہر چیز بدل سکتی ہے، کھلاڑی اور امپائر بھی بدل سکتے ہیں، سانپ اور سیڑھی کے کھیل میں سانپ کا رنگ اور لمبائی بدل سکتی ہے، سیڑھی بھی بدلی جا سکتی ہے، مگر اس کا میدان نہیں بدلتا۔ 

اس میں استعمال صرف عام آدمی ہی ہوتا ہے، جس دن عام آدمی کو اس ظالمانہ کھیل کا شعور آ گیا، اس دن ہر چیز بدل جائے گی، کھلاڑی بھی اور مدتوں سے بیٹھے ہوئے امپائر بھی۔ جس طرح ہندوستان میں 2013ء میں سیاسی تبدیلی آئی تھی کہ ایک عام اور سادہ آدمی جو کہ سرکاری ملازم تھا، اس کا نام اروند کیجری وال تھا، وہ ہندوستان میں انکم ٹیکس کے محکمے میں مقابلے کا امتحان پاس کر کے1991ء میں بھرتی ہوا تھا، تعلیم کے لحاظ سے وہ انجینئر تھا، ٹیکس کے محکمے میں مزید تعلیم حاصل کرنے کا شوق بہت کم آفیسروں کو ہوتا ہے، اروند نے محکمے سے تین سال کی چھٹی لی اور تعلیم حاصل کرنے لگا۔ اس کو چھٹی اس شرط پر ملی کہ وہ واپس آکر تین سال تک اپنے محکمے میں نوکری کرے گا۔
پاکستان میں سینکڑوں لوگوں نے نوکری کرنے کی شرط پر بیرون ملک ٹریننگ لی۔ تعلیم حاصل کی، لیکن اپنے محکمے میں شاید ایک فیصد ملازم واپس آئے ہوں گے۔ بہرحال اروند کیجری وال تین سال بعد دہلی میں کمشنر لگ گیا۔

 اس کے کسی بھی ساتھی نے محسوس نہیں کیا کہ اروند بدل گیا ہے اور اس کے دل میں کوئی نئی سوچ پیدا ہو گئی ہے، اروند نے محسوس کیا کہ تبدیلی بڑی چیزوں سے نہیں، بلکہ انتہائی چھوٹی اور معمولی چیزوں سے آتی ہے، اس سوچ نے اس شخص کو وہ اعتماد دیا جس نے اس کی آنے والی زندگی کے سفر کو بالکل تبدیل کر دیا۔ دوران ملازمت اس نے 2006ء میں لوگوں کی مشکلات کو مدِ نظر رکھتے ہوئے ایک ریسرچ فاؤنڈیشن قائم کی۔ حالانکہ اروند کے وسائل بہت محدود تھے۔ ملازمین کی تنخواہ اور دیگر اخراجات کے لئے اس نے ایک فنڈ قائم کیا اس کے پاس جو بھی رقم موجود تھی اس نے اس فاؤنڈیشن کو دے دی۔

 دوران ملازمت اس نے محسوس کیا کہ لوگوں کو انکم ٹیکس گوشوارے بھرنے میں بہت دشواری آتی ہے، اس کو یہ بھی پتہ چلا کہ عام لوگوں کے لئے بجلی اور راشن کارڈ کے مسائل بہت مشکل ہیں، اروند کیجری وال نے انکم ٹیکس ڈیپارٹمنٹ میں ہی ایک تحریک شروع کی اور عام لوگوں کے لئے اس نے مفت مدد کرنی شروع کر دی۔ 2008ء میں دہلی میں اس نے بوگس راشن کارڈ کا ایک سکینڈل پکڑا لیکن اس کی محنت پر کسی نے توجہ نہیں دی۔ اب اس کیجری وال کی پارٹی عام آدمی پارٹی دہلی کا الیکشن جیت گئی ہے اور وہ وزیراعلیٰ بننے کے لئے پُرامید ہیں، پہلے بھی دو ماہ کے لئے وزیراعلیٰ رہ چکے ہیں۔

صوفی محمد انور

No comments:

Powered by Blogger.