Header Ads

Breaking News
recent

اولاد کی بے حسی - عمر رسیدہ والدین کو اولڈ ایج ہومز میں داخل کرنے کے رجحان میں اضافہ....


بے حس اولاد کا اپنے عمر رسیدہ والدین کو اولڈایج ہومز میں داخل کرنے کے رجحان میں اضافے کے باعث اولڈ ہومز میں جگہ کی قلت پیدا ہوتی جا رہی ہے۔
بنت فاطمہ اولڈ ہوم میں گزشتہ برس20 سے زائد عمر رسیدہ خواتین سہولتوں سے آراستہ زندگی بسر کرنے کے باوجود اپنی اولاد سے دور کرب کی زندگی بسر کر رہی تھیں وہاں موجودہ سال میں ضعیف خواتین کی تعداد دگنی ہوگئی ہے، بنت فاطمہ اولڈ ہوم میں بیشتر داخل خواتین امیر اور تعلیم یافتہ گھرانوں سے تعلق رکھتی ہیں، ان بوڑھی خواتین کی اولاد تو عالی شان مکانات میں رہائش پذیر ہیں لیکن بوڑھی ماؤں کے لئے اِن کے پاس وقت نہیں، اکثر خواتین کی اولاد کاروبار کیلئے بیرون ملک چلی جاتی ہے اور عالی شان محلوں میں ماں باپ کو نوکروں یا پڑوسیوں کے رحم و کرم پر چھوڑدیتے ہیں جہاں عدم توجہی سے والدین نفسیاتی امراض میں مبتلا ہو رہے ہیں۔

ضعیفی میں جسمانی طور پر کمزور اور اکیلے پن کے شکار والدین عمر کے آخری حصے میں معصوم بچوں جیسی حرکتیں کرتے ہیں اور چڑچڑے پن کا شکار ہو کر اپنوں کے پیار کو ترستے ہیں لیکن اولاد انھیں اولڈ ہوم میں رکھنے کو ترجیح دیتی ہے کیونکہ اِن ضعیف والدین کو گھر میں رکھنے پر اِن کے رتبے میں کمی آتی ہے، بنت فاطمہ اولڈ ہوم میں موجود بیشتر بوڑھی ماؤں کا کہنا تھا کہ بچپن میں اولاد گھر سے باہر ہو تو والدین کو پریشانی میں نیند نہیں آتی، اپنی زندگی کا تمام ترسرمایہ اور بڑھاپے کی لاٹھی اپنی اولاد کو سمجھتے ہیں۔ ہم انھیں اُف تک نہیں کرتے ،جب ہماری اولاد خود والدین کے رتبے پر فائز ہوتی ہیں اور ہمارا وقت اپنے پوتے پوتیوں کے ساتھ کھیلنے کا آتا ہے تو ہماری قدر و منزلت اُن کی نگاہوں میں بڑھنے کے بجائے کم ہوجاتی ہے، وہ ہمیں گھر کا کوڑا کرکٹ سمجھ کر اولڈ ہوم میں بھیج دیتے ہیں۔

اس موقع پر کچھ مائیں اولاد کے خلاف بات کرنے سے گریز کر رہی تھیں ، اُن کا کہنا تھا کہ ہماری اولاد جیسی بھی ہے آخر ہے تو ہماری، ہمارے منہ سے اب بھی بچوں کے لیے دعا نکلتی ہے، بنت فاطمہ اولڈ ہوم ٹرسٹ کی روح رواںنے کہا کہ ضعیف العمر خواتین بد قسمت نہیں بلکہ اُن کی اولادو دیگر اہل واعیال بدقسمت ہیں، نادان اولاد یہ سمجھنے سے قاصر ہیںکہ جیسا بیج وہ بوئیں گے ویسا ہی کاٹیں گے، اُن کا مزید کہنا تھا کہ بزرگ خواتین کی تعداد میں روز بروز ہوشربا اضافہ ہونے کے باعث جگہ کی قلت کا سامنا ہے۔

 جس کے لیے ہم نے وزیر اعلیٰ سندھ کو ایک خط بھی لکھا ہے لیکن کوئی مثبت جواب موصول نہیں ہوا، سروے کے دوران معلوم ہوا کہ بنت فاطمہ اولڈ ہوم میں ضعیف خواتین کے علاوہ بیشتر نوجوان خواتین بھی تھیں جو نفسیاتی امراض میں مبتلا ہوجانے کے بعد یہاں مقیم ہیں،اولڈ ہوم میں80سالہ میمونہ جس کی تعلیمی قابلیت انٹرمیڈیٹ ہے اور وہ گٹار بجانے اور پینٹنگ میں ہر فن مولا تھیں ، انھوں نے6سال نجی طبی کلینک میں ملازمت بھی کی تھی اور اُن کا شوہرکمپیوٹر انجینئر کے عہدے پر فائز تھا، انھوں نے اپنے اکلوتے بیٹے کو اعلیٰ تعلیم کے حصول کیلیے امریکا بھیجا تھا کہ اُسی دوران امریکا میں مقیم پاکستانی نژاد خاتون کے عشق میں مبتلا ہوگیا اور والدین سے اپنی پسند کیشادی کی اجازت طلب کی، والدین نے امریکی شہریت کی لالچ میں اجازت دی، بہو نے اُن کے بیٹے کے ساتھ بمشکل 6 سال ہی بسر کیے تھے۔

اَس کے بعد اُن دونوں کے درمیان بے اتفاقی کا سلسلہ شروع ہوگیا، بہو نے اپنے شوہر اور ساس کے ساتھ نامناسب رویہ برتنا شروع کردیا جس کی وجہ سے سسر کا انتقال ہوگیا، اکلوتا بیٹا نشہ کی لت میں مبتلا ہوگیا اور بہو نے ساس پر ظلم و ستم کے پہاڑ گرانے کے بعد اولڈ ہوم میں بلامعاوضہ منتقل کردیا، بوڑھی خاتون 4 سے5 کروڑکے عالی شان گھر کی مالکن ہے،ضعیف خاتون ذہنی طور پر صحت مند ہے اور جب وہ اولڈ ہوم میں کھانا کھاتی ہے تو اپنے بیٹے کو یاد کر کے بہت روتی ہے،60 سالہ سائرہ نامی خاتون جو ایک اعلیٰ سطح کے نجی اسکول کی تمام شاخوں کی ڈائریکٹر تھیں اور اُن کا شوہر نجی بینک کے ایک اعلٰی عہدے پر فائز تھا ، اُن کے دو بچے جس میں ایک بیٹا اور ایک بیٹی تھی ۔

اپنی اولاد کی پرورش بڑے لاڈ و پیار سے کی تھی اور بچوں کی تربیت پر مغربی تہذیب کا زیادہ اثر تھا ، بیٹی شادی کے بعد کینیڈا میں مقیم ہیں اور بیٹا شادی کے بعد کراچی میں مقیم ہے ، بوڑھی خاتون کے ڈیفنس میں کروڑوں کی لاگت کے 3 بنگلے بھی تھے لیکن اُن کا بیٹا عیاش طبیعت کا مالک تھا جس کی وجہ سے ایک ایک کر کے بیٹے نے تمام بنگلے فروخت کردیے تھے ، وہ اپنی ماں کو نشہ آور ادویات دیتا تھا جس کے باعث وہ ذہنی طور پر پسماندہ ہو چکی تھیں ، اُن کے شوہر کا انتقال5 برس قبل ہو چکا تھا ، بیٹے نے آخری بنگلہ فروخت کرنے سے قبل اپنی ماں کو اولڈ ہوم میں بھیج دیا، اِسی طرح ہر ضعیف خاتون کی ایک درد بھری کہانی تھی۔

No comments:

Powered by Blogger.