Header Ads

Breaking News
recent

فیس بک استعمال کرنے کے چند آداب....

دنیا بھر میں مقبول ترین سوشل نیٹ ورک سائٹ ہماری زندگی میں سوشل نیٹ ورکنگ ویب سائٹس کا عمل دخل خاصا بڑھ چکا۔ آج لاکھوں پاکستانی اپنی ہر چھوٹی بڑی بات ان ویب سائٹس کے ذریعے دوسروں سے شیئر کرتے ہیں۔ کوئی بھی تقریب ہو،اس کا احوال اور تصاویر جب تک فیس بک وغیرہ کے ذریعے دوسروں تک نہ پہنچا دیں، انھیں چین نہیں آتا۔

 یہ چونکہ مقبول ترین سوشل نیٹ ورکنگ سائٹ ہے،اس لیے وہاں ایک کروڑ سے زائد پاکستانی تصاویر و سٹیٹس اپ ڈیٹ کرنے میں مصروف رہتے ہیں۔درحقیقت فیس بک ان کی زندگی کا لازمی جزو بن چکی۔ اس کے ذریعے نہ صرف دوستیاں، رشتے داریاں بڑھ رہی ہیں بلکہ دشمنیاں بھی پیدا ہوچکیں۔ اس لیے فیس بک بہتر طور پر استعمال کرنے کے ہمیں کچھ آداب معلوم ہونے چاہئیں۔

 ضروری نہیں کہ ہر کوئی ان آداب کو ملحوظِ خاطر رکھے یا ان سے اتفاق کرے، لیکن انھیں پڑھ کر آپ کو اندازہ ہو گا، اگر اسے استعمال کرتے ہوئے ان باتوں کا خیال رکھا جائے،تو زیادہ بہتر ہے۔

 ذاتی باتیں پیغامات تک محدود رکھیں اپنے کسی دوست کے بارے میں کوئی ذاتی بات اپنی یا اس کی وال پر لکھنے کے بجائے پیغام کی صورت بھیجئے۔ ہو سکتا ہے کہ آپ کے لیے تو وہ بات اتنی اہم نہ ہو، لیکن شاید دوست اسے سب کے سامنے پیش کرنا پسند نہ کرے۔ اس لیے جوش کے بجائے ہوش سے کام لیتے ہوئے پہلے ذاتی پیغام میں ایک دوسرے سے بات کیجیے۔

 فیس بک ایک عوامی پلیٹ فارم ہے، اگر آپ نے کوئی ایسی ویسی ذاتی بات لکھ دی‘ تو آپ کو اندازہ نہیں، وہ کہاں تک پہنچ سکتی ہے۔ ذاتی خبریں فون کے ذریعے دیجیے خوشی یا غم کی کوئی ذاتی خبر ہے، تو اپنے قریبی دوستوں کو بذریعہ فون یا ایس ایم ایس دیں۔ یہ بات صرف فیس بک کے دائرہ آداب میں نہیں آتی بلکہ ہماری عام زندگی میں بھی رائج ہونی چاہیے۔ خاص کر دوسروں کے بارے میں ذاتی خبریں شیئر نہ کریں کیونکہ یہ امر بعض اوقات دشمنی پیدا کر دیتا ہے۔ اس کے علاوہ سنی سنائی خبریں، جن کے مستند ہونے کا آپ کو علم نہیں ہو، فوراً شیئر کرنے سے پہلے فون پر تصدیق ضرور کر لیں۔ 

ہر پوسٹ پر تبصرے سے گریز کیجیے اگر آپ کا کوئی بہت اچھا دوست ہے،تو اپنی دوستی ظاہر کرنے کے لیے ضروری نہیں کہ آپ اس کی ہر پوسٹ کو پسند یا اس پر تبصرہ کریں۔ اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ آپ ہر پوسٹ بنا پڑھے ہی پسند کیے جاتے ہیں۔ اگر آپ چاہیں،تو ہر پوسٹ پسند کر سکتے ہیں، لیکن کبھی کبھی کسی بات کو نظرانداز کر دینا بھی اچھا ہے کیونکہ دوسرے آپ کی یہ عادت نوٹ کر تے ہیں کہ آپ فلاں بندے کی ہر پوسٹ کو باقاعدگی سے پسند کر رہے ہیں۔ 

اپنے لہجے کا خیال رکھیے پڑھنے اور بولی ہوئی بات سننے میں بہت فرق ہے۔ جیسے آپ کوئی بات کریں اور کوئی دوسرا سننے والا جب تیسرے کو بتائے‘ تو بات میں فرق آسکتا ہے۔ یہ فرق ہوتا ہے لہجے کا، یعنی تیسرے نے چونکہ براہِ راست بات آپ سے نہیں سنی‘ اس لیے اسے نہیں پتا کہ آپ کا لہجہ کیسا تھا۔ اسی طرح فیس بک پر سٹیٹس اپ ڈیٹ کرتے ہوئے یہ بات دھیان میں رکھیں کہ آپ کا لہجہ مناسب ہو۔پڑھنے والا اسے کسی بھی طرح سمجھ سکتا ہے۔ 

چونکہ ہر کوئی ٹائپ کرنے کا انداز مختلف رکھتا ہے، لہٰذا کچھ لکھتے ہوئے خیال رکھیں کہ کوئی اس کا غلط مطلب نہ نکال لے۔ سادہ الفاظ میں ہلکی پھلکی اور خوشگوار باتوں کو اپنا فیس بک سٹیٹس بنائیں۔ جملے کے آخر میں موجود ایک مسکراہٹ بھی اچھا اثر ڈالتی ہے۔ 

مشہو ر کہاوت ہے ’’مسکرائیے… دنیا آپ کے ساتھ مسکرائے گی۔‘‘ اجنبی لوگوں کو دوستی کی درخواست مت بھیجئے کچھ لوگ سمجھتے ہیں کہ فیس بک پر زیادہ سے زیادہ دوست ہونا ان کی شہرت کا ثبوت ہے۔ اگر آپ کے لاتعداد دوست ہیں‘ تو یہ بات ٹھیک ہے، لیکن دوست حقیقی ہونے چاہئیں۔

 ایسے لوگ نہ ہوں جنھیں آپ جانتے بھی نہیں، بس فیس بک پر کہیں نظرآئے اور آپ نے انھیں ایڈ کر لیا۔ دُور کی جان پہچان والے یا ایسے لوگ جن کے متعلق آپ جاننا چاہتے ہوں ، انھیں ایڈ کرنے میں کوئی بْرائی نہیں،لیکن اجنبی لوگوں اور خاص کر بڑی تعداد میں اجنبیوں کو ایڈ کرنا کسی بھی طرح آپ کی شہرت ثابت نہیں کرتا، بلکہ یہ آپ کی پروفائل پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔

 ذاتی تشہیر مت کریں اپنی نیوز فیڈ دیکھتے ہوئے آپ کو کسی دوست کی کافی پوسٹیں نظر آتی ہیں۔ کچھ لوگ خودنمائی بہت پسند کرتے اور اپنی ذات سے وابستہ ہر بات دوسروں تک پہنچانا چاہتے ہیں۔ مثلاً میں فلاں ہوٹل میں ہوں، کھانا بہت اچھا ہے، فلاں میرے ساتھ ہے، اب ہم سنیما جا رہے ہیں۔ ہر دس پندرہ منٹ بعد ایک نئی پوسٹ دیکھتے ہوئے آپ عاجز آجاتے ہیں اور آخرکار اس دوست کی تمام پوسٹس ہائیڈ کر دیتے ہیں۔

اگر آپ دوسروں کے ساتھ ایسا کرتے ہیں، تو کوئی آپ کے ساتھ بھی ایسا کر سکتا ہے، لیکن اسی صورت میں کہ آپ بھی تواتر سے پوسٹیں کریں۔ یہ کوئی غلط بات نہیں، لیکن انسانی مزاج مختلف ہوتے ہیں۔ پڑھنے والے ضروری نہیں کہ آپ کی ہر پوسٹ سے لطف اندوز ہوں۔ اس لیے بہتر ہے کہ ایسا کچھ شیئر کریں کہ سب اس میں دلچسپی لیں۔ دوسروں کی رائے کا احترام کیجیے انٹرنیٹ کی دنیا میں ہر کوئی آزاد ہے۔ ہر انسان اپنی الگ رائے رکھتا ہے۔

 اس لیے فیس بک پر اپنی رائے کا اظہار کرنے میں سبھی آزاد ہیں۔ دوسروں کی کسی بات سے اگر آپ اتفاق نہ کریں،تو انھیں صحیح راہ پر لانے کے لیے خدائی فوجدار بننے کی کوئی ضرورت نہیں۔ اگر آپ کسی امر سے متفق نہیں‘ تو کوئی بات نہیں، اختلاف نظرانداز کر کے آگے بڑھ جائیے۔ جذبات میں آکر الجھنا آپ کے لیے نقصان دہ ثابت ہو سکتا ہے۔ چھوٹی چھوٹی باتوں پر دوسروں کے لیے بدگمانی مت پالیے۔

ایک چھوٹی سی بات پر اگر آپ کسی دوست سے الجھ جاتے ہیں،تو کچھ دن بعد وہ ایسی پوسٹ بھی لگا سکتا ہے جس سے آپ متفق ہوں۔ پھر آپ اس کی تائید کرنے میں ہچکچائیں گے۔ اس لیے بہتر یہی ہے کہ صبروتحمل کا مظاہرہ کریں۔ ہمیشہ دل بڑا رکھیں اور اگر کسی کی کوئی بات پسند نہ آئے‘ تو فوراً جتلانے کے بجائے درگزر کر دیں۔ پرائیویسی سیٹنگز اپنے فیس بک اکاؤنٹ کی پرائیویسی سیٹنگز ضرور چیک کریں۔ قریبی دوستوں کے علاوہ رشتے دار، جان پہچان کے لوگ اور دفتر کے ساتھی بھی فیس بک پر ایڈ ہوتے ہیں۔ 

اس لیے کچھ بھی شیئر کرنے سے پہلے دھیان رکھیں کہ آپ کی پوسٹ کن کن لوگوں تک پہنچے گی۔ بہتر ہے کہ دوستوں کے مختلف گروپس بنا لیں۔ اگر کوئی بات صرف رشتے داروں سے شیئر کرنے والی ہے تو صرف فیملی کے لیے پوسٹ کریں۔ جو دوستوں سے شیئر کرنے والی بات ہو، اسے دوستوں سے کریں۔ 

اگر عام سی کوئی بات ہے جسے آپ سب سے شیئر کرنا چاہتے ہیں‘ تو پوسٹ کرتے وقت پبلک بھی منتخب کر سکتے ہیں۔

 اختتامیہ:ہم یہ نہیں کہتے کہ آپ ان تمام ہدایات پر سختی سے کاربند ہو کر فیس بک سے لطف اندوز ہونا ہی چھوڑ دیں۔دراصل فیس بک ایک دو دھاری تلوار ہے، اسے احتیاط سے استعمال کرنا ہی عقلمندی کا تقاضاہے

علمدار حسین

No comments:

Powered by Blogger.