Header Ads

Breaking News
recent

نئے سال کا پہلا نوحہ....


جن معاشروں میں زندگی کے آثار باقی ہوں، وہاں سُکھ نہ سہی تو دُکھ ضرور سانجھے ہوتے ہیں۔ ایسے معاشروں میں خوشی کے موقع پر اتحاد نظر نہ بھی آئے تو غم کی گھڑی میں یکجہتی کا مظاہرہ ضرور دکھائی دیتا ہے۔ موت کی راکھ میں زندگانی کی کچھ چنگاریاں باقی ہوں تو لوگ ایک دوسرے کو پُرسہ ضرور دیتے ہیں۔ ایک وقت تھا جب ہمارے دکھ درد بھی مشترک ہوا کرتے تھے۔ مگر اب تو سب کی اپنی اپنی الگ دیوار گریہ ہے۔ انتشار و افتراق کا یہ عالم ہے کہ صف ماتم بھی جدا جدا ہے اور یہی نہیں بلکہ روگ اور سوگ کے پیمانے اور افسانے بھی یگانہ و منفرد ہیں۔ ایک عرصہ سے بلوچستان میں جور وستم کا سلسلہ جاری ہے ،پورا صوبہ مقتل بنا ہے، ٹارگٹ کلنگ ہو رہی ہے، بلوچوں کی مسخ شدہ لاشیں مل رہی ہیں، لوگ لاپتہ ہو رہے ہیں مگر دیگر صوبوں میں زندگی ویسے ہی زقندیں بھرتی آگے بڑھتی چلی جا رہی ہے۔ چند روز قبل ایک غیر ملکی نشریاتی ادارے نے رپورٹ جاری کی کہ رواں برس ڈاکٹر عبدالمالک کے دور حکومت میں جنوری سے نومبر تک گیارہ ماہ کے دوران بلوچستان کے مختلف علاقوں سے 174 تشدد زدہ لاشیں بر آمد ہوئیں مگر نہ قومی اسمبلی میں بھونچال آیا نہ سینیٹ میں کہرام بپا ہوا۔سالہا سال تک پنجاب ،سندھ اورخیبر پختونخوا نے خاموشی کی چادر اوڑھے رکھی مگر اب سندھ میں آوازیں اُٹھنے لگی ہیں۔

اس لئے نہیں کہ انہیں بلوچوں کے درد کی ٹیسیں اپنے جگر میں محسوس ہوئیں ،بلکہ اس لئے کہ جو آگ کل تک ان کے قرب و جوار میں دہک رہی تھی اب ان کے گھروں تک آن پہنچی ہے۔کراچی ،حیدر آباد اور سکھر میں احتجاجی مظاہروں کا سلسلہ اس لئے شروع ہوا ہے کہ اب جبری گمشدگیوں اور مسخ شدہ لاشوں کی بر آمدگی کا وبائی مرض سندھ میں داخل ہو گیا ہے۔رواں سال اب تک 70قوم پرست افراد ماورائے عدالت قتل ہوئے جس کی ماضی میں کوئی مثال نہیں ملتی۔جس دن بلوچستان میں پہلا شخص لاپتہ ہوا یا جس دن بلوچستان میں پہلی مسخ شدہ لاش بر آمد ہوئی، اگر اس دن پوری قوم کھڑی ہو جاتی تو آج صورتحال مختلف نہ ہوتی؟ جس دن اکبر بگٹی کا قتل ہوا، اگر اس دن جے یو آئی (ف) اسی طرح خم ٹھوک کر میدان میں آتی جس طرح ڈاکٹر خالد سومرو کی شہادت کے بعد احتجاج کیا گیا تو کیا یہ دن دیکھنا پڑتا؟

جب پہلا خود کش حملہ ہوا، اگر اس دن پوری قوم اسے نائن الیون سمجھ کر دہشتگردی کے خلاف کھڑی ہو جاتی تو کیا سانحہ پشاور کی نوبت آتی؟ جس دن سلیم شہزاد کی لاش ملی، اگر اس دن میڈیا سے منسلک افراد ظلم کے خلاف ڈٹ جانے کا فیصلہ کر لیتے تو کیا اس کے بعد دیگر صحافی نشانہ بنتے؟ جب کراچی میں مہاجروں کو دیوار سے لگایا جا رہا تھا، اگر اس وقت کوئی آواز اٹھاتا تو کیا ایم کیو ایم وجود میں آتی؟ جب بلوچستان میں استحصال کا سلسلہ جاری تھا ،اگر اس وقت دیگر صوبوں کے سیاستدان کوئٹہ جا کر بیٹھ جاتے اور بلوچوں کو حقوق ملنے تک نہ اٹھتے تو کیا علیحدگی کی تحریک سر اُٹھاتی؟ اگر پیچھے کی طرف چلتے جائیں اور اپنے گریبان میں جھانکتے جائیں تو سوالات کا سلسلہ دراز ہوتا جائے گا۔ اپنے دل پر ہاتھ رکھ کر بتائیں اگر کراچی سے پشاور تک پورا مغربی پاکستان بنگالیوں کے ساتھ کھڑا ہو جاتا تو نفرتیں سرحدوں کی دیوار بن کر کھڑی ہو سکتی تھیں؟

اگر قومی اسمبلی کا اجلاس بلا کر حکومت اکثریتی جماعت کے سپرد کر دی جاتی تو کیا بھارت کی کوئی بھی سازش کامیاب ہو پاتی؟جب ضیاء الحق نے بھٹو کا تختہ الٹ کر اقتدار پر قبضہ کیا ،تب ہم آئین کی بالادستی کے لئے کھڑے ہو جاتے تو کیا آج کسی پرویز مشرف پر غداری کا مقدمہ چلانے کی نوٹنکی کرنا پڑتی؟
جب بلوچستان میں خون کی ہولی کھیلی جاتی ہے تو سندھیوں کے کانوں پر جوں نہیں رینگتی،جب تھر میں بچے بھوکے مرتے ہیں تو پختونوں کو پروا نہیں ہوتی اور جب کراچی میں پختون قتل ہوتے ہیں تو پنجاب سویا رہتا ہے۔ وزیرستان میں کیا ہو رہا ہے؟ مہاجرین کس طرح دربدر کی ٹھوکریں کھا رہے ہیں ؟ گندم کے ساتھ گھن کس طرح پیسا جا رہا ہے؟ کسی کو کچھ معلوم نہیں اور نہ ہی کوئی جاننا چاہتا ہے۔ مگر ہمارے ہاں زندگی کی کوئی رمق ہے نہ انسانیت کی کوئی جھلک ،یہی وجہ ہے کہ سینہ کوبی کرتے تمام مظلوموں کی اپنی دیوار گریہ ہے،اپنی صف ماتم ہے،سب مظلوم ہیں مگر ایک دوسرے کو کندھا دینے کو بھی تیار نہیں۔

اور وہ جو ابھی ظلم سے محفوظ ہیں ،ان کا خیال ہے کہ ان کی باری کبھی نہیں آئے گی۔جب کوئٹہ میں ہزارہ قتل ہوتے ہیں تو لاہور کے باسی چین سے سوتے ہیں کہ یہ تو ہزارہ کمیونٹی کے لوگ ہیں گجر،چوہدری یا میاں تو نہیں ہیں۔جب فاٹا میں خون بہتا ہے تو کراچی کا مکین کہتا ہے یہ تو پٹھان ہیں ،میں ان کے لئے کیوں بولوں ،میمن تو محفوظ ہیں۔جب صحافیوں پر برا وقت آتا ہے تو وکلاء تماشا دیکھتے ہیں،عدلیہ کو نشانہ بنایا جاتا ہے تو مقننہ خاموش رہتی ہے ،انتظامیہ ظلم سہتی ہے تو عوام چپ رہتے ہیں اور عوام مارے مارے پھرتے ہیں تو حکام در خور اعتناء نہیں گردانتے۔

تفریق کا یہ عالم ہے کہ گزشتہ سے پیوستہ ہفتے خیبر پختونخوا میں ایک چیک پوسٹ پر گاڑی روکی اور روایتی چیکنگ کا سامنا ہوا تو اہلکار نے پوچھا ،پنجابی ہو یا پٹھان؟ میں نے کہا پاکستانی ہوں تو حیرت سے میرا منہ تکنے لگا۔ اس نے ایک بار پھر پوچھا ،مگر میں نے پھر وہی جواب دیا اور اصرار کیا کہ میں محض پاکستانی ہوں اور یہی میری شناخت ہے ۔نہ جانے کیوں ،یہ شناخت کسی کو قبول نہیں ۔جب میں اپنے معاشرے کے مختلف طبقات کو اپنے اپنے انداز میں آہ و فغاں کرتے دیکھتا ہوں تو جرمن پاسٹر مارٹن نیمولر یاد آتا ہے جس نے ہٹلر کے دور میں مرور وقت سے خاموش اپنے ہم وطنوں کی بزدلی کو آشکار کیا ہے۔

وہ طنزیہ انداز میں لکھتا ہے:’’پہلے وہ سوشلسٹوں کو پکڑنے آئے مگر میں خاموش رہا کیونکہ میں تو سوشلسٹ نہیں تھا۔پھر ٹریڈ یونینسٹوں کی باری آئی تو انہوں نے صف ماتم بچھائی مگر میں نے کوئی دلچسپی نہ دکھائی کیونکہ میرا اس طبقے سے بھی کوئی تعلق نہ تھا۔اس کے بعد عیسائیوں کا گھیرا تنگ کیا گیا اور کیتھولک عقیدے کے حامل افراد پر ظلم ہوا مگر میں حسب دستور خاموش رہا کیونکہ میں تو پروٹیسٹنٹ تھا۔مگر اگلی بار وہ مجھے پکڑنے آئے تو کوئی آواز نہ اٹھی کیونکہ اس وقت تک کوئی بولنے والا بچا ہی نہ تھا۔

ہم بھی شاید اس حتمی مرحلے کی جانب بڑھ رہے ہیں جب کوئی صدائے احتجاج باقی نہ رہے۔ سب کا اپنا اپنا ماتم ہے،سب اپنے اپنے سوگ میں ہیں، سب کی اپنی اپنی دیوار گریہ ہے، سب کی اپنی اپنی صف ماتم ہے، سُکھ تو سُکھ ، دُکھ بھی سانجھے نہیں رہے، مظلومیت کے پرچم بھی جدا جدا ہیں۔ میری طرف سے یہ نئے سال کا پہلا نوحہ ہے ،خدا کرے کہ آخری ثابت ہو اور دعا یہ ہے کہ پروردگار 2015ء میں ہمیں دکھ ہی نہیں سکھ کے لمحات میں بھی متحد و متفق ہونے کی توفیق لئے دے۔

محمد بلال غوری

"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.