Header Ads

Breaking News
recent

مسئلہ ملالہ یوسف زئی.....

’’عمر کے ساتھ ساتھ شاید ملالہ دین اسلام سے کنارہ کش ہوجائے‘‘۔ یہ کسی ملّا، مفتی، یا مولانا کا ارشادِ عالیہ نہیں، نہ ہی یہ کسی سازشی نظریہ کوئی شرارت ہے، نہ ہی فیس بک پر ابھرنے والی کسی ہاہاکاری کا نتیجہ ہے۔ الا ماشاء اللہ! یہ الفاظ نظریۂ الحاد کے عالمی سرخیل اور ترجمان رچرڈ ڈاکنزکی توقع ہے، امید ہے۔ رچرڈ ڈاکنز نے یہ توقع کفِ افسوس مَلتے ہوئے نہیں بلکہ فرطِ مسرت میں ظاہر کی ہے۔ ہوا کچھ یوں کہ رچرڈ ڈاکنز نے بذریعہ ٹوئٹس ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام کی نامزدگی پر مبارک باد کے پیغامات بھیجے، جس پر رچرڈ ڈاکنزکے شاگرد چراغ پا ہوگئے کہ ایک مذہبی لڑکی کی حوصلہ افزائی کیوں کی؟

 حجاب (سر پر چادر اوڑھنے والی) کرنے والی لڑکی کوکیوں مبارک باد دی؟ جس پر رچرڈ ڈاکنز نے ملالہ کا دفاع کرتے ہوئے ٹوئٹ کیا کہ ’’ہاں ملالہ مذہبی ہے مگر برائے مہربانی ملالہ کو کچھ وقت دیجیے، جوں جوں وہ تعلیم یافتہ ہوتی چلی جائے گی اسلام سے کنارہ کش ہوجائے گی‘‘۔ رچرڈ ڈاکنز نے اور بھی بہت کچھ لکھا اور کہا، مگر فی الحال ملالہ سے وابستہ اُس کی یہی توقعات غور طلب ہیں۔ عقیدۂ الحاد سے وابستہ دانشور ملالہ کو کس طرح دیکھ رہے ہیں، یہ رچرڈ ڈاکنزکی توقعات میں نمایاں ہے۔ مسئلۂ ملالہ کے ایک اور زاویے کی طرف چلتے ہیں۔
دنیا بھر کی توجہ اور پذیرائی کے باوجود ملالہ تنہائی محسوس کررہی ہے۔ ملالہ اور اُس کا خاندان برطانیہ میں الگ تھلگ اجنبی زندگی سے گزر رہے ہیں۔ اب تک ملالہ ساتھی طلبہ کو دوست بنانے اور اُن میں گھلنے ملنے میں ناکام ہے۔ باوجود اس کے کہ ملالہ سترہ سال کی ہوچکی ہے، فیس بک اور موبائل فون استعمال نہیں کرتی۔ ہاں ہفتے میں ایک بار بچپن کی سہیلی سے اسکائپ پر بات کی سہولت میسر ہے۔ ملالہ کی موجودہ زندگی ’’بڑوں‘‘ کی نگاہوں میں ہے۔ یہ سب باتیں کوئی پروپیگنڈہ نہیں۔ یہ توامریکہ کے نامی گرامی اخبار نیویارک ٹائمزکی نیوز سروسز کا مضمون ہے۔Making friends in school note easy even for a Nobel Peace Prize winner, New York Tims News Service)
اس مضمون سے چند سوالات ازخود کھڑے ہوگئے۔ آخر دنیا کے سامنے فرفر شستہ انگریزی (خواہ لکھ کر دی ہوئی ہی سہی) میں فروغ تعلیم کے گراں قدر منصوبوں سے آگاہ کرنے والی ملالہ کیوں تنہائی کا شکار ہے؟ کیوں فیس بک یا موبائل فون کا استعمال نہیں کرتی؟ مضمون بتاتا ہے کہ ملالہ تعلیم میں خلل سے بچنے کے لیے ایسا کرتی ہے، مگر کیا پورے مغرب میں سترہ سالہ کوئی لڑکی اس سبب فیس بک یا موبائل فون سے پرہیز کرتی ہے؟ نہیں، عقل نہیں مانتی۔ ملالہ شٹل کاک برقع میں دقیانوسی گھرانے کی پسماندہ ذہنیت رکھنے والی لڑکی تھوڑا ہی ہے۔ ملالہ تو مُلّا و مسجد سے دور آزاد دنیا کی چہیتی ہے۔ مگر پھر بھی یہ مضمون کم و بیش ملالہ کی ایسی تصویر پیش کرتا ہے جسے قیمتی فریم میں شہرت کے رنگوں سے قید کردیا گیا ہو۔ ایک ایسی نوجوان لڑکی جس کے نشوونما پاتے شعور کو خاص سانچے میں دھیرے دھیرے ڈھالا جارہا ہو۔

مسئلۂ ملالہ کا ایک اور سنگین پہلو برطانوی صحافی کرسٹینا لیمب کے’’تعاون‘‘ سے لکھی گئی آپ بیتی “I am Malala” ہے۔ دنیا بھر کے بچوں میں تعلیم کے فروغ کے لیے آواز اٹھانے والی ملالہ کی آپ بیتی لکھنے والی کرسٹینا لیمب خود اسکول کی نالائق طالبہ تھی۔ کرسٹینا لیمب کی صحافتی زندگی کا پہلا بڑا کام 1987ء میں بے نظیر بھٹو کا انٹرویو تھا۔ اس انٹرویو کے بعد کرسٹینا لیمب بے نظیر بھٹو کی شادی میں بھی شریک ہوئی۔ کرسٹینا لیمب بتدریج پاکستان میں غیر ملکی صحافی نمائندہ کی حیثیت سے سرگرم ہوئی۔

 کشمیر اور افغانستان کے مجاہدین کی سرگرمیوں پر نظر رکھنے کے حوالے سے مشکوک حرکات میں ملوث نکلی۔ پاکستان کے خلاف پروپیگنڈہ رپورٹنگ میں اپنا بھرپور حصہ ڈالا۔ یہاں تک کہ آئی ایس آئی نے کرسٹینا لیمب کو پاکستان سے بے دخل کردیا، جس کے بعد کرسٹینا لیمب کو ملالہ کی کتاب کے راستے پاکستان میں گھسنے کا موقع مل گیا۔ کرسٹینا لیمب کے علاقائی دوستوں میں بے نظیرکے علاوہ حامد کرزئی اہم نام ہے۔ یہ توحال ہے اس صحافی کا جس نے ملالہ کی کتاب میں ’’خاطر خواہ‘‘ حصہ ڈالا ہے۔ 

کتاب کے مواد میں موجود مسائل کی سنگینی اپنی جگہ ہے۔ اسلام پر مغرب کے پھٹے پرانے بوسیدہ پروپیگنڈے کو پھرکرسٹینا لیمب نے سترہ سالہ لڑکی کے ذریعے حیاتِ نو بخشنے کی نہایت بھونڈی کوشش کی ہے۔ اس کتاب پر انگریزی ادب کے ایک پروفیسر سے یونہی تبادلہ خیال ہوا تو محترم نے تعجب سے کہا کہ ’’مغرب مسلمانوں کوکس قدر بے وقوف سمجھتا ہے؟‘‘ تضیع اوقات سے بچنے اور دلائل کی زحمت سے بچانے کے لیے محض کتاب کے متنازع موضوعات کا ذکر ہی کافی ہوگا۔ ملالہ یوسف زئی کی بزعم خود نوشت میں ملعون سلمان رشدی کے لیے اظہارِ ہمدردی کیا گیا ہے۔ 

سلمان رشدی کے لیے اظہارِ رائے کی آزادی کا فلسفہ ابا حضور ضیاء الدین یوسف زئی کے منہ میں ڈال کر زہرافشانی کی گئی ہے۔ کتاب کا ایک موضوع ’’ضیاء دور‘‘ پر لعن طعن ہے، وجہ اس دور میں اسلامی احکامات کی قانونی صورت گری ہے۔ ضیاء الحق کی شہادت کے تقریباً دس سال بعد پیدا ہونے والی ملالہ نے اسلامی جمہوریہ پاکستان کے اسلامی قوانین کو ضیاء دور کا سیاہ کارنامہ قرار دیا ہے، جو ظاہر ہے کرسٹینا لیمب کی شرارت ہے۔ ظلم بالائے ظلم یہ کہ قادیانیوں کے لیے اقلیت کا اسٹیٹس بھی ملالہ کو پسند نہیں۔ ملالہ کو برقع چائے کی کیتلی معلوم ہوتا ہے۔ غرض پاکستان اور اسلام کے خلاف جتنا بھی مغربی پروپیگنڈہ ہوسکتا تھا، وہ ابا حضور ضیاء الدین یوسف زئی اور معصوم ملالہ یوسف زئی کے تعاون سے کرسٹینا لیمب نے اس کتاب میں ٹھونس دیا ہے۔ ملالہ کی آپ بیتی میں ابا حضور اورکرسٹینا لیمب جگہ جگہ چھلانگیں مارتے نظر آتے ہیں۔ اردو میں اس کتاب کا نام ’’میں ہوں جھوٹ کا پلندہ‘‘ انتہائی مناسب ہوسکتا ہے۔ یہ کتاب شاید لکھی ہی مغربی بازاروں کے لیے گئی ہے جہاں صرف جھوٹ بکتا ہے، خوب بکتا ہے، اور ہزاروں کاپیاں خود ہی خرید کر اپنے ہی اخباروں میں اسے best selling کی مہر لگادی جاتی ہے جیسے گویا زیادہ بک جانا اس بات کا ثبوت ہو کہ کتاب بہت معتبر اور معیاری ہے۔ ہمارے یہاں بھی گندم فام انگریزوں کا طبقہ ایسی BEST SELLING BOOKS سے شدید متاثر ہے۔ کتاب “I AM MALALA” پاکستان میں اپنا ہدف حاصل کرنے میں یکسر ناکام رہی، اسکولوں نے نہ صرف اس کتاب پر پابندی لگادی بلکہ طلبہ نے I AM NOT MALALAڈے بھی مکمل شعور کے ساتھ منایا۔
مغرب میں ملالہ کا ماڈل بھی فی الحال ایک مسئلہ ہے۔

 لیڈی گاگا سے لے کر بیانسے تک، اور اس سے آگے نہ جانے کون کون سی واہیات ہستیوں نے ملالہ کی تعریف و توصیف میں پلوں کے پُل باندھ دیے۔ مغربی دنیا میں ملالہ عورت اور تعلیم کے حقوق کے لیے مثالی نمونہ بن گئی، مگر لاکھوں پرستار لڑکیوں اور ہالی وڈ فنکاراؤں میں سے کسی ایک نے بھی ملالہ یوسف زئی کا حلیہ یا عقیدہ نہیں اپنایا، کیونکہ یہ سب اُس ملالہ کے دیوانے ہیں جس کا انتظار رچرڈ ڈاکنزکو ہے۔

مغرب کے ملالہ پراجیکٹ پر سرمایہ کاری اُس وقت انتہا پر پہنچ گئی جب ملالہ یوسف زئی کو نوبیل انعام سے نوازا گیا۔ مسئلۂ ملالہ ناقابلِ حل صورت اختیار کرگیا۔

معصوم ملالہ ابا حضور کی اعلیٰ تعلیمات اورکرسٹینا لیمب کی مشکوک تربیت کی وجہ سے ہر سمت سے مسائل میں گھر چکی ہے۔ ملحدین کے لیے ملالہ کا مذہبی ہونا مسئلہ ہے۔ مولوی حضرات کے لیے ملالہ کی دین سے ناواقفیت مسئلہ ہے۔ اہلِ مغرب کے لیے مثالی ملالہ کا مشرقی حلیہ اور مذہبی وابستگی مسئلہ ہے۔ شہرت کی بلندیوں پر اجنبی ماحول ملالہ کے اپنے لیے مسئلہ ہے۔ مسائل میں گھری یہ ملالہ کون سے مسائل حل کرسکتی ہے؟ کس کے مسائل حل کرسکتی ہے؟ مسلمان لڑکی کے ہاتھوں مغرب جس قسم کی تعلیم کا فروغ چاہتا ہے، وہ مغرب کی اسلام سازی مہم کا اہم حصہ ہے۔

 تاہم اسلامی تہذیب کے خلاف سرگرم سرمایہ کاروں کے لیے ملالہ یوسف زئی منصوبہ سراسرگھاٹے کا سودا ہے۔ افسوسناک امر یہ ہے کہ ہم ملالہ کو کسی سے بھی نہ بچاسکے، نہ اُس صورت حال سے جس میں وہ پاکستان میں رہی، اور نہ اُس حال سے جس میں آج وہ پھنس چکی ہے۔ پاکستان اور اسلام کے لیے ملالہ یوسف زئی اب صرف ایک بھولی ہے جس کے شام تک لوٹ آنے کی دعا ہی کی جاسکتی ہے۔

عمر ابراہیم

No comments:

Powered by Blogger.