Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان اور روس کے نئے دور کا آغاز....

امریکہ اور سوویت یونین کے مابین سرد جنگ کے دور میں پاکستان کا جھکاؤ امریکہ کی طرف رہا۔ پاکستان اس خطے میں بیٹھ کر ہمیشہ امریکی مفادات کے تحفظ کو ترجیح دیتا رہا ہے۔ چاہے سیٹو، سینٹو کے معاہدے ہوں یا افغان سرزمین پر سوویت یونین کے خلاف جنگ،دفاعی معاہدے ہوں یا توانائی کے مسائل۔ پاکستان عالمی صف بندی میں ہمیشہ سے امریکہ کا اتحادی رہا ہے اور اپنی معیشت اور دفاع کے لئے امریکہ اور اس کے دیگر اتحادیوں پر انحصار کرتا رہا ہے اور سب سے بڑھ کریہ کہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں وہ امریکہ اور مغرب کا سب سے اہم اتحادی بھی ہے۔

 قیام پاکستان سے لے کر اب تک بہت سے مواقع آئے مگر پاکستان نے ہمیشہ امریکہ کی جانب ہی نگاہیں مرکوز کیں۔ مگر اب 45 سال بعد خطے کی خارجہ پالیسی بدلتی ہوئی نظر آ رہی ہے۔ پاکستان ایک بار پھر روس کی طرف بڑھ رہا ہے۔ روس کے ساتھ بہتر تعلقات کے فروغ کے لئے تاریخی معاہدے کئے جارہے ہیں۔ حال ہی میں ہونے والے معاہدے کے تحت دونوں ممالک نے دہشت گردی کے خاتمے اور ہتھیاروں کے پھیلاؤ کو روکنے، سیاسی و فوجی مسائل پر معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی سلامتی کو بہتر بنانے کے علاوہ کئی فوجی شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا۔

 دونوں ممالک کے سربراہان کی جانب سے اس معاہدے کو ایک اہم سنگ میل قرار دیا جا رہا ہے اور کہا جا رہا ہے کہ دونوں ملک باہمی تعلقات ٹھوس شکل میں لانے اور دونوں ملکوں کی افواج کے درمیان تعلقات مزید مضبوط بنانے کے لئے کام کریں گے۔ ایک اور قابل ذکر بات یہ ہے کہ معاہدے پر دستخط کے لئے روس کے وزیر دفاع سوویت یونین کے خاتمے کے بعد پہلی بار پاکستان آئے تھے۔
اگرچہ فوجی تعاون کے اس معاہدے میں پاکستان کو روسی ساختہ فوجی ہیلی کاپٹروں ایم آئی 35 کی فراہمی کا سودا شامل نہیں جس کا پاکستان میں روس کے سفیر الیکزے دیدوف نے حال ہی میں عندیہ دیا تھا تاہم تجزیہ کار دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات کی بہتری کے ضمن میں اس معاہدے کو خاصا اہم تصور کر رہے ہیں۔ بلکہ روس کے صدر ولادی میر پیوٹن نے تو یہاں تک کہا ہے کہ پاکستان کے ساتھ فوجی و تکنیکی تعاون سے متعلق نئے سمجھوتے بھارت سمیت خطے کے تمام ممالک کے مفاد میں ہیں۔ گزشتہ دنوں بھارت کے مشہور اخبار کو دئیے گئے انٹرویو میں پیوٹن کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ فوجی و تکنیکی تعاون سے متعلق نئے سمجھوتوں کے باوجود روس اور بھارت کے تعلقات میں کوئی تبدیلی نہیں آئے گی، روس اور پاکستان کے درمیان حالیہ مذاکرات میں دہشت گردی اور منشیات کی اسمگلنگ کے خلاف کارکردگی بڑھائے جانے میں تعاون پر بات کی گئی جو بھارت سمیت برصغیر کے تمام ممالک کے مفاد میں ہے۔

مگر امریکہ اور بھارت کے تناظر میں ماہرین پاکستان اور روس کے درمیان ہونے والے حالیہ دفاعی معاہدوں کو خطے کی نئی گریٹ گیم کا آغاز بھی سمجھ رہے ہیں ،کیونکہ عام فہم رائے ہے کہ پاکستان پچھلے پینتیس برسوں سے روس کے ساتھ تعلقات بہتر کرنے کی کوششیں کر رہا تھا لیکن اس میں کامیابی نہیں ہو پا رہی تھی۔ اور اس کی ایک وجہ یہ تھی کہ روسی حکومت اور اسٹیبلشمنٹ میں بھارتی اثرات بہت نمایاں تھے۔ مگر حال ہی میں بھارت نے امریکہ کے ساتھ سول نیوکلیئر معاہدہ کیا ہے۔ اور اس نے اپنی فوج کے اسلحے کو مغربی ہتھیاروں سے بدلنا شروع کر دیا ہے۔

 بھارت کو ماضی کی طرح اب روس کی ضرورت نہیں رہی۔ اس لئے بھارت نے یوکرائن اور کریمیا کے مسئلے پر بھی روس کا ساتھ نہیں دیا۔ یہ وہ بدلتے ہوئے حالات ہیں جو روس اور پاکستان کو قریب لانے میں مدد گار ہو ئے ہیں۔ مگر یہاں ایک اہم سوال اٹھتا ہے کہ روس کے ساتھ فوجی تعاون کا یہ معاہدہ پاکستان کے امریکہ کے ساتھ تعلقات پر کس طرح سے اثر انداز ہو سکتا ہے؟ کیا روس سے بڑھتی ہوئی دوستی کی پینگیں پاکستان اور امریکہ کو دور کر دیں گی؟
لیکن شاید ایسا نہیں ہوگا کیونکہ پاکستان اور روس کے درمیان انسداد دہشت گردی اور اقتصادی میدان میں تعاون سے امریکہ کو تشویش نہیں ہوگی اور اس کی وجہ روس اور بھارت کی پرانی دوستی ہے۔

 بہت مضبوط رائے یہ ہے کہ ایشیا میں روس کے لئے بنیادی حیثیت بھارت کی ہے اور بھارت سے اس کی تعلقات کی بنیادی حیثیت قائم رہے گی تو امریکہ یہ جانتا ہے کہ پاکستان اور روس کے تعلقات ایک حد سے آگے نہیں جا سکتے ہیں۔ مگر میرے خیال میں امریکہ کے لئے پاکستان روس سے تعلقات صرف اْسی صورت میں پریشانی کا باعث بن سکتے ہیں جب پاکستان کے روس کے ساتھ دفاعی تعلقات میں اتنی ہی وسعت آنی شروع ہو جائے جتنی کہ امریکہ کے ساتھ ہے، لیکن اس کے فی الحال ہمیں کوئی امکانات نظر نہیں آتے۔ لیکن یہ بھی طے ہے کہ امریکہ کے ساتھ پہلے سے زیادہ تعلقات استوار کرنے پر مبنی بھارت کی قوم پرست حکومت کا فیصلہ روس کے ساتھ خصوصا فوجی اور دفاعی شعبے میں پاکستان کے تعلقات میں توسیع کا سبب بنا ہے۔
اور کریملن کے حکام کو بھی چونکہ ایشیا بحرالکاہل کے علاقے میں امریکہ کے سیاسی اور فوجی اثر و رسوخ پر تشویش لاحق تھی اس لئے پاکستان کے تعلقات میں توسیع ان کے لئے بھی خوش آئند ہے۔ تو اس طریقے سے پورے خطے کی صورتحال بدل رہی ہے۔ مگر پاکستانی سفارتی حلقوں کا کہنا ہے کہ پاکستان افغانستان سے امریکہ اور اس کے اتحادی ملکوں کی فوجوں کی واپسی کے بعد پیدا ہونے والی ممکنہ صورتحال کے پیش نظر اپنی خارجہ پالیسی کو پہلے سے زیادہ لچکدار بنا رہا ہے اور افغانستان کی نئی حکومت سے بہتر تعلقات کا عزم بھی اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔ 

مگر پاکستان اور روس کے درمیان کئی دہائیوں بعد فوجی تعاون کے معاہدے کو دونوں ملکوں کے تعلقات میں ایک نئے آغاز کے طور پر دیکھا جا رہا ہے۔ کیونکہ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں روس کے ساتھ اتنا وسیع البنیاد اور وسیع المیعاد معاہدہ کبھی نہیں ہوا۔ پاکستان کی کوشش ہے کہ اپنی خارجہ پالیسی میں ترجیحات کو وسعت دی جائے۔ اسی لئے پاکستان اپنے توانائی کے تند بحران سے نمٹنے کی خاطر روس اور چین کی مالی اور تکنیکی امداد پر انحصار کر رہا ہے۔پاکستان کی سرکاری کمپنی انٹر اسٹیٹ گیس سسٹمز کارپوریشن نے ’’روس تہنولو گیا‘‘ کے ساتھ مرتکز گیس کو پھر سے بھرنے کے لئے تیرتا ہوا ٹرمینل بنانے اور اس کے لئے گیس پائپ لائن بچھانے کے بارے میں طے کیا ہے۔ چین کی قومی تیل و گیس کارپوریشن بندرگاہ گوادر سے نوابشاہ تک گیس پائپ لائن بچھانے میں حصہ لے گی۔ یہ سب بڑھتی ہوئی تبدیلیاں ہیں جو خطے میں نظر آرہی ہیں۔

پاکستان اور روس کے تعلقات اور خطے کی بدلتی ہوئی سیاست کو اسٹریٹجک لحاظ سے دیکھا جائے تو پاک روس بڑھتے ہوئے تعلقات خطے کی بدلتی ہوئی سیاست کی طرف اشارہ کرتے ہیں۔ عالمی طاقتیں نئی صف بندی کر رہی ہیں اور نئے زمینی حقائق نئے رابطوں کو پروان چڑھا رہے ہیں۔ پاکستان خطے کی بدلتی ہوئی صورتحا ل کو سمجھتے ہوئے روس کی جانب بڑھ چکا ہے۔ لیکن پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی مزید بہتر بنانے کی اشد ضرورت ہے۔ مگر ہم تو ابھی تک اپنا وزیر خارجہ ہی مقرر نہیں کر پائے۔

حذیفہ رحمان
"بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.