Header Ads

Breaking News
recent

روس کا محاصرہ....


دسمبر کو روسی صدر ولادیمیرپیوٹن نے وفاق روس کی پارلیمان کے مشترکہ ایوان سے خطاب کرتے ہوئے اپنی قوم کو وطن کو لاحق اس خطرے سے آگاہ کیا کہ دشمن روس کے گرد آہنی دیوار کھڑی کر رہا ہے کیونکہ وہ روس میں بھی یوگو سلاویہ جیسے حالات پیدا کرکے اس کے ٹکڑے ٹکڑے کر دینا چاہتا ہے۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ ملک کا سرمایہ باہر منتقل کیا جا رہا ہے اور ایک سال کے اندر اندر سو ارب ڈالر کی رقم بیرون ملک پہنچائی جا سکی ہے لہٰذا انہوں نے ان سرمایہ داروں کو یقین دلایا کہ اگر وہ مطلوبہ رقم روس کے خزناے میں جمع کر دیں تو ان پر انکم ٹیکس معاف کر دیا جائے گا اور متعلقہ افراد سے کوئی باز پرس نہیں کی جائے گی۔ اس پر ہمیں کوئی حیرت نہیں ہوئی کیونکہ یہ کھیل تو امریکہ عالمی سطح پر عرصے سے کھیل رہا ہے۔

اب تک اس کا ہدف افریشیائی لاطینی امریکی ریاستیں رہی ہیں لیکن اب اس نے روس جیسی عظیم تر طاقت پر ہاتھ ڈالا ہے تا کہ بین الاقوامی منڈی میں روبل کی شرح تبادلہ میں گراوٹ پیدا کر دی جائے جس سے افراطِ زر میں ہوشربا اضافہ ہونے پر ملک کے محنت کش اور متوسط طبقات میں پیوٹن انتظامیہ کے خلاف بے چینی پھیلے اور عوام حکومت کا تختہ الٹ دیں جیسا کہ میں نے اوپر کی سطور میں ذکر کیا ہے کہ کساد بازاری کے شکار ترقی پذیر ممالک کہیں کھرب ڈالر سے زائد رقم کے مقروض ہیں جسے وہ تاقیامت ادا نہیں کر سکتے لیکن اس کے باوجود ان حکومتوں میں اتنادم خم نہیں ہے کہ وہ اتنی خطیر رقم مع سود کی ادائیگی سے انکار کر دیں اور کریں بھی تو امریکی طیارہ بردار جہاز اور ڈرون سے کیسے لڑ سکتے ہیں؟ ارجنٹینا نے اس لین دین کے کاروبار کو گدھوں کی خصلت Vulture Culture سے بجا طور پر تعبیر کیا ہے اور اس کے خاتمے کا مطالبہ کیا ہے ۔ا دھر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کا بال بال ایسے بیرونی قرضوں میں جکڑا ہوا ہے کہ جس کی شرح سود کی ادائیگی کے لیے انہیں اس ’’عطار کے لونڈے‘‘ کے پاس جانا پڑتا ہے۔

دراصل سوویت یونین کے خاتمے کے بعد سے قرض اور سود کا کاروبار سابق کمیونسٹ ریاستوں کو بھی اپنی لپیٹ میں لے چکا ہے۔ اب اگر وفاق روس بھی اس خطرے سے دو چار ہے تو اسے بین الاقوامی مالیاتی اداروں IMF اور World Bank کی اجارہ داری توڑنی پڑے گی۔ اس کے لیے عوامی جمہوریہ چین اور BRICS نے ایشیائی ترقیاتی فنڈ نامی مالیاتی ادارہ قائم کیا ہے جس میں چین نے پچاسی ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی ہے۔ اس تنظیم کی رکنیت کی فیس ایک ارب ڈالر ہے جو ہر ریاست ادا کر سکتی ہے۔ دریں اثنا یہ بینک ترقی پذیر ممالک کو بنیادی ڈھانچے کی تعمیر کے لیے آسان قسطوں پر قرض دے گا جو ایسی شرائط Conditions سے پاک ہو گا جو کسی ریاست کے اقتدار اعلیٰ کو محدود کرتی ہوں یا ان پر غیر متعلقہ شرائط یا پابندیاں عائد کرتی ہوں۔ اگر سعودی عرب، کویت، متحدہ عرب امارات، قطر اور ایران اس ادارے کو رقوم فراہم کریں تو بہت حد تک آئی ایم ایف کی اجارہ داری توڑی جا سکتی ہے۔

یہ بڑی خوش آئند بات ہے کہ روس نے امریکہ اور یورپی یونین کی عائد کردہ پابندیوں کو مسترد کر دیا اور یوکرین پر اپنا مؤقف نہیں بدلا۔ پیوٹن نے روس کی دیوالیہ معیشت میں نئی جان ڈال دی اور Gazprom اور Roseneft کے ذریعے، تیل اور گیس کے کاروبار کو پھیلا دیا یہاں تک کہ اگر یورپی ممالک روس کے بینکوں اور اسلحہ کی خریداری پر پابندی عائد کرتے ہیں تو روس کے پاس اس کی بڑی مؤثر کاٹ ہے وہ یورپ کو گیس کی فراہمی روک دے تو سارا یورپ اندھیروں میں ڈوب جائے گا اور کوئی چولہا نہیں جل سکے گا اور جرمنی، فرانس، اٹلی ، ناروے، سویڈن، ڈنمارک ، ہالینڈ بلجیم کے باشندے سرودی سے ٹھٹھر جائیں گے۔ یہ اس سے بڑی تباہی ہو گی جو یہاں ایٹم بم گرانے سے ہو سکتی ہے۔ اگر روس چین اور افریشیائی لاطینی امریکی ممالک ڈالر کے علاوہ چینی کرنسی یوان Yuan کو متبادل کرنسی قرار دے کر اس میں لین دین کرنے لگیں تو ڈالر کی بنیا شاہی بحر عرب، بحر الکاہل میں ڈوب جائے گی۔ چین اور روس نے تو آپس میں پہلے ہی طے کر لیا ہے کہ وہ اپنی اپنی کرنسیوں میں ہی لین دین کریں گے۔ اس وقت چین نے ایشیائی ترقیاتی فنڈ ()قائم کیا تھا۔

اب عالمی خرچ تجارت مغرب کی بجائے مشرق کے حق میں ہے۔ امریکہ تیسری دنیا کے ممالک پر فوج کشی کر کے کھربوں ڈالر میزان توازن کر رہا ہے جس کی وجہ سے وہ چین کا تین کھرب ڈالر کا مقروض ہو گیا ہے جسے وہ کبھی ادا نہیں کر سکتا نہ ہی اس کا ادا کرنے کا ارادہ ہے جبکہ چین کے پاس اپنا قرض وصول کرنے کی طاقت نہیں ہے کیونکہ امریکہ جنگ کر سکتا ہے۔ لیکن روس اور چین مل کر امریکی طاقت کا مقابلہ کر سکتے ہیں مگر اس کی نوبت نہیں آنی چاہیے اس لیے اب جنگ زرگری کے سوا فریقین کے سامنے کوئی چارہ نہیں ہے۔ جس طرح چین عالمی تجارت پر چھاتا جا رہا ہے اس سے تو یہی اندازہ ہوتا ہے کہ وہ جلد ہی مالی عظیم تر طاقت Super Financial Power بن جائے گا۔
لیکن جب تک ترقی پذیر ممالک اپنا وزن ایک پلڑے میں نہیں ڈالیں گے انہیں سود خور امریکہ کے شکنجے سے نکلنا مشکل ہو گا۔

امریکی مبصر Francis Fukuyamar نے بڑی رعونت سے کہا تھا کہ سوویت یونین سے ساتھ نظریۂ اشتراکیت بھی فوت ہو گیا اور اب ساری دنیا میں سرمایہ دارانہ نظام رائج ہو جائے گا اور تاریخ کا ارتقا رک جائے گا۔ لیکن موجود نسلی کی زندگی میں ہی دنیا نے دیکھ لیا کہ ہر فرعون را موسیٰ کے مصداق اب سرمایہ دارانہ نظام دم توڑ رہا ہے اور اس کی جگہ استحصال سے پاک غیر سودی نظام قائم ہوا چاہتا ہے جو انسانی اور فلاحی ہو گا۔

اور یہ تحریک امریکہ سے اٹھ رہی ہے یعنی وال سٹریٹ پر قبضہ کرو Occupy Wall Street جیسے انکشاف کیا ہے کہ امریکہ کی ایک فیصد آبادی ملک کی 99 فیصد دولت پر قابض ہے۔ یہ تقسیم دولت جو سودی نظام کی لعنت ہے غیر فطری اور غیر منصفانہ ہے۔ لہٰذا یہ ختم ہو کر رہے گی۔ اس کا انحصار چین، روس اور افریشیائی ریاستوں پر ہے کہ وہ سود کی لعنت کتنی جلد ختم کرتے ہیں۔

پروفیسر شمیم اختر

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات

No comments:

Powered by Blogger.