Header Ads

Breaking News
recent

اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان کا 68 واں یوم تاسیس.....

دسمبر 1947ء کو تنظیم کی بنیاد محض 25طلبہ نے رکھی ،67برس بعد آج،ملکی تعلیمی اداروں میںمتعدد طلبہ اس کے ساتھ وابستہ ہیں ***** اسلامی جمعیت طلبہ پاکستان یقینا اس ملک کی سب سے بڑی طلبہ تنظیم ہے ۔جس نے 1947ء میں اپنے قیام سے لے کر اب تک مسلسل جدوجہد کے ذریعے نوجوان نسل کواسلام اور نظریہ پاکستان کے ساتھ وابستہ کیا ہے اور انہیں بے مقصدیت یا مغربی تہذیب کے طوفان سے بچا کر ملک و ملت کی حقیقی خدمت کرنے اور پاکستان کو ایک اسلامی فلاحی ریاست بنانے کے گہرے شعور سے آراستہ کیاہے اور جس طرح سے ان میں خدا خوفی ، فکر آخرت ، عقیدہ کی پختگی ، امانت و دیانت کی صفات پیدا کی ہیں اسی کا نتیجہ ہے ۔ 

اسی طرح اسلامی جمعیت طلبہ ہی ہے کہ جس نے تعلیمی اداروں میں میرٹ پر داخلوں کے لیے مہم چلائی اور بڑی جدوجہد کے بعد اس مطالبہ کو تسلیم کر وایا ۔ تعلیمی اداروں میں ہفتہ کتب اور کتاب میلوں کی روایت قائم کی اور ہزاروں طلبہ کو قلم و کتاب کے ساتھ وابستہ کر کے کتاب بینی کا شوق پیدا کیا ۔ میں جب پنجاب یونیورسٹی سٹوڈنٹس یونین کا صدر تھا تو ہم نے ہفتہ کتب کے ذریعے اس زمانے میں تیرہ لاکھ روپے جمع کر کے جامعہ پنجاب کی شعبہ جاتی لائبریریوں کو نصابی کتابوں سے بھر دیا تھا ۔ 1974ء کے یہ تیرہ لاکھ آج کے قریباً ڈیڑھ کروڑ روپے بنتے ہیں ۔ ان میں ایم بی اے ، اکنامکس ، میتھ، زوالوجی ، باٹنی فزکس کے شعبے سر فہرست تھے ۔

 یہ جمعیت ہی ہے کہ جو غریب طلبہ کے لیے فری ٹیوشن سنٹر قائم کرتی ہے ۔ ہزاروں غریب طلبہ کو تعلیمی وظائف دیتی ہے ۔ معروف اساتذہ کے نوٹس شائع کروا کے طلبہ میں مفت تقسیم کرتی ہے۔ یہ اسلامی جمعیت طلبہ ہی ہے کہ جس نے 37 سال جامعہ پنجاب کے طلبہ کی قیادت و خدمت کی لیکن ایک مرتبہ بھی جامعہ پنجاب کو بند نہیں ہونے دیا جبکہ سندھ و دیگر یونیورسٹیاں کئی کئی ماہ تک بند رہی ہیں ۔ اسلامی جمعیت طلبہ کے نوجوان ،سیلاب، زلزلہ و دیگر آفات سماوی کے موقع پر دن رات ایک کر کے غریب بستیوں میں رفاہی کام کرتے رہے ہیں ۔

 یہ جمعیت ہی ہے کہ جس نے ہر تعلیمی ادارے میں بلڈ ڈونر سوسائٹیاں قائم کر رکھی ہیں اور سینکڑوں مریضوں کو ہر ماہ خون کے عطیات دیئے جاتے ہیں۔ یہ جمعیت ہی ہے کہ جس نے ہر آمر یت کے مقابلے میں طلبہ کو منظم کیا اور ایوبی آمریت سے لے کر پرویزی آمریت تک مسلسل بر سر پیکار رہی ۔ یہ جمعیت ہی ہے کہ جس نے علم ودستی کی تحریک چلائی ۔ تحریک نظام مصطفی ؐ، تحریک ختم نبوت ، طلبہ یونینز کی بحالی کی تحریک ۔ تحریک بحالی عدلیہ اورپھر فوجی آمریت کے خاتمہ کی تحریک میں ہراول دستہ بنی ۔

 یہ اسلامی جمعیت طلبہ ہی ہے کہ جس کے نوجوانوں نے دفاع وطن کے لیے ایک دو نہیں ہزاروں جانوں کانذرانہ پیش کیا ہے ۔ تعلیمی اداروں میں اسلامی جمعیت طلبہ کی مقبولیت کا راز ان کا دعوتی کام اور ان کے رہنمائوں کی ذاتی قابلیت ،شاندار تعلیمی ریکارڈ ، طلبہ کی بے لوث خدمت اور ان کی بے خوف قیادت نیز دلائل سے بھر پور ولولہ انگیز تقاریر میں مضمر ہے ۔

 ان میں سے اکثر طالبعلم رہنما یونیورسٹی ٹاپ کرتے رہے اور انہوں نے میرٹ پر سکالر شپ حاصل کئے۔ اسی وجہ سے حکومتوں کی مخالفتوں کے باوجود اسلامی جمعیت طلبہ سٹوڈنٹس یونین کے انتخابات میں مسلسل کامیاب رہی ۔ خود جامعہ پنجاب میں عثمان غنی ، بارک اللہ خان مرحوم ، نصر اللہ شیخ مرحوم ، سید محمد عارف مرحوم، حافظ محمد ادریس ، حفیظ خان ، جاوید ہاشمی ، راقم ( فرید احمد پراچہ)، عبدالشکور ، مسعود کھوکھر ، لیاقت بلوچ ، امیر العظیم ، سعید سلیمی ، جہانگیر خان ، احسان اللہ وقاص ، وغیرہ بھاری اکثریت سے سٹوڈنٹس یونین کے صدر و سیکرٹری چنے گئے ۔

اسلامی جمعیت طلبہ کے کم و بیش65 نوجوان کراچی ، لاہور، بہاولپور و دیگر مقامات پر اس بے دردی کے ساتھ شہید کیے گئے کہ ان کے زندہ جسموں پر ڈرل مشینوں سے سوراخ کیے گئے تھے ۔ ان کے ناخن پلاسوں سے اکھاڑے گئے تھے ۔ ان کے جسموں پر گرم استریاں پھیری گئی تھیں ۔ گرم تارکول ڈالا گیا تھا اور کود کود کر ان کی ہڈیاں توڑ دی گئی تھیں ۔ ان میں سے ایک ایک داستان ۔۔۔۔ اتنی المناک ، دردناک اور اتنی کربناک ہے کہ زبانیں بیان کرنے اور کان سننے کی تاب نہیں رکھتے ۔ امسال اسلامی جمعیت طلبہ اپنا68واں یوم تاسیس منا رہی ہے ۔ ہم یہ سمجھتے ہیں کہ اسلامی جمعیت طلبہ نے اپنے قیام سے لے کر اب تک تعلیمی اداروں میں طلبہ و تعلیم کے لئے جو خدمات سرانجام دی ہیں انہیں جھٹلانا کسی کے لئے بھی ممکن نہیں۔

فرید احمد پراچہ

No comments:

Powered by Blogger.