Header Ads

Breaking News
recent

جماعت اسلامی اور اس کی کامیابیاں؟.....

کیا جماعت اسلامی ایک ناکام جماعت ہے جو اپنی تنظیمی زندگی کے 74 سال مکمل کرنے کے باوجود قابل ذکر پارلیمانی قوت نہیں بن سکی؟ اگر کامیابی و ناکامی کو محض اسمبلیوں میں سیاسی جماعتوں کی عددی قوت کے پیمانے پر جانچا جائے تو جماعت اسلامی کو واقعی ایک ناکام سیاسی جماعت قرار دیا جا سکتا ہے اور کیونکہ سیاسی جماعتوں کی کامیابی یا ناکامی کی جانچ پرکھ کے لیے ان کا ووٹ بینک اور پارلیمانی عددی قوت ہی پیمانہ ہوا کرتا ہے۔ لیکن جماعت اسلامی کی کامیابی یا ناکامی کا فیصلہ محض اس پیمانے پر کرنا انتہائی زیادتی ہوگی کیونکہ جماعت اسلامی محض ایک سیاسی جماعت نہیں بلکہ ایک ہمہ گیر، فکری، نظریاتی اور اصلاحی تحریک ہے۔ سیاسی جدوجہد اس کی ہمہ جہت سرگرمیوں کا ایک جزو ہے، کُل نہیں۔ جماعت اسلامی اسلامی نظریۂ حیات کی ترویج، نظام اسلامی کے نفاذ اور ملک میں عادلانہ، منصفانہ اسلامی و جمہوری معاشرے کے قیام کے لیے جدوجہد کی طویل ترین تاریخ کی حامل ایک نظریاتی تحریک ہے اور اس کی کامیابیوں اور ناکامیوں کا جائزہ اس کی فکری و نظریاتی جدوجہد کے تناظر میں ہی لیا جا سکتا ہے، نہ کہ صرف ووٹ بینک کے محدود پیمانے پر۔

بانیٔ جماعت اسلامی مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ نے جب گزشتہ صدی کے نصف اوّل میں اسلام کو مکمل ضابطۂ حیات کی حیثیت سے امت کے سامنے پیش کیا اور کہا کہ اسلام محض پوجا پاٹ کا مذہب نہیں بلکہ ایک مکمل نظام حیات ہے جو انفرادی زندگی سے لے کر اجتماعی زندگی کے تمام دائروں پر محیط ہے، جس میں حکومت و ریاست کے معاملات، معیشت و تجارت کے مسائل، صلح و جنگ کے اصول، آئین و قانون کے نکات اور تہذیب و ثقافت کی ساری نشریحات شامل ہیں، تو عوام الناس تو کُجا بڑے بڑے علمائے کرام دانتوں میں انگلیاں دبا کر رہ جاتے تھے اور پوچھتے تھے کہ بھلا اسلام کا ان ’’بکھیڑوں‘‘ سے کیا تعلق؟ یہ سیدابوالاعلیٰ مودودیؒ اور ان کی جماعت اسلامی ہے جس نے مسلمانوں میں اس قدر شعور پیدا کردیا ہے کہ آج بے عمل سے بے عمل مسلمان بھی اسلام کو عیسائیت، بدھ مت یا ہندومت کی طرح محض پوجاپاٹ کا مذہب نہیں سمجھتا، بلکہ مکمل نظام حیات سمجھتا ہے، اور اسلامی نظام کا نفاذ اب اچنبھے کی بات نہیں سمجھی جاتی۔

قیام پاکستان کے بعد ملک کی دستوری بنیادیں اٹھانے کا مرحلہ درپیش ہوا تو سید مودودیؒ نے ملک بھر کے دینی حلقوں کو جمع کرکے اسلامی دستور کی تحریک چلائی جس کے نتیجے میں قراردادِ مقاصد منظور ہوئی جس کی رو سے اسلام اس ریاست کا سرکاری دین قرار پایا اور قرآن و سنت کو دستور سازی اور قانون سازی کی اساس کے طور پر تسلیم کیا گیا۔ اس طرح ملک کی نظریاتی جہت ہمیشہ کے لیے متعین ہوگئی جسے بعد کے مختلف ادوار میں بدل کر سیکولر بنانے کی کوششیں ہوئیں، لیکن کامیاب نہ ہوسکیں۔ اسی قراردادِ مقاصد کی روشنی میں 1956ئکا دستور ترتیب دیا گیا لیکن ملکی تاریخ کے پہلے فوجی ڈکٹیٹر نے اسے منسوخ کرکے 1962ء کا مارشل لائی دستور نافذ کیا، لیکن ڈکٹیٹر کی رخصتی کے ساتھ اُس کا دستور بھی دفن ہوگیا۔ بعد میں قراردادِ مقاصد ہی کی بنیاد پر 1973ء کا دستور نافذ ہوا جو ریاست پاکستان کی متفقہ آئینی دستاویز ہے۔ قراردادِ مقاصد دستورِ پاکستان میں دفعہ 2-A کے طور پر شامل ہے۔
قراردادِ مقاصد کی منظوری سے ملک کی نظریاتی جہت تو متعین ہوگئی لیکن سیکولر حلقوں کی طرف سے اعتراض اٹھایا گیا کہ ملک میں کئی فرقے ہیں جو اسلام کے حوالے سے اپنا اپنا نکتہ نظر رکھتے ہیں۔ اس طرح اسلام کے بارے میں کس فرقے کی تشریح معتبر ہوگی اور مختلف فرقوں کو اسلام کی تعبیر و تشریح پر کس طرح متفق کیا جائے گا؟ سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ اور جماعت اسلامی نے سیکولر حلقوں کا یہ چیلنج بھی اس طور پر قبول کیا کہ ملک بھر کے جملہ مکاتبِ فکر سے تعلق رکھنے والے جید علمائے کرام کو اسلام کی توضیح و تشریح کے حوالے سے 22 نکات پر متفق کردیا جس کے نتیجے میں فرقہ واریت کا مسئلہ بڑی حد تک حل ہوگیا۔ علمائے کرام کے 22 نکات ملتِ اسلامیہ پاکستان کے اجماع امت کی حیثیت رکھتے ہیں اور اتحادِ بین المسلمین کی مضبوط بنیاد فراہم کرتے ہیں۔

وطن عزیز کی تاریخ کی ابتدائی تین دہائیوں میں دو چیلنج ابھر کر سامنے آئے جنہوں نے ملتِ اسلامیہ پاکستان کی نئی نسل کے ذہنوں میں اسلامی نظریے کے حوالے سے شکوک و شبہات پیدا کردئیے۔ یہ دو چیلنج قادیانیت اور سوشلزم تھے۔ جماعت اسلامی نے علمی و فکری محاذ پر ان دونوں فتنوں کا مقابلہ کیا اور ان قوتوں کی طرف سے نوجوان نسل کے ذہنوں میں بوئے جانے والے شکوک و شبہات کو رفع کرکے انہیں اسلامی نظام حیات کو شعوری طور پر سمجھنے اور اپنانے پر آمادہ کیا۔ قادیانیت کے تابوت میں آخری کیل اُس وقت ٹھونکی گئی جب اسلامی جمعیت طلبہ سے وابستہ نشتر میڈیکل کالج ملتان کی اسٹوڈنٹس یونین کی قیادت میں طلبہ کا ایک قافلہ ربوہ ریلوے اسٹیشن سے گزرا تو اس پر قادیانی غنڈوں نے حملہ کردیا اور طلبہ پر تشدد کیا۔ اس واقعہ کے خلاف پورے ملک میں تحریک ختم نبوت برپا ہوئی اور بالآخر وزیراعظم پاکستان جناب ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے قادیانیوں کو غیرمسلم قرار دے دیا۔ قبل ازیں 1950 کی دہائی میں ’’قادیانی مسئلہ‘‘ نامی کتاب لکھنے پر وقت کی مارشل لا عدالت نے سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کو سزائے موت دئیے جانے کا فیصلہ بھی کیا تھا جسے بعد میں ملتِ اسلامیہ پاکستان اور عالم اسلام کے شدید دبائو پر منسوخ کیا گیا۔ اس طویل تحریک کے نتیجے میں قادیانی ناسور ہمیشہ ہمیشہ کے لیے جسدِ ملّی سے کاٹ کر الگ کردیا گیا۔

سوشلزم اور کمیونزم کے الحادی نظریات نے وطن عزیز کی نوجوان نسل کو اسلام سے برگشتہ کررکھا تھا۔ سوشلزم محض معاشی یا سیاسی نظام نہیں بلکہ اسلام کے مدمقابل ایک مکمل نظریۂ حیات تھا جس میں خدا، رسول، ایمانیات، اخلاقیات وغیرہ کی کوئی گنجائش نہ تھی۔ کمیونسٹ راہنما ان اصطلاحات کو سرمایہ داروں کے استحصالی ہتھیار قرار دے کر ان مبادیاتِ اسلام کے خلاف مورچہ زن تھے۔ اسلامی دستور کے مطالبے اور قادیانیت کے خلاف جدوجہد میں وطنِ عزیز کی دیگر اسلامی قوتوں نے بھی جماعت اسلامی کا بڑی حد تک ساتھ دیا تھا، لیکن سوشلزم اور کمیونزم کے خلاف نظریاتی جنگ جماعت اسلامی کو تنہا لڑنی پڑی۔ جماعت اسلامی سے وابستہ مصنفین، ادیبوں، دانشوروں، صحافیوں، طلبہ، مزدوروں، کسانوں اور زندگی کے ہر شعبے سے تعلق رکھنے والے افراد نے اپنے اپنے میدان میں اسلامی نظریے کی جنگ لڑی۔ حتیٰ کہ 1980 کی دہائی میں سوشلزم افغانستان میں اسلامی تحریک اور مجاہدینِ افغانستان کے ہاتھوں پاش پاش ہوگیا اور نتیجتاً خود روس نے اس کمیونزم کا قلاوہ اپنی گردن سے اتار پھینکا۔ کمیونزم جیسے الحادی نظریے کی شکست جماعت اسلامی کا ایک بڑا کارنامہ ہے جس کا آج کی نوجوان نسل اندازہ نہیں کرسکتی۔

مشرقی پاکستان میں دو قومی نظریے کی بنیاد پر وجود میں آنے والے پاکستان کے تحفظ کے لیے وہاں کی جماعت نے 1971ء میں جو ایمان افروز کردار ادا کیا وہاں کے قائدین آج تک اس کی بھاری قیمت ادا کررہے ہیں۔ افغانستان اور کشمیر کے جہاد میں جماعت اسلامی کی جدوجہد اور قربانیاں تاریخ کا سنہری باب ہیں۔
جماعت اسلامی کی ذیلی تنظیمیں زندگی کے ہر شعبے میں فکری و نظریاتی جدوجہد، افراد کی کردار سازی اور قومی زندگی میں مؤثر اور مثبت کردار ادا کررہی ہیں۔ اسلامی جمعیت طلبہ اور وطن عزیز پاکستان دونوں 1947ء کے جڑواں ہیں۔ کسی شاعر کے بقول

اک ٹہنی پہ دو پھول کھلے ہیں، پاکستان اور میں
ہر دکھ سکھ میں ساتھ رہے ہیں، پاکستان اور میں

اسلامی جمعیت طلبہ گزشتہ 67 سال سے وطن عزیز کے تعلیمی اداروں میں نظریۂ پاکستان کی جنگ لڑنے کے ساتھ طلبہ کے سیرت و کردار کی تعمیر کی جدوجہد بھی کررہی ہے۔ جماعت اسلامی سے وابستہ اسلامک میڈیکل ایسوسی ایشن، اسلامی جمعیت طالبات، تنظیم اساتذہ پاکستان، جمعیت طلبہ عربیہ، شباب ملّی، مزدوروں اور کسانوں کی تنظیمیں اور دیگر سینکڑوں تنظیمات اور ادارے اپنے اپنے میدان میں قوم کی خدمت میں ہمہ تن مصروف ہیں۔ جماعت اسلامی کا شعبہ خدمتِ خلق ’’الخدمت فائونڈیشن‘‘ کے نام سے سیلاب، زلزلے اور دیگر آفاتِ سماوی کا شکار دکھی انسانیت کی خدمت کررہا ہے۔ کوئی سیاسی جماعت خدمت کے میدان میں جماعت اسلامی کی ہمسری کا دعویٰ نہیں کرسکتی۔ کشمیر اور خیبر پختون خوا میں 2005ء میں آنے والا تباہ کن زلزلہ ہو یا وطن عزیز کے بڑے حصے کو غرقاب کرنے والا خوفناک سیلاب، یا صحرائے تھر میں خوفناک قحط سالی کا شکار سسکتی اور دم توڑتی انسانیت… جماعت اسلامی اور الخدمت کے کارکنان ہر دکھ درد میں قوم کے ساتھ رہے ہیں۔

جماعت اسلامی کے قائدین نے بیرون ملک تو کیا اندرون ملک بھی کوئی جائدادیں نہیں بنائیں۔ ان کی جائداد وہ فقرو درویشی ہے جس کے مقابلے میں دنیا بھر کے خزانے بھی ہیچ ہیں۔ ان کا فقر ’مجبوری کا نام شکریہ‘ نہیں بلکہ نبی آخرالزماںؐ اور خلفائے راشدینؓ کے طرزِ زندگی کا پرتو ہے۔ یہ نہیں کہ وہ کرپشن کی اس بہتی گنگا میں ہاتھ نہیں دھو سکتے تھے بلکہ انہوں نے مال و دولت کو تج کر بے لوث خدمت کو اپنا شعار بنایا ہے۔ جماعت سے وابستہ سینکڑوں افراد ماضی قریب میں وفاقی و صوبائی وزرائ، ارکانِ سینیٹ، قومی اسمبلی و صوبائی اسمبلی، میئر اور ناظمین وغیرہ رہے ہیں۔ چاہتے تو دولت کی دیوی ان پر بھی مہربان ہوسکتی تھی۔ اندرون ملک اور بیرون ملک ان کی بھی جائدادیں بن سکتی تھیں۔ دنیا بھر کے بینکوں میں ان کے سرمائے کی بھی ریل پیل ہوسکتی تھی۔ لیکن جماعت اسلامی کے لوگ لگتا ہے اِس دنیا کی مخلوق ہی نہیں ہیں۔ یہ واقعی ہوس پرستی کی اس دنیا کی مخلوق نہیں ہیں بلکہ اسلاف کے نقشِ قدم پر چل کر وطن عزیز کو مدینے کی طرز کی اسلامی ریاست بنانے کے عَلم بردار ہیں، اور یہ کام وہی کرسکتے ہیں، جیسا کہ علامہ اقبالؒ نے فرمایا ؎
مٹایا قیصر و کسریٰ کے استبداد کو جس نے
وہ کیا تھا؟ زورِ حیدر، فقرِ بوذر، صدقِ سلمانی

پھر اس پہلو سے بھی غور فرمائیے کہ ہمارے ہاں سیاسی جماعتیں ہیں ہی کہاں؟ یہ تو جاگیریں ہیں یا گدیاں، جو وراثت میں منتقل ہوتی ہیں۔ کارکن ہمیشہ کارکن رہتا ہے اور اس کا کام نعرے لگانا، پنڈال بنانا، اسٹیج سجانا، بینر آویزاں کرنا اور لیڈر (جس کی ’’تخلیق‘‘ یا ’’انتخاب‘‘ میں اس کا کوئی عمل دخل نہیں ہوتا) کو اپنے کندھے پر اٹھا کر مسندِ اقتدار تک پہنچانا ہوتا ہے۔ کارکن کبھی لیڈر نہیں بن سکتا، اور لیڈر کبھی کارکن نہیں رہا ہوتا۔ یہ ذات پات اور چھوت چھات کا نظام کم و بیش تمام ہی سیاسی جماعتوں میں موجود ہے، لیکن جماعت اسلامی اس میدان میں بھی منفرد ہے جس نے اپنے قیام سے اب تک اپنی تنظیم کو مکمل جمہوری اور شورائی بنیادوں پر قائم رکھا ہے اور اس تسلسل میں ایک دن کا وقفہ بھی نہیں آنے دیا۔ مولانا سید ابوالاعلیٰ مودودیؒ کے بعد ارکانِ جماعت نے بالترتیب میاں طفیل محمدؒ، قاضی حسین احمدؒ، سید منور حسن اور سراج الحق کو یکے بعد دیگرے امیر جماعت منتخب کیا۔ ان میں سے کوئی بھی امیر خدانخواستہ بے اولاد نہ تھا بلکہ ان کی اولادیں ہمارے روایتی سیاسی قائدین کی اولادوں کی نسبت زیادہ پڑھی لکھی، تربیت یافتہ اور تہذیب یافتہ تھیں اور ہیں، لیکن ارکانِ جماعت اپنی آزاد مرضی سے جس کارکن کو امارت کی ذمہ داری کے لیے منتخب کرتے ہیں، وہی امیر جماعت بن جاتا ہے۔ نہ کوئی کھینچا تانی، نہ قیادت کے حصول کے لیے چھینا جھپٹی، نہ عہدوں اور مناصب کی بندر بانٹ اور نہ عزیزوں اور حواریوں کو نوازنے کی روش۔ جماعت اسلامی کی تنظیمی ہیئت اور اس کا جمہوری ڈھانچہ سیاسیات کے طالب علموں کے لیے تحقیق کا ایک دلچسپ موضوع ہے۔ کیا اس قسم کی سیاسی جماعت کا وجود بجائے خود ایک معجزہ نہیں؟

جماعت اسلامی محض روایتی مذہبی طبقے کے افراد پر مشتمل نہیں، بلکہ جدید تعلیم یافتہ اور قدیم و جدید علوم پر دسترس رکھنے والے ماہرین کی بڑی تعداد اس جماعت کی صفوں میں موجود ہے، جن میں پی ایچ ڈی حضرات، علمائے کرام، ماہرینِ تعلیم، ماہرینِ معاشیات، ماہرینِ قانون، ڈاکٹرز، انجینئرز، صحافی، ادیب، دانشور اور مختلف شعبہ ہائے زندگی کے ماہرین شامل ہے، اور یہ حقیقت میں تعلیم یافتہ مڈل کلاس کی نمائندہ جماعت ہے۔ ایسے لوگوں کے ہاتھ میں اگر ملک کی باگ ڈور آجائے تو کیا یہ ملک اور قوم کی خوش قسمتی نہیں ہوگی؟

قومی زندگی کے اس نازک ترین مرحلے پر جبکہ کرپشن نے ملک کو دیمک کی طرح چاٹ لیا ہے، سیاسی قیادت کی ناعاقبت اندیشی کے باعث ملک خوفناک کھینچا تانی کا شکار ہے جس کا فائدہ اٹھاتے ہوئے کوئی بھی طالع آزما وطن عزیز کو خوفناک حادثے سے دوچار کرسکتا ہے، جماعت اسلامی کا وجود امید کی کرن ہے۔ اب کی بار جماعت نے لگ بھگ ایک عشرے کے بعد ملک بھر سے اپنے کارکنوں، بہی خواہوں، ملک و ملت کے غمگساروں، سیاسی و دینی قائدین، دانشوروں اور زندگی کے مختلف شعبوں سے تعلق رکھنے والے چیدہ چیدہ افراد کو 21 تا 23 نومبر کو مینارِ پاکستان پر جمع کرتے ہوئے ایک قومی ایجنڈا دینے کا اعلان کیا ہے۔ لوگوں نے دھرنے بھی دیکھے ہیں اور لانگ مارچ بھی… کنونشن بھی دیکھے ہیں اور سیاسی جلسے بھی… قوم یہ دیکھے گی کہ جس طرح جماعت اسلامی دیگر جماعتوں سے مختلف ہے، اِس طرح اُس کا اجتماع بھی دیگر سیاسی اجتماعات، دھرنوں اور جلسوں سے منفرد ہے۔ ویسے اب قوم کے پاس جماعت اسلامی کے علاوہ کوئی آپشن نہیں بچا۔ قوم اور جماعت دونوں کو ایک دوسرے کو سمجھنا ہوگا، ورنہ جماعت کا خسارہ تو شاید کوئی نہیں، قوم کا خسارہ ناقابلِ تلافی ہے اور قوم کا خسارہ ہی دراصل جماعت کا خسارہ بھی ہے۔

سید سلیم گردیزی

No comments:

Powered by Blogger.