Header Ads

Breaking News
recent

ایبولا مریضوں کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرگئی......


ایبولا وائرس سے متاثر ہونے والے افراد کی تعداد دس ہزار سے تجاوز کرگئی ہے اور یہ مرض اب تک 4,922 افراد کی جان لے چکا ہے۔
عالمی ادارۂ صحت نے اپنی تازہ ترین رپورٹ میں کہا ہے کہ ان دس ہزار مریضوں میں سےصرف 27 افراد کے علاوہ باقی تمام کا تعلق وائرس سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والے تین افریقی ممالک سیئرا لیون، لائبیریا اور گِنی سے ہے۔
اسی طرح ہلاک ہونے والے تقریباّ پانچ ہزار لوگوں میں سے صرف دس افراد ایسے تھے جن کا تعلق ان تین ممالک سے نہیں تھا۔

ایبولا سے ہلاک ہونے والے آخری مریض کا تعلق مالی سے تھا جوکہ ایک دو سالہ بچی تھی۔ اطلاعات کے مطابق ان چالیس سے زیادہ افراد کو حفاظتی اقدامات کے تحت عام لوگوں سے الگ رکھا جا رہا جو ہلاک ہونے والی بچی سے براہ راست رابطے میں رہے۔

ایبولا کی تازہ ترین صورت حال کے بارے میں عالمی ادارۂ صحت کی رپورٹ میں مزید بتایا گیا ہے کہ ایبولا سے سب سے زیادہ متاثر ہونے والا ملک لائبیریا ہے جہاں اب تک 2,705 افراد اس مرض کے ہاتھوں ہلاک ہو چکے ہیں۔ سیئرا لیون میں مرنے والوں کی تعداد 1,281 ہے جبکہ گنی میں 926 افراد ایبولا وائرس کی وجہ سے لقمہ اجل بن چکے ہیں۔
  

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 10,141 افراد کو ایبولا وائرس لگ چکا ہے لیکن مریضوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ متاثرہ ممالک میں کئی لوگ اپنے بیمار عزیزوں کو ایبولا کے طبی مراکز میں علاج کے لیے نہیں لا رہے ہیں۔عالمی ادارہ صحت
اعدا و شمار کے مطابق نائیجیریا میں اب تک آٹھ افراد جبکہ مالی اور امریکہ میں ایک ایک فرد ایبولا سے مر چکا ہے۔

عالمی ادارۂ صحت کا کہنا ہے کہ اگرچہ سرکاری اعداد و شمار کے مطابق اب تک دنیا بھر میں 10,141 افراد کو ایبولا وائرس لگ چکا ہے لیکن مریضوں کی اصل تعداد اس سے کہیں زیادہ ہو سکتی ہے کیونکہ متاثرہ ممالک میں کئی لوگ اپنے بیمار عزیزوں کو ایبولا کے طبی مراکز میں علاج کے لیے نہیں لا رہے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق ایبولا کے علاج کے خصوصی مراکز میں سے کئی ایک میں گنجائش سے زیادہ مریض داخل کیے جا چکے ہیں۔
امریکہ میں اقدامات

ادھر امریکی شہر نیویارک اور نیو جرسی کے گورنروں نے حکم دیا ہے کہ مغربی افریقی ممالک سے آنے والے ان تمام مسافروں کو 21 دن کے لیے الگ تھلگ رکھا جائے جن کا واسطہ کسی بھی طرح سے ایبولا کے مریضوں سے رہا ہے۔مغربی افریقی ممالک سے آنے والے ان تمام مسافروں کو 21 دن کے لیے الگ تھلگ رکھا جائے

آندرے كومو اور کرس کرسٹی کا یہ مشترکہ اعلان ایسے وقت میں آیا جب ایک دن پہلے ہی ڈاکٹر کریگ سپینسر میں ایبولا کی تصدیق ہوئی ہے جو کچھ وقت پہلے گنی سے لوٹے تھے۔
دونوں گورنروں نے کہا کہ جمعے کو افریقہ سے واپس آئے ایک اور طبی کارکن کو الگ تھلگ کر دیا گیا ہے لیکن ان میں ابھی تک ایبولا کی علامات نہیں پائی گئیں۔

اس دوران ان دو نرسوں کو ایبولا سے پاک قرار دیا گیا ہے جو ٹیکساس میں لائبیریا سے آئے ایبولا مریض کا علاج کرتے وقت بیماری ہو گئی تھیں۔
ان میں سے ایک نرس نینا فام کو ہسپتال سے چھٹی دے دی گئی ہے۔ انھیں صدر اوباما نے وائٹ ہاؤس آنے کی دعوت دی ہے۔ نرس نینا فام نے صدر سے ملاقات بھی کی۔
مالی میں ایبولاگنی کے دوسرے پڑوسی ملک ماریطانیہ نے اپنی سرحد بند کر دی ہے۔

مالی میں بھی ایبولا کے پھیلاؤ کا خطرہ پیدا ہو گیا ہے اور وہاں ایک دو سالہ بچی اس مرض سے ہلاک ہو گئی ہے ۔

عالمی ادارہ صحت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ یہ بچی قریب 200 کلومیٹر دور سے بس میں آئی تھی اور اس دوران کم از کم 40 لوگ اس بچی کے رابطے میں آئے ہیں جنھیں الگ تھلگ کر دیا گیا ہے۔اس بچی کو اس کی دادی اس وقت مالی لے کر آئیں جب گنی میں بچی کی ماں کی موت ہو گئی تھی۔
دریں اثنا مالی کے صدر ابراہیم بوبکر کیاٹا نے فرانسیسی ریڈیو سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’ہم پوری کوشش کر رہے ہیں کہ مالی میں لوگ افراتفری اور بدحواسی کا شکار نہ ہوں۔

اس مرض کے آغاز سے ہی ہم نے مالی میں تمام حفاظتی اقدامات کرنا شروع کر دیے تھے، لیکن صاف ظاہر ہے کہ ہم ملک کی سرحدیں مکمل بند تو نہیں کر سکتے۔‘
مالی کے صدر کا کہنا تھا کہ مالی اور گنی کی درمیانی سرحد کھلی رہے گی، تاہم گنی کے دوسرے پڑوسی ملک ماریطانیہ نے اپنی سرحد بند کر دی ہے۔

No comments:

Powered by Blogger.