Header Ads

Breaking News
recent

انقلاب نعروں سے نہیں‘ فکر اور دلائل سے آتا ہے.....

 
تحریکات میں جذبات کے اظہار کی، جلسوں اور جلوسوں کی اور متعین مقاصد کے لیے سیاسی جدوجہد کی اہمیت سے انکار نہیں کیا جاسکتا۔ اس کے بغیر آج کے دور میں کسی بڑی سیاسی تبدیلی کی توقع نہیں کی جاسکتی۔ آپ جب کوئی نعرہ بلند کرتے ہیں تو مجھ جیسے بوڑھے آدمی کے خون میں بھی حرارت پیدا ہوجاتی ہے، لیکن یہ کسی انقلاب کے لیے ناکافی ہے۔ انقلاب دنیا میں نعروں سے اور سلوگن سے نہیں آئے گا۔ انقلاب آئے گا فکر سے اور دلائل سے۔ دنیا آپ کی بات سن کر کہے کہ ہمارے سامنے ایک نیا سسٹم آگیا ہے، اس پر غور کیے بغیر کوئی چارہ نہیں ہے۔ آج آپ کہیں بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں۔ میں یہ نہیں کہتا کہ کہیں کوئی تبدیلی واقع نہیں ہوتی۔ 
بہت سی چھوٹی بڑی تبدیلیاں واقع ہوتی ہی رہتی ہیں، لیکن ہم جو تبدیلی چاہتے ہیں اس کے لیے ضروری ہے کہ دنیا یہ کہے کہ ہمارے سامنے ایک فکر آگئی ہے، اس پر غور کرنے کی ضرورت ہے۔ ایک متبادل پیش کیا جارہا ہے اور ایک نیا نقطہ نظر غورو فکر کی دعوت دے رہا ہے، اس کی بنیاد پر بھی دنیا کا نظام چل سکتا ہے۔ یہ سوال ابھی ہم نے نہیں کھڑا کیا ہے۔ میں آپ کی خدمات کا ہزار بار اعتراف کروں گا، لیکن اس واقعے سے آپ انکار نہیں کرسکتے کہ دنیا میں یہ سوال ابھی تک آپ نے کھڑا نہیں کیا ہے، جب کہ آپ کے پاس ایک مضبوط لٹریچر بھی ہے اور اس لٹریچر کی بنیاد پر یا اس نہج پر آپ اس سے بھی بڑا کام کرسکتے ہیں۔

مولانا سید جلال الدین عمری

No comments:

Powered by Blogger.