Header Ads

Breaking News
recent

ایبولا: انسانیت کے لئے اولین اور مشترکہ خطرہ....


یہ آج کے دن تک تمام کرۂ ارض پر انسان کو جس مشترکہ اور اولین دشمن کا انتہائی سامنا ہے وہ ایک انتہائی مہلک جرثومہ کی حامل ایبولا نام کی بیماری ہے۔ جس کے مارے اس وقت سات ہزار لوگ دیکھتے ہی دیکھتے ہلاک ہو چکے ہیں۔ یہ مہلک ترین بیماری ہے (جس کا مہلک ترین جرثومہ جسےحیاتیاتی سائنس یا میڈیکل اصطلا ح میں چوتھی سطح کا مہلک ترین بیماری لئے جرثومہ کہا جاتا ہے) اگرچہ اس کی شروعات مغربی افریقہ سے ہوئی لیکن اب وہ اسپین اور امریکہ میں اس کے ایک ڈاکٹر سمیت (جس کا کہ اب علاج کیا جا چکا ہے) ایک اور تشخیص شدہ مریض کے ساتھ امریکی ریاست ٹیکساس کے شہر ڈیلس اور جارجیا ریاست کے شہر اٹلانٹا تک جا پہنچا ہے۔ ماہرین کے فوری خدشات یہ ہیں کہ اگر اس بیماری کی روک تھام انتہائی عالمی جنگی بنیادوں پر نہ کی گئی تو آئندہ برس 2015ء کے پہلے ماہ یعنی جنوری تک دنیا بھر میں کوئی چودہ لاکھ افراد اس کا شکار ہو سکتے ہیں جس کا سب سے بڑا نشانہ یورپ بشمول فرانس ہو گا۔ میں سوچ رہا ہوں کہ اس انتہائی خوفناک بیماری کے دنوں والی دنیا میں اگر عظیم لکھاری اور ناول نگار آلبر کامیو زندہ ہوتے تو پلیگ کی طرح ایک ناول اس بیماری پر بھی لکھتے۔

امریکہ کے صدر اوباما نے گزشتہ دن ایبولا کو امریکہ کیلئے نمبر 1 خطرہ قرار دیا ہے۔ اور اپنے نہ صرف صحت کے محکمہ ماہرین بلکہ امریکی محکمہ دفاع ، ہوم لینڈ سیکورٹی سمیت تمام امریکی قومی سلامتی کے اداروں کو بھی انتہائی چوکنا رہنے اور اس بات کو یقنی بنانے کو کہا ہے کہ یہ ادارے اس مہلک ترین بیماری کو ہرطرح سے امریکہ کے اندر پنپنے اور آنے کو روکیں۔ یہ صرف امریکہ کا مسئلہ نہیں یہ اب تمام عالم انسانیت کے لئے مشترکہ اور اولین خطرہ ہے ۔ ہمارے سامنے سات دس ہزار لوگ لقمہ اجل بن چکے ہیں ان میں سے کل تک فقط سات ہزار لوگوں کا تعلق جیسا کہ میں نے عرض کیا مغربی افریقہ کے ملکوں سے ہے۔

گنی، لائیبریا اور سیرالیون اس مہلک ترین بیماری کا سب سے بڑا نشانہ بنے ہیں۔ دنیا بھرمیں ایک سراسیمگی سی پھیلی ہوئی ہے یورپ نے برطانیہ سمیت پہلے ہی اپنے ممالک میں بیماری کے مرکز ہونے والے ممالک سے آنے والوں لوگوں پر سفری پابندیاں ڈالی ہیں۔ اگرچہ امریکہ نے تاحال سفری پابندیاں نہیں ڈالیں لیکن صدر اوباما کے حکم کے تحت ہوائی اور بحری اڈوں اور خشکی سے داخلے والے راستوں پر بیماری سے متاثرہ ممالک سے آنےوالے مسافروں کی اسکریننگ سخت کر دی گئی ہے۔ کئی ہزار سال سے کرہء ارض پر سویا رہنے والا یہ جرثومہ پہلے پہل 1976ء میں مغربی افریقہ کے ملک گنی میں بندروں میں پایا گیا جن سے یہ انسانوں میں منتقل ہوا اور دنوں ہفتوں میں انسانوں کی ہلاکت کا موجب بنا۔ لیکن ابتدائی طور پر مغربی افریقہ کے بندروں میں تب پائے جانے والے ایبولا کے اس جرثومے پر قابو پا لیا گیا تھا۔ اسی سال 2014ء کے مارچ کے مہینے میں یہ بیماری انسانوں میں سب سے پہلے مغربی افریقہ کے ملک لایبریا اور یکے بعد دیگرے سیرا لیون میں ظاہر ہوئی جس سے اب تک سات ہزار افراد اجل کا شکار ہو چکے ہیں۔ مغربی افریقہ کے بدقسمت لوگوں کے علاج کے واسطے ڈاکٹروں کی عالمی تنظیم ڈاکٹرز ودآئوٹ بارڈرز کے ڈاکٹر اسکے شکار لوگوں کا علاج کرنے کے لئے مغربی افریقہ پہنچ چکے تھے جن میں ایک امریکی نژاد ڈاکٹر خود اس جرثومے سے متاثر ہوا اور یہ بیماری تشخیص ہونے پر اس ڈاکٹر کو یہاں امریکہ کے شہر اٹلانٹا لایا گیا اور اب اطلاعات ہیں کہ یہ امریکی ڈاکٹر روبہ صحت ہے۔ اس کے بعد مغربی افریقہ سے اپنے عزیزوں سے ملنے امریکی ریاست ٹیکساس آنیوالے ایک شخص میں اس بیماری کی تشخیص ہوچکی ہے جو اب ڈیلس شہر کے ایک اسپتال میں ڈاکٹروں کی انتہائی نگہداشت میں زیر علاج ہے۔

اس شخص کے بارے میں بتایا گیا ہے کہ ابتدائی طور پر اس شخص نے اپنی بیماری کے بارے میں ڈاکٹروں سے چھپائے رکھا۔ ایڈزیا ایچ ائی وی، فاشزم اور دہشت گردی کے بعد اب اکیسویں صدی میں یہ دنیا اس مہلک تین لیکن مشترکہ دشمن سے نبرد آزما ہے۔ میں اسے اکیسویں صدی کا طاعون کہوں گا۔ ابیوالا وائرس ایک انسان سے دوسرے انسان میں تھوک، پسینے، خون، پاخانے کے ذریعے منتقل ہوجاتا ہے۔ یعنی قریبی جسمانی رابطے سے یہ مہلک ترین بیماری بآسانی ایک سے دوسرے انسان میں منتقل ہوجاتی ہے اور ماہرین کہتے ہیں کہ اس جرثومے کے انسانی جسم میں پلنے اور جڑ پکڑنے میں بمشکل اکیس دن لگتے ہیں۔ ابیوالا مشکل طبی الفاظ میں، ایک ’’ہیمرج فیور‘‘: ہوتا ہے۔ اس کی علامات میں جسم میں کمزوری یا اضمحلال، سر میں درد اور پھر بخار کے ساتھ ظاہر ہوتی ہیں آخر کار ناک، منہ ، کانوں، آنکھوں، حتیٰ کہ دل یا یوں کہئے کہ انسان کے ہرسوراخ سے خون آنا شروع ہوتا ہے جو اس کی ہلاکت کا سبب بنتا ہے۔

آنتیں پیٹ کے اندر ہی گر کر پھٹ جاتی ہیں۔ ایبولاکے زندہ مریض سے مردہ مریض مزید خطرناک ہوتا ہے کیونکہ ایبولا کے شکار کی لاش میں بھی یہ جرثومہ مرتا نہیں زندہ رہتا ہے۔ افریقہ میں جہاں زیادہ ترمردے دفن کئے جاتے ہیں اور دفن ہونے سے پہلے فطری طور اپنے پیاروں کی لاشوں سے بغلگیر ہونا اور ان کے بوسے لینا بھی ثقافت ہوتی ہے جس سے ایسے مریضوں کی لاشوں سے یہ جرثومے زندوں میں منتقل ہو کر ان کی ہلاکت کا سبب بنے ہیں، اسی لئے اب حیاتیاتی سائنس کے ماہرین ایبولا سے ہلاک ہونے والوں کی لاشوں کو مخصوص اور محفوظ طریقے سے جلانے کی صلاح خیر دے رہے ہیں۔ امریکہ میں منچلوں ہپ ہاپ سانگ تک جاری کیا ہے: ’’ایبولا ان ٹائون، ڈونٹ ٹچ یور فرینڈز‘‘۔ ماہرین ایبولا کے جرثومے لگنے سے بچنے کیلئے انسانی جسمانی رابطے انتہائی احتیاط سے کرنے اور ہاتھ ہر دفعہ دھونے کا بھی مشورہ دے رہے ہیں۔
ایبولا کا علاج ممکن ہے جس کیلئے امریکہ میں اگرچہ اس کی ویکسین یا ٹیکہ ایجاد کرلیا گیا ہے لیکن اس کی تیاری کا عمل محدود یاکافی سست رفتار ہے۔ امریکہ کی ریاست کیلفورنیا کا شہر سین ڈیاگو جو حیاتیاتی سائنس کی ایک بڑی صنعت اوراس کے ماہرین و سائنسدانوں کا بڑا مرکز ہے وہاں تمباکو کے پتوں سے ایبولا کی ویکسین یا ٹیکہ بنادیا گیا ہے لیکن اس کی تیاری کا عمل محدود اور غیر تیز رفتار ہے۔ پر یہ عمل جاری ہے۔ اس کے بعد جاپان دوسرا ملک ہے جو اس کے علاج کی ویکسین کی تیاری میں مصروف عمل ہے، ظاہر ہے یورپ بھی انتہائی سرگرم عمل ہے۔افریقی ممالک میں نائیجیریا وہ ملک ہے جہاں سے حکومتی سطح پر انسانیت کے اس مشترکہ دشمن کے خلاف کوششوں میں بہت ہی سنجیدگی کی رپورٹیں ہیں۔

لیکن ایشیااور جنوبی ایشیا چاہے برصغیر پاک و ہند جیسے ممالک کو بھی اس مہلک بیماری کا ایک جتنا ہی خطرہ ہے جس سے عالمی جنگی بنیادوں پر نمٹنے کی ضرورت ہے۔ یہ نہیں ہے کہ یہ محض افریقہ اور یورپ کی بیماری ہے اور ہنوز دلی دور است۔ اس ماڈرن ٹوزم ، اور قریبی جسمانی رابطوں کی دنیا میں دنیا نہ فقط واقعی گلوبل ولیج ہے بلکہ بیماریوں اور آفات کی بھی ایک جیسی آماج گاہ ہے، بقول وجودیت پسند میرے ایک دوست کے کہ انسان خود ایک بیماری ہے جو کہ اس کرہءِ ارض کو ایک جرثومے کی طرح کھاتا اورختم کرتا جا رہا ہے۔ لیکن اب وقت بہت تھوڑا ہے کہ انسان اب بھی خود کو اور کرۂ ارض کو بچانے کی مشترکہ کوششیں کر سکتا ہے۔ ابھی پنڈت مولوی بچارے گنہگار یا معصوم انسان کو ڈرانے کو آنا ہی چاہتے ہوں گے لیکن ان کےلئے عرض ہے کہ انسان کو افریقہ، یورپ اور امریکہ کے ایسے کئی پادری ڈراچکے اب اسے بچانے کی تدابیر کی ضروت ہے۔

وہ پہلے ہی اس گنجلک دھاگے یا ثابت اناج والے سیریل جیسے لگتے جرثومے والے اس مہلک ترین مشترکہ دشمن سے ڈرا ہوا ہے۔ یہ دشمن بغیر رنگ، و نسل، قومیت، زبان،جنس،مذہب و عقیدے، ملک و قوم ، سماجی ، سیاسی و اقتصادی نظام کی تفریق کے بغیرانسان کے درپے ہے۔ اس کے خلاف کرہ ارض کے تمام انسانوں اور حکومتوں کا جذبہ بھی ڈاکٹرز ودہ آئوٹ بارڈرس والوں جیسا ہونا چاہئے۔ اس بیماری اور اس کی روک تھام پر زیادہ سے زیادہ معلومات و آگہی حاصل کریں۔ فوجوں کو اپنی اپنی سرحدوں پر اس اصل دشمن کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اقوام متحدہ نے پہلے ہی عالمی سطح پر ایبولا کے خلاف ایمرجنسی کا اعلان کیا ہے۔ لیکن ظاہر ہے ایسی مہلک ترین بیماریاں ہوں کہ انسانی آفات اقوام متحدہ بڑے اعلانات و خطبوں کے علاوہ کرہی کیا سکتی ہے؟

(اس کالم کے لکھنے میں حوالہ جات تحقیق: کتاب، ’’ہاٹ زون ٹیریفائنگ ٹرو اسٹوریز‘‘ مصنف رچرڈ پرسٹن 1995ء ، بی بی سی اور سی این این کی رپورٹوں، اور میڈیکل سائنس کے طالب علموں سے ذاتی گفتگو)

حسن مجتبیٰ
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ

No comments:

Powered by Blogger.