Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان :65برس میں سیلاب سے 40ارب ڈالرکانقصان........


پاکستان کی حکومتوں نے سیلاب سے بچائو کے منصوبوں کے نام پر 35 ارب کی بھاری رقم خرچ کرڈالی‘ قوم کو درجنوں سیلابوں کے باعث 40 ارب ڈالر کا ناقابل تلافی نقصان اٹھانا پڑا لیکن حکومت نے بھارت سے داخل ہونے والے 5 دریائوں پر اپنا ٹیلی میٹری فیلڈ مانیٹرنگ سسٹم نصب کرنا گوارا نہ کیا۔ ماہرین آب کے مطابق پاکستانی حکمرانوں نے گزشتہ 65 برس میں بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے سندھ طاس معاہدے کے مطابق دریائوں پر پانی کے بہائو سے متعلق بھارت کے فراہم کردہ گمراہ کن اعداد و شمار پر انحصار کیا اور ناقابل تلافی نقصان اٹھایا۔ سیلاب سے بچائو کے منصوبوں پر 35 ارب روپے بھی خرچ کیے لیکن سیلاب کی وارننگ جاری کرنے والا اپنا نظام قائم نہیں کیا۔

 دریں اثنا ہر دو تین سال بعد سیلاب کی تباہ کاریوں کے حوالے سے سندھ واٹر ٹریٹی کونسل پاکستان کے چیئرمین سلمان خان نے اپنے ایک تازہ انٹرویو میں افسوس کا اظہار کیا ہے کہ انڈس واٹر کونسل سسٹم نصب کرنے میں نا کام رہی ہے۔ انہوں نے انڈس واٹر کمیشن‘ فیڈرل فیلڈ کمیشن اور آب پاشی کے صوبائی اداروں کو بھی سیلاب سے تباہی کا ذمہ دار قرار دیتے ہوئے کہا کہ آج کی دنیا میں دریائوں کے بہائو سے متعلق مکمل اعداد و شمار ویب سائٹ پر دستیاب ہیں لیکن ہمارے ادارے آج بھی بھارت سے گمرا کن اطلاعات کی دستیابی پر انحصار کرتے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ہمارے ماہرین پاکستانی دریائوں پر بھارتی علاقوں میں 173 چھوٹے بڑے ڈیم بنانے کا رونا روتے رہتے ہیں‘ کس نے روکا ہے کہ ملکی ضروریات کے مطابق پاکستانی دریائوں پر بڑے پیمانے پر بند تعمیر نہ کریں۔ انہوں نے صدمے کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان میں بھارت کی طرز پر ڈیم بنائے جاتے تو پاکستان میں سیلاب کی تباہی سے ناقابل تلافی نقصان ہوتا نہ لوڈشیڈنگ ہوتی اورنہ ہی ملک میں پانی کا بحران پیدا ہوتا۔

   

No comments:

Powered by Blogger.