Header Ads

Breaking News
recent

اسرائیل معرکہ بھی ہارا اور جنگ بھی.......


ہم ایک عجیب و غریب دور میں جی رہے ہیں جیسا کہ شاعر بھی حیران ہے کہ ، سوچتا ہوں، دنیا کیا سے کیا ہو جائے گی، اسی طرح عوام بھی دنیا کے متضادات سے حیرت زدہ ہیں۔ اگر کسی کی کبھی ختم نہ ہونے والی منافقت اور خود غرضی کی وجہ سے آپ پریشان ہیں تو وہیں دوسری جانب ایسے لوگ بھی موجود ہیں جن کی انسانیت نوازی اور فیاضی کی بدولت انسانیت پر آپ کا اعتماد قائم ہے۔ اسرائیل کی حالیہ جارحیت میں یہ سب کچھ موجود ہے۔ اگر ایک جانب صہیونیوں کی سفاکیت اپنی بد ترین سطح پر پہنچی ہے تو دوسری طرف فلسطینیوں کی جانب سے انتہائی جانبازی اور بہادری کا بھی مظاہرہ ہو رہا ہے۔ غیر مسلح فلسطینی حد درجہ کی مدافعت کا مظاہرہ کر کے مطلق العنیت کے خلاف جد و جہد جاری رکھ کر ہیرو بنے ہوئے ہیں۔ ایک جانب امن کیلئے نوبیل انعام پانے والے بارک اوبامہ کی سربراہی میں پوری امریکی انتظامیہ مکمل طور پر اسرائیل کے ذریعے محصور اور غیر محفوظ عوام کے قتل عام کی حمایت اور مدد کر رہی ہے۔اس نے نہ صرف اسے امریکہ ہتھیاروں تک رسائی دے رکھی ہے بلکہ پچین ملین ڈالر کی اضافی امدادی رقم بھی دی ہے۔ دوسری طرف غزہ میں جاری نسل کشی کے خلاف مغربی ممالک بشمول امریکہ بڑے بڑے شہروں میں مظاہرے ہو رہے ہیں لیکن عرب یا عالم اسلام میں کوئی مظاہرہ دیکھنے کو نہیں ملا۔ انسانی ہمدردی ابھی پوری طرح ختم نہیں ہوئی ہے۔

امریکی یا مغربی میڈیا اپنی روایات کے مطابق اس سفاکانہ نسل کشی کے تعلق سے یک طرفہ خبریں ہی پیش کر رہا ہے لیکن دوسری جانب متبادل میڈیا مثلاً بلاگس اور سوشل میڈیا پر کچھ لوگ عوام تک حقیقت پہنچانے میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے ہیں۔ فلسطین کی زمین معصوموں کے خون میں ڈوبی ہوئی ہے۔ ایسی حرکت کرنے والے وہ لوگ ہیں جو پاک پیغمبر کے جانشین ہونے اور ہزاروں سال ستم رسیدہ ہونے کا دعویٰ کرتے ہیں۔ بنی اسرائیل نے بے بس لوگوں کے خلاف وحشیانہ حرکتیں کرنے میں نازیوں کو بھی مات دے دی ہے۔ ہٹلر کی فوجوں نے بھی ایسی غلط حرکتیں نہیں کی ہونگی۔ برطانیہ کے مشہور ماہر ماحولیات ڈیوڈ انین بورو نے احتجاج کرتے ہوئے کہا تھا کہ’’ کوئی جانور بھی اسرائیلیوں جیسا ظالم نہیں ہو گا، مگر مچھ تک نہیں۔ وہ اسکولوں، اسپتالوں ، پناہ گزین کیمپوں ، یتیم خانوں ، اقوام متحدہ کے غذائی مراکز ، آب رسانی کے مقامات ، پاور پلانٹ، ایمبولنس اور سمندر کنارے کھیلنے والے بچوں تک کو اپنے بموں کا نشانہ نا چکا ہے۔ لاکھوں لوگوں کو محصور کرنے کے علاوہ وہ اسکول جانے والے بچوں پر بھی گولی چلاتے ہیں۔ قیدیوں کو رہا کرنے سے پہلے انہیں ہیماریوں کے انجکشن لگاتے ہیں۔ وہ زمین ، سمندر اور ہوا سے لوگوں کو قتل کرتے ہیں۔ ستم بالائے ستم یہ ہے کہ بے سہارا متاثرین کو دہشت گرد قرار دیتے ہیں۔ ‘‘ اقوام متحدہ جو کہ عالمی امن کی حفاظت کیلئے قائم کیا گیا تھا اپنے ہی دفاتر اور مدارس میں لوگوں کی حفاظت نہیں کر پا رہا۔ بے بس عالمی ادارے محض تماشائی بنے ہوئے ہیں جبکہ اسرائیل انہیں منہ چڑاتے ہوئے ہر ضابطے اور اصول کو پامال کر رہا ہے اور دنیا کو ٹھینگا دکھا رہا ہے۔ طاقتور عالمی لیڈر اختیارات اور وسائل ہونے کے باوجود اس طرح محض تماشائی بنے ہوئے ہیں جیسے ہالی ووڈ کا کوئی تھرلر دیکھ رہے ہوں۔ گویا ان کی آنکھ کے سامنے جو مارے جا رہے ہیں وہ حقیقی گوشت پوست کے انسان نہ ہوں۔ ماضی میں عرب مسلم لیڈروں نے اسرائیل کے خلاف زبانی احتجاج ہی سہی کیا تھا۔ اس مرتبہ وہ بھی نہیں ہوا۔

کچھ لوگ اس کیلئے خطہ میں پیچیدہ اور ہر وقت تبدیل ہونے والی سیاسی اور طاقت کی ادلا بدلی کو مورد الزام ٹھہراتے ہیں۔ عالم اسلام کو فرقہ بندی کی بنیاد پر تقسیم کرنے کے نیو امریکن سینچوری پروجیکٹ کے تحت عراق اور دیگر ممالک میں بوئے گئے نفرت کے بیج کی فصل کاٹی جا رہی ہے۔ بہار عرب کے دوران احتجاج در احتجاج کے بعد پورے خطے میں نام نہاد سیاسی اسلام، ایک ناپسندیدہ لفظ بن گیا۔ اسی کا نتیجہ ہے کہ حماس اور وسیع پیمانے پر فلسطین بالکل تنہا پڑ گیا ہے جس کا کوئی دوست نہیں ہے جبکہ دنیا کی طاقتور ترین فوج نہتے لوگوں پر خونریز حملے کر رہی ہے۔ لیکن اس میں نیا کیا ہے؟َ فلسطینیوں کو کسی نہ کسی فرضی یا دشمنوں کے ذریعہ پیدا کئے گئے جرم کی سزا بھگتنے کی عادت سی ہو گئی ہے۔ ماضی میں عرفات کی سربراہی والی فتح کی ضدی قرار دی جانے والی لیڈرشپ تھی جسے آخر کا ر زہر دے دیا گیا تو آج حماس کی مبینہ دہشت گردی ہے۔ جارح نظریات کے تحت اسرائیل کو وقت وقت پر گھاس کاٹنے کیلئے کسی بہانے کی ضرورت ہوتی ہے۔ لیکن گزشتہ مہینے اسرائیل کی بے رحم فوجی طاقت اور ظالمانہ رویہ غزہ کو تباہ کر دینے کے باوجود عصبیت پسند حکومت اپنے مقصد میں بری طرح ناکام ہے۔ نام نہاد آپریشن پروٹیکٹیو ایج کی وجہ سے اسرائیل کو منہ کی کھانی پڑی ہے جیسا کہ 2006ء کی لبنان کے خلاف جنگ کے بعد ہوا تھا۔ فلسطینی بری طرح زخمی ہیں لیکن ٹوٹے نہیں ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو کسی بھی صورتحال کا سامنا کرنے کیلئے تیار رہتے ہیں۔

جیسا کہ پاکستان کے سابق فوجی سربراہ مرزا اسلم بیگ نے کہا کہ ’’اسرائیلی جنگ کا مقصد حماس کی شہری اور فوجی کمان کے منصوبے اور ان کے بہادر جنگجوؤں کو ختم کرنا ہے لیکن اسرائیلی فوجیں اپنا مقصد حاصل کرنے میں دس فیصد بھی کامیاب نہیں ہو سکی ہیں۔ اسی کو شکست کہتے ہیں۔ حماس کی فتح ہوئی ہے کیونکہ مدافعت کے نظریہ کو شکست نہیں دی جا سکتی۔‘‘
اس بات پر توجہ دلاتے ہوئے کہ یہ 2 غیر متناسب فریقین کے بیچ سخت جنگ تھی، جنرل بیگ پیش گوئی کرتے ہیں کہ مضبوط قوت ارادی کے حامل افراد ہی فتح مند ہوتے ہیں۔ قدرت بھی حماس کی مدد کرتی ہے جبکہ اسرائیل کی پوری دنیا مذمت کر رہی ہے۔‘‘ تو بھلے ہی فلسطینی مقامی سطح پر خود کو تنہا پاتے ہوں لیکن بڑے پیمانے پر عالمی برادری کے کم ازکم با شعور افراد ان کے ساتھ ہیں۔ غزہ والوں کیلئے بڑھتی حمایت عالمی پیمانے پر پچھلے کچھ ہفتوں میں دیکھی گئی ہے جو اس سے پہلے کبھی نظر نہیں آئی تھی۔ اسرائیل کے خلاف نفرت اپنے عروج پر ہے اور اسی آندھی میں ، نسلی بنیاد پر نا انصافی کے ذریعہ قائم کئے گئے اس ملک کے نابود ہو جانے کی پیش گوئی کی جا رہی ہے۔ جیسا کہ سخت گیر جنوبی افریقہ کے ساتھ ہوا تھا۔ پچھلے ہفتہ جنوبی امریکہ کے پانچ ممالک برازیل، چلی، ایکواڈور ، پیرو اور ایل سلواڈور نے ہمت کا مظاہرہ کرتے ہوئے غزہ کی حمایت میں مظاہرہ کیا اور اسرائیلی سفیر کو اپنے ملک سے نکال باہر کیا۔ قاہرہ میں واقع عرب پارلیمنٹ نے جنوبی امریکہ کے ممالک کا ان کے اقدام کیلئے شکریہ ادا کیا۔ اگر فلسطین کے تعلق سے یہ ہمدردی کچھ پہلے بیدار ہوگئی ہوتی تو اس کے کچھ خوشگوار نتائج برآمد ہو سکتے تھے۔ جیسا کہ مارٹن لوتھر کنگ جونئیر نے کہا تھا کہ آخر میں ہم دشمن کے الفاظ نہیں بلکہ دوست کی خاموشی یاد رکھیں گے۔ اسی دوران دنیا کی نظروں میں اسرائیل کو جنگ اور معرکہ آرائی دونوں میں شکست فاش ہوئی ہے۔ فلسطینی پارلیمنٹ کے الفاظ میں ’’ فلسطین نے برداشت کیا، مقابلہ کیا اور فتح حاصل کی۔‘‘ اور انہوں نے ساری پریشانیوں کے باوجود ہر مرحلے میں کامیابی حاصل کی ہے۔ آزادی اور مقابلہ آرائی کی روح ایک مرتبہ پھر ظلم و استبداد اور نو آبادیات کے خلاف کامیاب و کامران رہی ہے۔


بہ شکریہ روزنامہ ’’انقلاب 

No comments:

Powered by Blogger.