Header Ads

Breaking News
recent

غزہ کا واحد سہارا ایردوان ........



تین اسرائیلی نوجوانوں کی فلسطینیوں کے ہاتھوں ہلاکت کے بعد اسرائیل نے غزہ میں موت کے جس کھیل کا آغاز کررکھا ہے وہ کھیل اب بھی جاری ہے اور اس خونی کھیل میں اب تک 160 سے زائد بے گناہ فلسطینی ہلاک ہوچکے ہیں۔ اسرائیل جو اپنے ایک ایک باشندے کی زندگی کی جانب خصوصی توجہ دیتا ہے بدقسمتی سےاپنی ہی آبائی سرزمین پر آباد فلسطینی باشندوں کو اپنے مستقبل کے لئے بہت بڑا خطرہ تصور کرتا ہے اور اس کو جیسے ہی کوئی موقع ملتا ہے ان مقامی باشندوں کو سزا دینے سے ہر گز نہیں چوکتا ہے بلکہ اس نے ان باشندوں کا ان کی اپنی ہی سرزمین پر جینا دو بھر کررکھا ہے۔ اسرائیل نے اپنی اس پالیسی پر عمل درآمد کرتے ہوئے معصوم اور بے گناہ فلسطینی بچوں اور خواتین کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے جس کی مہذب دنیا میں کوئی مثال نہیں ملتی ہے۔ اسرائیل نے مختلف ہتھکنڈے اپناتے ہوئے جس طریقے سے فلسطینی باشندوں کے قتل عام کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اس کو دیکھ کر رونگٹے کھڑے ہو جاتے ہیں( فیس بک پر پیش کی جانے والی تصاویر اور فوٹیج اس قتل عام کا منہ بولتا ثبوت ہیں۔) اسرائیلی فوج غزہ میں اپنی کارروائی کے دوران جس فلسطینی باشندے کو بھی شک و شبہے کی نظر سے دیکھتی ہے فوری طور پر اس کو چند منٹوں کے اندر گھر خالی کرنے کا نوٹس جاری کر دیتی ہےاور فلسطینی باشندہ نوٹس کے ملنے کے فوراً بعد اہلِ خانہ کے ہمراہ اس گھرکو خالی کرنے پر مجبور ہوجاتا کیونکہ ایسا نہ کرنے کی صورت میں اس کی زندگی کی پروا کیے بغیر ہی بمباری کر کے اس گھر ہی کو تباہ کر دیا جاتا ہے۔

اسرائیلی فوج بعض اوقات جان بوجھ کر ان فلسطینی باشندوں کو اتنا کم وقت دیتی
 ہے کہ اس دوران ان کے گھروں سے نکلنے کے امکانات ہی موجود نہیں رہتے ہیں کیونکہ اسرائیلی فوج دئیے ہوئے وقت سے پہلے ہی فضائی کارروائی کرتے ہوئے ایسے تمام فلسطینی باشندوں کو جان بوجھ کر ہلاک کررہی ہے تاکہ علاقے کو ان سے پاک کیا جائے تاکہ مستقبل میں ان آبائی باشندوں کا علاقے میں کوئی نام و نشان ہی باقی نہ رہے ۔ اسرائیل نے اس روئے زمین پر ظلم و ستم کا بازار گرم کر رکھا ہے لیکن اسرائیل کو روکنے والا کوئی نہیں ہے اور اسلامی ممالک کے حکمران بھی بے بس نظر آتے ہیں۔ اس ماہ رمضان کے دوران فلسطین کے مظلوم باشندے اسرائیل کے ظلم و ستم کا نشانہ بن رہے ہیں اور ان کی مدد کو کوئی بھی نہیں آرہا ہے ۔فلسطینی باشندے اسی ماہ رمضان میں اپنے اوپر ہونے والے ظلم و ستم سے بچنے کے لئے اپنے بھائیوں کی مدد کے منتظر ہیں۔لیکن عرب حکمرانوں پر بھی خاموشی طاری ہےآخر یہ بے حسی کب تک جاری رہے گی؟

اس موقع پر اگر کوئی مسلم رہنما فلسطینیوں کی مددکےلئے آگے بڑھا ہے تو وہ بلا شبہ ترکی کے وزیراعظم رجب طیب ایردوان ہی ہیں۔وزیراعظم ایردوان کو دنیا اس وقت سے جانتی ہے جب انہوں نے ڈیوس اقتصادی فورم کے موقع پر اسرائیل کے صدر شمعون پئیرز کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہا تھا ’’ آپ اسرائیلی، معصوم فلسطینی بچوں کو ہلاک کرنے کے فن میں ماہر ہیں‘‘۔ وزیراعظم ایردوان کے ان الفاظ نے وہاں بیٹھے اسرائیلی صدر کے چھکے چھڑا دئیے تھے اور ایردوان نے ان الفاظ کی ادائیگی کے بعد اس فورم ہی کو ترک کر دیا تھا۔ ایردوان کی مظلوم فلسطینیوں سے گہری محبت نے راتوں رات ایردوان کو عالم عرب کا بھی ہیرو بنا دیا تھا۔

یہ ہیرو ایک بار پھر ایک ایسے وقت میں غزہ کے فلسطینیوں کی حمایت میں اٹھ کھڑا ہوا ہے جبکہ عالم اسلام کے دیگر رہنما فلسطینیوں پر کیے گئے ظلم و ستم کے باوجود ٹس سے مس نہیںہورہے بلکہ ماہ رمضان کےموقع پر ان مظلوموں پر کیے جانے والے ظلم و ستم پر خاموشی اختیار کیے ہوئے ہیں ۔ وزیراعظم ایردوان نے اسرائیل کی جانب سے غزہ پر کئے جانے والے فضائی حملے کے پہلے روز ہی اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل بانکی مون کو ٹیلی فون کرتے ہوئے اسرائیل کے فضائی حملے فوراً رکوانے کی اپیل کی ( یہ الگ بات ہے کہ اقوام متحدہ اسرائیل کے ہاتھوں کھلونا بنی ہوئی ہے اور اقوام متحدہ کی کسی بھی قرارداد کی کوئی پروا نہیں ہے)لیکن ان کی یہ اپیل ابھی تک اپنا کوئی اثر نہیں دکھا سکی ہے ۔ اسی دوران وزیراعظم ایردوان نے فلسطین کے صدر محمود عباس کو ٹیلی فون کرتے ہوئے ہرممکنہ امداد فراہم کرنے کی یقین دہانی کروائی ا ور اسی دوران انہوں نے حماس کے سیاسی ونگ کے رہنما خالد مشل کو بھی ٹیلی فون کرتے ہوئے غزہ کی صورت حال کے بارے میں بات چیت کی۔ یہاں پر یہ بھی عرض کرتا چلوں کہ وزیراعظم ایردوان کی کوششوں ہی کے نتیجے میں صدر محمود عباس اور حماس کے رہنما اسماعیل حنیہ کے درمیان اختلافات کو دور کرتے ہوئے فلسطین کی سرزمین پر ایک مشترکہ سول حکومت قائم کرنے کی راہ ہموار ہوئی تھی اور اسرئیل کے حملوں سے قبل اس نئی حکومت تشکیل دینے کی تیاریوں کو مکمل کرلیا گیا تھا لیکن اسرائیل کو اس نئی حکومت کی تشکیل ایک آنکھ نہیں بھا رہی تھی۔ اسی لئے کہا جارہا ہے کہ اسرائیل نے جان بوجھ کر ایسے حالات پیدا کیے ہیں تاکہ فلسطین میں کوئی مشترکہ یا قومی اتحادی حکومت قائم نہ کی جا سکے جو مستقبل میں اسرائیل کے لئے خطر ناک ثابت ہو۔

اسی دوران اسرائیل کی جانب سے ترکی کے ساتھ تعلقات کو معمول کی سطح پر لانے سے متعلق کئی بار کی جانے والی اپیل پر ترکی کے وزیراعظم ایردوان نے اپنی صدارتی مہم کے دوران عوام سے خطاب کرتے ہوئے برملا طور پر اسرائیل پر واضح کردیا کہ ترکی اس وقت تک اسرائیل کے ساتھ اپنے تعلقات کو معمول کی سطح پر نہیں لاسکتا جب تک اسرائیل غزہ پر عائد پابندیوں کو ختم نہیں کر دیتا۔

وزیراعظم ایردوان نے غزہ میں کیے جانے والے غیر انسانی سلوک اور فضائی حملوں کو رکوانے کے لئے اپنی سفارتی کوششوں کو بھی جاری رکھا ہوا ہے ۔ انہوں نے اس سلسلے میں فرانس کے صدر فرانسواں اولینڈ اور قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔وزیراعظم ایردوان نے فرانس کے صدر فرانسواں اولینڈ کو یورپی یونین کے توسط سے اسرائیل پر اپنا دبائو ڈالتے ہوئے فضائی حملوں کو فوراً رکوانے کی اپیل کی ہے اور 2012ء میں طے پانے والے فائر بندی کے سمجھوتے پر عمل درآمد کرنے کی ضرورت پر زور دیا ہے جبکہ قطر کے امیر تمیم بن حماد الثانی سے عرب لیگ کا اجلاس منعقد کرتے ہوئے عرب ممالک کا مشترکہ موقف اختیار کرنے اور اپنے اوپر عائد ہونے والے فرائض ادا کرنے کی بھی ضرورت پر زور دیا ہے۔

ترکی نے اس دوران غزہ کے فلسطینیوں کی امداد کا سلسلہ بھی جاری رکھا ہوا ہے۔ ترکی کے کوآپریشن اینڈ کوآرڈی نیشن ادارے تیکا نے غزہ میں اپنا ایک امدادی دفتر قائم کر رکھا ہے اور ترکی نے اپنے اس ادارے کے توسط سے عالمی ادارہ صحت ڈیڑھ ملین ڈالر کی امداد فراہم کی ہے تاکہ غزہ میں دوائوں کی کمی کو دور کیا جا سکے اور زخمیوں کاعلاج معالجہ کیا جاسکے ۔ اس کے علاوہ ترکی کے اسی ادارے نے غزہ کے باشندوں کی غذائی ضروریات کو پورا کرنے کے لئے ایک ملین ڈالر فراہم کیے ہیں۔ اسی دوران حکومت ِ ترکی نے حکومتِ فلسطین کے ساتھ گہرا رابطہ قائم کررکھا ہے اور علاقے کی صورتِ حال کے بارے میں صلاح و مشورے کی غرض سے فلسطین کے صدر مملکت محمود عباس اٹھارہ جولائی بروز جمعہ ترکی کے دورے پر تشریف لا رہے ہیں۔ صدر محمود عباس کے دورہ ترکی کے دوران غزہ کی صورتِ حال کا تمام پہلوئوں سے جائزہ لینے کے علاوہ فلسطین میں ایک قومی اتحاد حکوت کی تشکیل کے بارے میں غور کیے جانے کی توقع کی جا رہی ہے۔

ڈاکٹر فرقان حمید
بہ شکریہ روزنامہ ’’جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.