Header Ads

Breaking News
recent

غزہ پر صہیونی ریاست کی وحشیانہ بمباری.......


جولائی بروز بدھ صہیونی ریاست نے غزہ کی شہری آبادی پر وحشیانہ فضائی اور بحری بمباری کر کے ایک دن میں 3 عورتوں اور بچوں کے بشمول 35 شہریوں کو ہلاک جبکہ تین دن سے جاری اس خونیں کھیل میں 61 فلسطینی لقمۂ اجل بن گئے اور 370سے زائد زخمی ہو گئے۔ اسرائیل کا کہنا ہے کہ وہ صرف حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ ان کی جانب سے اسرائیل کی سرزمین پر راکٹ باری ہوتی رہی ہے۔ صہیونی حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس کی کارروائی کا مقصد اسرائیل پر راکٹ حملے روکنا ہے چنانچہ 7،8 جولائی اس نے 430 مقامات کو نشانہ بنایا ہے جبکہ 9 جولائی کو مزاحمت کاروں کے 270 سے زائد ٹھکانوں کو تباہ کر دیا۔ دو حملہ آور اسرائیلی طیاروں نے 9 جولائی کی صبح بیت حنون میں حماس کمانڈر حافظ احمد کے گھر پر بمباری کر کے ان سمیت پانچ اہل خانہ کو موت کے گھاٹ اتار دیا اور اسرائیلی بحریہ کے حملوں میں حماس کے چار عسکریت پسند مارے گئے۔ اس سے قبل 7 جولائی کو اسرائیل لڑاکا طیاروں نے حماس کے عسکری دھڑے عزالدین قسام کے 9 جنگجوؤں کو ہلاک کر دیا۔ لیکن اسرائیل کا یہ کہنا غلط ہے کہ وہ صرف حماس کے عسکریت پسندوں کو نشانہ بنا رہا ہے کیونکہ جولائی کے پہلے ہفتے میں اسرائیلی حملے میں 16 فلسطینی بشمول عورتیں اور بچے ہلاک ہو گئے تھے جبکہ 9 جولائی بدھ کے فضائی اور بحری حملوں میں پچاس گھر مکمل طور پر تباہ کر دیئے گئے اور ایک ہزار سات سو گھروں کو شدید نقصان پہنچا ہے۔

حالیہ جھڑپوں کے دوران حماس عسکریت پسندوں نے اسرائیلی سر زمین پر اب تک ڈیڑھ سو راکٹ برسائے جس پر اقوام متحدہ کا سیکرٹری جنرل چیخ پڑا کہ خبردار راکٹ باری نہیں ہونی چاہیے اور متحاربین تشدد سے گریز کریں۔ میں غزہ اسرائیل کی ہفتہ وار فضائی اور بحری بمباری سے ہونے والے جانی اور مالی نقصانات کا مندرجہ بالا سطور میں اجمالی ذکر کر چکا ہوں اور اس کے مقابلے میں فلسطینیوں کی راکٹ باری سے ایک شخص بھی ہلاک نہیں ہوا تو ان دونوں کو مساوی جرائم کیوں کر قرار دیا جا سکتا ہے؟ نیز اسرائیل نے اپنی چالیس ہزار فاضل فوج (Reserve Force) طلب کر لی ہے جبکہ غزہ کی سرحد پر مزید ٹینک تعینات کر دیئے ہیں۔ کیا یہ وسیع تر جنگ کی تیاری نہیں ہے؟ ماضی میں اسرائیل 2008ء اور 2012ء میں غزوہ پر فوج کشی کر چکا ہے ۔ 2012ء میں اسرائیل غزہ پر بھرپور حملہ کرنے کے لیے پر تول رہا تھا تو مصر اور ترکی کے دباؤ پر حماس اور اسرائیل میں ان شرائط پر جنگ بندی ہو گئی تھی کہ:

(1) صہیونی ریاست غزہ کی ناکہ بندی ختم کر دے جبکہ
(2) حماس اسرائیل کی سرزمین پر راکٹ حملے نہ کرے۔ حماس نے توراکٹ باری بند کر دی لیکن صہیونی ریاست نے غزہ کی ناکہ بندی ختم نہیں کی۔

اسرائیل سلامتی کونسل کی قرار داد اور جنیوا کنونشن چہارم کی خلاف ورزی کرتے ہوئے مغربی کنارے اور مشرقی یروشلم میں عربوں کو ان کی زمینوں سے بے دخل کر کے امریکی مالی امداد کی رقم سے یہودی بستیاں تعمیر کرتا رہا ۔مذاکرات کی بحالی کو یہودی بستیوں کی تعمیر کے خاتمے سے مشروط کرنا پڑا۔ لیکن امریکہ نے نیتن یاہو کو یہودی بستیوں کی تعمیر سے روکنے کی بجائے محمود عباس پر دباؤ ڈال کر اس شرط پر مذاکرات میں حصہ لینے پر راضی کر لیا کہ اسرائیل یہودی بستیوں کی تعمیر کی رفتار سست کر دے گا اور محمود عباس راضی ہو گئے ۔ اب جبکہ الفتح اور حماس میں کئی سال کی محاذ آرائی کے بعد مفاہمت ہو گئی تو امریکہ اور صہیونی ریاست نے دونوں کی مخلوط حکومت کی اس بنا پر مخالفت کی کہ اس دہشت گرد تنظیم جس کے ساتھ الفتح کو حکومت نہیں بنانا چاہیے۔ صہیونی جارحیت کا الٹا اثر ہوا کہ محمود عباس نے اقوام متحدہ کے نمائندے برائے فلسطین رابرٹ سرے کے ہاتھ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کو مراسلہ بھیجا ہے جس میں کہا گیا ہے کہ غزہ کی شہری آبادی پر صہیونی بمباری کے نتیجے میں پیدا شدہ تباہ کاری کی انکوائری کرائی جائے ۔ جب سے الفتح اور حماس کے مابین مفاہمت ہوئی ہے تو وہ ایک زبان ہو کر عالمی تنظیم سے اسرائیلی جارحیت کے سدباب کا مطالبہ کر رہے ہیں جبکہ مصر اور اردن نے بھی غزہ پر اسرائیلی حملے کی مذمت کی ہے۔ (اسلام 10 جولائی 2014ء) یہ سب اپنی جگہ درست لیکن حماس کو بھی بلاوجہ اسرائیل کو اشتعال دینے سے احتراز کرنا چاہیے۔ مثلاً اسرائیلی نوجوانوں کا اغوا اور قتل انتہائی مذموم فعل ہے جتنا ابو قبطر کے انتہا پسند یہودیوں کے ہاتھوں زندہ جلانا۔

یہ ماننا پڑتا ہے کہ اس بار نیتن یاہو نے فلسطینی نوجوان کے اغوا اورقتل کا سخت نوٹس لیتے ہوئے اس غیر انسانی فعل کے مرتکب یہودیوں کو قانون کے کٹہرے میں کھڑا کرنے کے عز م کا عملی مظاہرہ کیاہے جبکہ اسرائیلی پولیس نے چھ مشتبہ یہودیوں پر ابو قبطر کے اغوا اور قتل کی فرد جرم عائد کر دی ہے۔ ادھر یہودی ریاست پر بھی لازم ہے کہ اب وہ فلسطینی ریاست کے قیام میں مزاحمت نہ کرے ورنہ مقبوضہ علاقے کی آبادی قابض ریاست کے خلاف مسلح جدوجہد پر مجبور ہو جائے گی کیونکہ بیرونی فوجی قبضہ خالی کرانے کے لیے مسلح جدوجہد کے علاوہ اور کوئی راستہ نہیں ہے ۔ مانا کہ اسرائیل اپنی عسکری برتری سے فلسطین کو کھنڈر بنا سکتا ہے لیکن وہ بیس لاکھ فلسطینیوں کو صفحۂ ہستی سے نہیں مٹا سکتا۔ ایسا معلوم ہوتا ہے کہ اسرائیل شام اور عراق کی خانہ جنگی میں ملوث عرب اور علاقائی ریاستوں کے باہمی اختلافات کا فائدہ اٹھاتے ہوئے حماس کی کمر توڑنا چاہتا ہے کیونکہ وہ سمجھتا ہے کہ مندرجہ بالا بحران کے باعث بڑی طاقتوں کی توجہ فلسطین پر مرکوز نہیں ہو گی اس لیے وہ مقبوضہ فلسطینی علاقوں میں موجود حریت پسندوں کا قلع قمع کر دینا چاہتا ہے لیکن جب حریت پسندوں کی جڑیں عوام میں پیوست ہوں تو انہیں ختم نہیں کیا جا سکتا۔ افغانستان اور عراق میں امریکہ اور نیٹو کی عبرتناک شکست استعمار کے مہم جوؤں کی ہمت شکنی کے لیے کافی ہے۔ کیا اس کے باوجود امریکہ یورپی استعمار اس غلط فہمی کا شکار ہے کہ وہ جس ملک اور قوم کو چاہے ان کی تسخیر کر سکتا ہے۔ اگر ایسا ہوتا تو امریکہ ویتنام، افغانستان اور عراق کے میدان جنگ سے راہ فرار نہ اختیار کرتا۔

بہ شکریہ روزنامہ ’’نئی بات 

No comments:

Powered by Blogger.