Header Ads

Breaking News
recent

عراقی وزیر اعظم اور داعش کی کامیابیاں.........

عراقی وزیر اعظم نوری المالکی کی فرقہ واریت پر مبنی داخلی پالیسی رواں ہفتے اس وقت بری طرح ناکام ہوئی جب مسلکی بنیادوں پر منظم کردہ عراقی فوج دولت عراق و شام 'داعش' کے جنگجووں کا سامنے ایک ہی آن میں ڈھیر ہو گئی۔

عراق کے دوسرے بڑے شہر موصل، صدام حسین کے آبائی علاقے تکریت اور تیل کی دولت سے مالا مال کرکوک میں عراقی فوجی یونٹوں کے سقوط نے سنہ 2003ء میں بغداد کے صدر دروازے پر صدام حسین فوج کے سقوط کی یاد تازہ کر دی۔

سنہ 2003ء میں عراقی فوج روس کے زنگ آلود اسلحہ سے لیس تھی اور چند ہی سال قبل ہمسایہ ملک ایران اور کویت سے دو بڑی جنگیں لڑنے کی وجہ سے بے حال تھی۔ صدام حسین کی فوج کا مقابلہ دنیا کی طاقتور ترین فوج کے ساتھ تھا، اس لئے اس کی شکست پر بہت سوں کو زیادہ حیرانی نہیں ہوئی۔

نوری المالکی کی فوج صدام حسین کی فوج سے مختلف ہے۔ اس کے پاس امریکی ساختہ اپاچی ہیلی کاپٹرز، گن شپ، ایف سولہ لڑاکا جہاز، ابرم اور ہمویز ٹینکوں سمیت جدید امریکی اسلحہ کی بھرمار ہے۔ قابض امریکی حکام نے عراقی فوج کی تعمیر نو پر تقریباً سولہ ارب ڈالر جھونک دیئے۔ واشنگٹن کو یہ امید تھی کہ یہ فوج جدید عراق کا مضبوط سہارا بنے گی۔

خطیر رقم خرچ کر کے تیار کی جانے والی نوری المالکی کی فوج مسلح جہادیوں کا ذرا بھی مقابلہ نہیں کر سکی کیونکہ داعش کے جنگجووں نے بہت کم ہی عرصے میں ایک کے بعد دوسرے اہم عراقی شہروں پر قبضہ کر لیا۔

منگل کی صبح سرکاری فوجیوں نے شمالی عراق کا شہر موصل چھوڑ دیا۔ جاتے ہوئے وہ اپنی گاڑیاں، گولہ بارود حتی کہ وردیاں تک چھوڑ گئے۔ فوج کے متعدد سرکردہ کمانڈر مبینہ طور پر کردوں کے زیر کنڑول علاقوں کی جانب فرار ہوتے دیکھے گئے۔

ویڈیو فوٹیج میں داعش کے جنگجو عراقی فوج کی متروکہ گاڑیوں میں موصل کی سڑکوں پر گشت کرتے نظر آئے۔

نوری المالکی نے اپنی فوجی یونٹوں کی شکست کو 'سازش' کا نتیجہ قرار دیا حالانکہ عراقی فوج انہی کے ہم مسلک شیعہ اہلکاروں پر مشتمل تھی۔ غیر جانبدار مبصرین کا کہنا ہے کہ نوری المالکی متاثرہ شہروں میں فوجی سقوط کے خود ذمہ دار ہیں کیونکہ انہوں نے فوج کو کسی نظم و ضبط اور ٹھوس فوجی نظریئے کی بنیاد پر استوار کرنے کے بجائے اس میں مسلکی بنیادوں پر بھرتی میں عافیت جانی۔

حواس باختہ نوری المالکی نے بدھ کے روز ملک میں ہونے والی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "القاعدہ اور داعش کی افرادی قوت سرکاری فوج اور پولیس کے مقابلے میں انتہائی کم تھی، لیکن پھر کیا ہوا اور کیونکر ہوا؟ کیسے کچھ فوجی یونٹ آنا فانا ہتھیار ڈالتے گئے؟ مجھے اس کی وجہ معلوم ہے، تاہم آج ہم اس اقدام کرنے والوں کو ذمہ دار نہیں ٹھرائیں گے۔"

وزیر اعظم نوری المالکی نے دوسرا سانس لئے بغیر کہا کہ "فوج، پولیس اور سیکیورٹی فورسز ان کے [داعش] کے مقابلے میں زیادہ مضبوط ہیں، تاہم وہ ایک دھوکے اور سازش کا شکار ہوئے۔ ان شاء اللہ، ہم اپنی طاقت، عوامی عزم اور عراقی قوم کے ارادے کو بروئے کار لاتے ہوئے داعش کا خاتمہ کریں گے۔"

ناکام ریاست

بغداد میں مقیم سیاسی تجریہ کار عدنان حسین قدہم نے 'العربیہ' کو بتایا کہ فوجی ناکامی اس کمزور سیاسی عمل کا نتیجہ تھی جسے نوری المالکی نے سنہ 2006ء سے اختیار کر رکھا تھا۔

عدنان حسین کے بقول: "مسلکی بنیادوں پر اختیارات کی تقسیم نے معاشرے کے مختلف شعبوں کے درمیان رسہ کشی کی صورتحال پیدا کر دی تھی۔" انہوں نے مزید کہا کہ مسلکی بنیادوں پرکھڑی کی گئی فوج میں کرپشن بہت زیادہ سرایت کر چکی تھی۔ فوجی کمانڈروں کا تعین صلاحیت کے بجائے ان کی مسلکی وابستگی کو مدنظر رکھ کر کیا جاتا تھا۔ اس طرح تشکیل پانے والے ادارے سے آپ موثر کارکردگی کی توقع کیونکر رکھ سکتے ہیں۔"

شیعہ رہنما مقتدا الصدر کی سیاسی تحریک کے قریب سمجھے جانے والے تجزیہ کار حیدر موسوی نے صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ "زیادہ تر فوج اہل تشیع پر مشتمل تھی جس سے دنیا کو یہی تاثر ملتا تھا کہ ایک عرب ملک میں یہی مسلک اکثریت کا حامل ہے۔"

حیدر موسوی کے مطابق فوج میں زیادہ تر افراد مادی ضرورتوں کی تکمیل کی خاطر بھرتی جاتے تھے، یہ افراد امریکی قیادت میں عراق پر حملے کے بعد پیدا ہونے والی معاشی بدحالی سے بری طرح متاثر تھے۔ معاشی آسودگی فراہم کرنے کے لئے انہیں فوج میں بھرتی کیا جاتا۔"

نوری المالکی نے اپنی نشری تقریر میں اعلان کیا تھا کہ جن علاقوں کو داعش کے جنگجووں نے اپنے کنڑول میں لے لیا ہے وہاں وہ باقاعدہ فوج کے مدد کے لئے 'رضاکاروں' کی فوج بھی تیار کریں گے۔

موسوی نے خدشہ ظاہر کیا کہ اس طرح نوری المالکی شیعہ مسلکی مذہبی رضاکاروں پر مشتمل ایک متوازی فوج بنا لیں گے جو ان کی دانست میں القاعدہ نواز دولت اسلامی عراق و شام 'داعش' کے جنگجووں کی بیخ کنی کر سکے گی۔

انہوں نے کہا کہ اگر اگلے چند ہفتے یہی صورتحال برقرار رہتی ہے تو شیعہ مسلک دینی جماعتیں سنی مسلک داعش جنگجووں کے زیر قبضہ علاقوں میں سیکیورٹی فورسز کی مدد کے لئے اپنی ملیشیا بھیج سکتے ہیں۔

خانہ جنگی؟

اردن میں مقیم سیاسی تجزبہ کار احمد العبیاد نے خبردار کیا ہے کہ عراق میں فرقہ وارانہ بنیادوں پر کسی بھی قسم کی موبلائزیشن سے ملک کئی برسوں تک نہ ختم ہونے والی خانہ جنگی میں الجھ جائے گا۔

انہوں نے کہا کہ داعش کے زیر قبضہ علاقوں میں اگر مقامی عناصر ان کے ہمنوا بن گئے تو اس کے بعد مرکزی حکومت کو وہاں اپنی رٹ نافذ کرنے میں دشواری ہو سکتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ موجودہ صورتحال عراق کی 'نرم تقسیم' کے اس امریکی خواب کی تکمیل ہے کہ جس کا تانا بانا امریکی نائب صدر جو بائیڈن نے سنہ 2007 میں بنا تھا۔

یہ منصوبہ سنہ 1995ء میں بوسینیا کی تقسیم کے منصوبے سے ہم آہنگ دکھائی دیتا ہے جس کا مقصد عراق کو خود مختار کرد، سنی اور شیعہ علاقوں میں تقسیم کرنا ہے، جنہیں بغداد کی مرکزی حکومت یکجا رکھے۔

No comments:

Powered by Blogger.