Header Ads

Breaking News
recent

بشار الاسد اپنے آخری خطرناک ہتھیار حوالے نہیں کریں گے........


آیندہ چند ہفتے اور مہینے شام کے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں کی تلفی کے ضمن میں فیصلہ کن ثابت ہوسکتے ہیں۔ان خطرناک ہتھیاروں میں سے ایک چوتھائی ابھی تک بشارالاسد کے پاس ہیں اور ان کی حکومت دنیا کو ڈرانے دھمکانے کے لیے انھیں اپنے پاس ہی رکھنا چاہتی ہے۔

شام کی سرکاری خبررساں ایجنسی سانا نے منگل کو اطلاع دی ہے کہ کیمیائی ہتھیاروں کی تلفی کے کام کی نگرانی کرنے والے بین الاقوامی مبصرین کو اغوا اور قتل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔یہ واقعہ شاید اس بات کا اشارہ ہو سکتا ہے کہ شامی حکومت مبصرمشن میں سے جو باقی لوگ رہ گئے ہیں،ان کے کام میں رکاوٹیں حائل کرنے کی تیاری کررہی ہے۔

شامی صدر بشارالاسد کے گوداموں میں مہلک کیمیائی اور حیاتیاتی ہتھیاروں کی بھاری مقدار موجود ہے۔ان میں عالمی جنگ کی باقیات میں سے مسٹرڈ گیس ہے۔حال ہی میں تیار شدہ سیرن اور بوٹولینم ٹاکسن ایسی خطرناک گیسیں ہیں۔پورے پورے شہر کو زہرآلود کرنے کے لیے ان کے چند ایک قطرے ہی کافی ہیں۔شامی رجیم کے پاس انتھراکس جیسے حیاتیاتی ہتھیار ہیں۔اس نے ایسا بیکٹریا تیار کررکھا ہے جس سے طاعون سے ہیضے تک وبائی امراض پھیلائے جاسکتے ہیں۔ان کے علاوہ ایبولا نامی وائرس بھی ہے۔

گذشتہ سال اس وقت تک کسی نے بھی شامی رجیم سے درپیش اس خطرے کو سنجیدگی سے نہیں لیا تھا،جب تک اس نے دمشق کے نواحی علاقے الغوطہ میں سیرن گیس کا استعمال نہیں کیا تھا۔اس حملے کے نتیجے میں پندرہ سو کے لگ بھگ افراد کی حالت غیر ہوگئی تھی اور ان میں اکثریت خواتین اور بچوں کی تھی۔

مشکل اور خطرناک مشن

گذشتہ سال اکتوبر سے بین الاقوامی مبصرین شام کے کیمیائی ہتھیاروں کی بیرون ملک منتقلی کے ایک مشکل اور خطرناک مشن پر عمل پیرا ہیں۔ان مبصرین کا خیال ہے کہ انھوں نے بشارالاسد کے گوداموں سے ان کیمیائی ہتھیاروں کی بھاری مقدار کو منتقل کردیا ہے لیکن ان کیمیائی ہتھیاروں کے بارے میں حالیہ مہینوں سے قبل کوئی بھی نہیں جانتا تھا۔

تاہم اگر ان ہتھیاروں کی تھوڑی بہت مقدار ملک میں رہ گئی ہے تو اس کو تھوڑا نہیں سمجھںا چاہیے کیونکہ یہ تھوڑی مقدار بھی ہزاروں افراد کے قتل عام کے لیے کافی ہے۔مزید برآں ہم ان ہتھیاروں کے صرف اس ذخیرے کی بات کررہے ہیں جس کے بارے میں بتایا گیا ہے یا جو دریافت ہوا ہے۔

شامی حکومت یقینی طور پر تزویراتی ذخیرہ گاہوں میں دوسرے ہتھیاروں کو چھپا رہی ہے تاکہ انھیں فیصلہ کن کامیابی کے لیے وقتِ ضرورت بروئے کار لایا جاسکے۔وہ ان ہتھیاروں کو استعمال کرسکتی ہے اور پھر القاعدہ یا دولت اسلامی عراق وشام (داعش) یااس طرح کے کسی بھی اور فریق پر ان کا الزام عاید کرسکتی ہے۔

امریکی وزیردفاع چَک ہیگل نے منگل کے روز بزعم خویش یہ کہا ہے کہ امریکا نے اپنا اثرورسوخ اور اہمیت کھوئی نہیں ہے۔لیکن کیسے؟ انھوں نے کہا کہ شامی حکومت نے امریکی دھمکیوں کے خوف سے بڑے محکومانہ انداز میں اپنے وسیع پیمانے پر تباہی پھیلانے والے ہتھیار حوالے کرنے پر آمادگی ظاہر کی تھی۔یہ درست ہے کہ شامی حکومت کو امریکی طاقت کا خطرہ تھا لیکن کیا یہ طاقت استعمال بھی کی جائے گی،وہ ایسا خیال نہیں کرتی ہے۔

اس کا ثبوت یہ ہے کہ اس نے اپنے کیمیائی ہتھیاروں کو ٹھکانے لگانے کے لیے معاہدے پر گذشتہ سال ستمبر میں دستخط کیے تھے لیکن وہ تب سے اس پر عمل درآمد میں پس وپیش سے کام لے رہی ہے اور تاخیری حربے استعمال کررہی ہے۔غالباً ہیگل یہ بات نہیں جانتے ہیں کہ شامی رجیم نے غوطہ میں کیمیائی ہتھیاروں کے حملے کے جرم سے اپنے اقتدار کو طول دینے کے لیے فائدہ اٹھایا ہے۔وہ اس طرح کہ وہ اپنے اتحادیوں سے افرادی قوت اور ہتھیاروں کے حصول کے لیے وقت گزاری میں کامیاب رہا ہے۔

اسد رجیم نے کیمیائی ہتھیاروں کی تباہی کے لیے معاہدے پر دستخط کے باوجود کلورین اور مسٹرڈ گیس کے استعمال کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے۔یہ اور بات ہے کہ ان کی کم مقدار استعمال کی جارہی ہے۔سب سے اہم بات یہ ہے کہ وہ اس معاہدے کی مدد سے دوسرے تباہ کن طریقوں کو استعمال میں لانے میں کامیاب رہا ہے۔انہی کی بندولت اس نے غوطہ اور حمص وغیرہ میں اپنی شکستوں کو فتوحات میں تبدیل کر لیا ہے۔

کیا چک ہیگل یہ نہیں دیکھ رہے ہیں کہ اسد رجیم نے کیمیائی ہتھیاروں سے فائدہ اٹھایا ہے،وہ اپنی حکمرانی کو طول دینے میں کامیاب رہا ہے اور اس کو کسی بین الاقوامی جوابی کارروائی سے بھی تحفظ مل گیا ہے۔اب ہم سب یہ دیکھ سکتے ہیں کہ اسد رجیم بڑے پیمانے پر جنگ کے بغیر اپنے حیاتیاتی اور کیمیائی ہتھیاروں کو حوالے نہیں کرے گا۔





 

No comments:

Powered by Blogger.