Header Ads

Breaking News
recent

سندھ کا قحط اور قیادت

ہم نے حکومتی نکمے پن کے کئی مظاہر ے دیکھے ہیں۔ بلکہ اتنے دیکھے ہیں کہ اب یاد کرنا بھی محال ہے کہ ان میں سے سب سے حیرت انگیز کون سے تھے۔ بدقسمتی سے اس نہ ختم ہونے والے سلسلہ ہائے نکما پن میں ہر روز تیزی سے اضافہ ہی ہو تا ہے۔ یہ عمل آہستہ ہوتے ہوئے بھی نظر نہیں آ رہا ہے۔ حکومت سندھ کو لیجیے، خوراک کی کمی کے باعث 130 کے لگ بھگ بچوں کی ہلاکتوں کی خبر نے دوسرے مسائل کے ساتھ ایک بڑے مسئلے کو جنم دے دیا ہے جس سے متعلق عوامی نمایندگان کوئی فیصلہ نہیں کر پا رہے ہیں۔ یہ فیصلہ بچوں کی اموات کو بیان کرنے کا ہے۔ تمام تر حکمت کو بروئے کار لانے کے باوجود یہ حکومت یہ فیصلہ نہیں کر پا رہی کہ اس کو خوراک کی کمی کہا جائے، قحط کہا جائے، بدلتے ہوئے موسم کا نتیجہ بیان کیا جائے یا یہ کہہ دیا جائے کہ اس غربت زدہ علاقے میں تو ایسا ہی ہوتا رہتا ہے۔

قحط کی خبر سامنے آئی تو جیالوں نے ہر طرف امدادی کیمپ لگا دیے۔ وزیر اعلی فوراً متحرک ہو گئے اور اپنے مشیران اور قریبی دوستوں کے ساتھ اس علاقے میں جا پہنچے۔ ایک آدھ چھوٹے افسر کو معطل کیا، کسی کو کان پکڑ کر باہر نکال دیا، کسی کو دھمکی دی، اور کسی کی سرزنش ہوئی۔ امداد کا علان بھی کر دیا گیا۔ مگر جب اس تمام ہنگامے میں یہ زاویہ سامنے آیا کہ قحط کی تہمت سیاسی طور پر ایک اسکینڈل میں تبدیل ہو سکتی ہے تو مختلف قسم کی تردیدیں اور وضاحتیں سامنے آنے لگیں۔ اب بتایا جا رہا ہے کہ قحط نہیں کچھ خشک سالی تھی، موسم کی خرابی اور کچھ گندم کی مقامی طور پر فراہمی کے نظام میں کمزوری۔ خشک سالی پر محکمہ موسمیات نے وضاحت کر دی اس علاقے کی بارش کی اوسط معمول کے مطابق ہے۔ موسم کے تغیر و تبدل نے ان اموات میں کوئی بڑا کردار ادا نہیں کیا۔ ظاہر ہے جو بھی ہوا اُس کا تعلق انسانوں کے بنائے ہوئے اُس نظام سے ہے جس میں انسانیت نام کی کوئی چیز نہیں ہے۔

پاکستان بھر میں مختلف حلقوں کے مسائل کچھ ایسے ہی ہیں۔ مگر اس سندھ میں چونکہ سیاسی طور پر اپنے حقوق کا ادارک رکھنے کا عمل دوسرے صوبوں کی نسبت گہرا ہے لہذا یہاں پر اس قسم کے واقعہ کا ہو جانا بالخصوص افسوسناک ہے۔ قائم علی شاہ کی حکومت شہباز شریف کی حکومت کی طرح چھٹے سال میں داخل ہو رہی ہے۔ اندرون سندھ سے پیپلز پارٹی نے اپنے اتحادیوں کے ساتھ سیاسی عمل پر اپنی گرفت بدترین حالات میں بھی کمزور نہیں ہونے دی۔ چاہے اُس اتحاد کی نوعیت کچھ بھی ہو۔ وقتی ضرورت کے تحت بننے والے تعلقات بھی سیاسی جماعتوں کو زمینی حقائق کے قریب ترین رکھتے رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو جن افسوس ناک حالات میں اللہ کو پیاری ہوئیں اُس کے بعد پیپلز پارٹی کی سندھی قیادت جذباتی طور پر یہاں کے عام لوگوں کے ساتھ اپنا تعلق مزید گہرا کرنے میں بھی کامیاب ہوئی۔ پھر صدر آصف علی زرداری کے دور میں تو یہ تمام علاقے اُس سیاسی باغ کی طرح استعمال ہوتے رہے جس کا ہر پھل نفع اور نقصان کے کھاتوں میں درج کیا جاتا ہے۔ دوسرے الفاظ میں وہ خاندان جن کے بچے اپنی اور اپنی مائوں کی ضروریات پوری نہ ہونے کی وجہ سے قبل از وقت زندگی کی جنگ ہار گئے دور دراز گوٹھوں میں رہنے کے باجود ہر ایک کے سیاسی ریڈار پر موجود تھے۔ یہ کیسے ہو سکتا ہے کہ ان کے حالات اور اِن پر ٹوٹنے والے پہاڑ اُن نمایندگان کی نظروں سے اوجھل ہوں جو ہر وقت اپنے ہم وطنوں کے حقوق کے تحفظ کی تسبیح پڑھتے رہتے ہیں۔

مگر ایسے ہی ہوا کیونکہ حقیقت دعووں سے بالکل مختلف ہے۔ سندھ کے اصل باشندے جن کو دوسرے صوبوں کے استحصال کے خوف میں برسوں مبتلا رکھا گیا ہے، اصل میں اپنے نام نہاد مسیحاوں کے سیاسی غلام بنے ہوئے ہیں۔ اُن کا سیاسی استحصال جذبات ابھار کر کیا جاتا ہے۔ اُن کی بھوک اور ذلت کو اس وجہ سے برقرار رکھا جاتا ہے کہ اُن پر مسلط طبقوں کے سیاسی نعرے کرارے رہیں۔ گندم اور چاول اُن کے گھروں سے دور رکھے جاتے ہیں تاکہ وہ مقامی طاقتور ظالمین کے گھٹنے چھوتے رہیں۔ اور ہمیشہ یہ محسوس کریں کہ یہ سب کچھ کیے بغیر وہ سانس بھی نہیں لے سکتے۔ وہ ووٹ بھی اپنی مجبوری اور بے کسی میں انھیں کو دیتے ہیں جو اپنے استحصال کی وجہ سے ان کے بچوں کی روح قبض کرتے ہیں۔ یہ ایک عجیب و غریب سیاسی سلسلہ ہے۔ جس میں بے مراد لوگ مراد پانے کے لیے اُنہیں ڈیروں پر حاضری دیتے ہیں جو اُن کی تباہی کے ذمے دار ہیں۔ تمام وسائل سیاسی بازی گروں نے طرح طرح کے حیلے استعمال کرتے ہوئے اپنے ہاتھ میں رکھے ہوئے ہیں۔

سندھی تاش کے پتوں کی طرح ہیں جن کو ہر کوئی اپنی مرضی کے مطابق کھیلتا ہے۔ اس تمام تماشے کی جڑوں تک پہنچنے کے لیے آپ کو تحقیق کرنے کی ضرورت نہیں جو سیاست دان ہر وقت سندھ کے استحصال کی بات کر تے ہیں اُن کا رہن سہن تو دیکھیں، ذخائر سونے کے ہوں یا خوراک کے، کھیت کھلیانوں کی وسعت ہو یا مزارعوں کی تعداد ہر جگہ پر آپ کو دولت، راحت اور عیاشی ناچتی ہوئی نظر آتی ہے۔ مگر چھوٹے پن کا یہ عالم ہے کہ گندم کیڑوں کو کھانے کے لیے فراہم کر دیں گے ‘انسان کے بچے تک پہنچنے کا انتظام نہیں کریں گے۔ گھوڑوں کو مربے کھلا کر پالتے ہیں، غریب سندھیوں کی اولاد کو گوبر چننے پر لگا یا ہو اہے۔ اس کم بخت نظام کو ثقافت کا نام دے کر قابل دفاع یا قابل قبول بنایا جاتا ہے۔ جب کوئی تنقید کرتا ہے تو اُس کو سندھ صوبے کے خلاف سازش قرار دیتے ہیں۔ جب اِن کے نعروں کے کھو کھلے پن کو سامنے لایا جاتا ہے تو ہر گھر پر اپنا جھنڈا لہرانے لگتے ہیں۔ کوئی سیاسی پیر ہے اور کوئی گدی نشین ہے۔ کوئی انگریزوں کا بنایا ہو ا جاگیردار ہے اور کسی نے قتل کر کے زمینیں سنبھالی ہو ئی ہیں۔ قحط کی وجہ یہ لوگ ہیں۔

قدرت نے وسائل سب کے لیے یکساں پیدا کیے ہیں کسی کو کسی پر فوقیت نہیں دی۔ کسی کو اپنے وسائل کا داروغہ نہیں بنایا۔ قدرت کے امتحان بھی سب کے لیے یکساں ہیں مگر زمین پر انصاف کی کمی، لالچ، حرص اور ظالموں کے قبیلے نے انسان کو جانوروں سے بدتر حالت میں رکھتے ہوئے اپنی طاقت کو دوام دیا ہے۔


دنیا میں ایک تحقیق کے مطابق اصل جمہوریت کے ہوتے ہوئے قحط کی صورت حال کے باوجود لوگ بھوکے نہیں مر سکتے کیونکہ مشکل ترین حالات میں کسی بھی جگہ یا اُس کے اردگرد وسائل یا مواقع یقینا موجود ہوتے ہیں جن کو بروقت تقسیم کر کے حالات پر قابو پایا جا سکتا ہے۔ اس بروقت تقسیم میں ریڑھ کی ہڈی کا کردار نمایندگی کا وہ نظام ہے جو لوگوں کے ووٹوں اور اُن کی منشاء سے مرتب ہوتا ہے۔ اصل جمہوریت قحط کے خلاف سب سے بڑا اور موثر بند ہے اس پیمانے کو لے لیں تو آپ خود ہی طے کر پائیں گے کہ ہمارے ہاں کیسی اور کس کی جمہوریت ہے۔جب لوگوں کی بنیادی ضروریات ایسے پوری نہ ہوں کہ وہ ہمیشہ جانکنی کے عالم میں رہے تو اس نظام کو جمہوری کہنا بڑے جرم کے زمرے میں آتا ہے۔ ان حالات میں سندھ کے قوم پرستوں کی ذمے داری بھی بنتی ہے۔ جو انھوں نے پوری نہیں کی۔

سندھ کے پسے ہوئے عوام کو اچھی متبادل قیادت کی ضرورت ہے۔ وہ لوگ جو نظریاتی طور پر عوامی مسائل کو سمجھتے بھی ہیں اور حل کرنے کی جستجو کا راستہ بھی جانتے ہیں اُن کو اپنا کردار جلد اور موثر انداز سے ادا کر نا چاہیے تھا۔ ایسا نہیں ہوا بیانات پر زور زیادہ ہے کام پر کم، انقلابی تحریر اور تقریر کی کثرت ہے زمین پر منظم کام کی کمی۔ دنیا کی تاریخ میں انقلابی تحریر سے زیادہ عمل اور تقریر سے زیادہ تنظیم پر انحصار کر تے رہے ہیں۔ ماوزے تنگ نے کسانوں کے اندر رہ کر اُس انقلاب کی بنیاد رکھی جس نے چین کی تاریخ بدل دی۔ اگر وہ شہروں میں بیٹھا محض فلسفہ جھاڑتا رہتا تو چین آج بھی چیانگ کائی شیک کی چو تھی نسل کے ہاتھ میں ہوتا۔ قحط سے بچنے کا ایک ہی طریقہ ہے اس طبقے کے ہاتھ سے طاقت واپس لینے ہو گی جس نے پاکستان بھر کی طرح یہاں پر بھی بربادی کا سماں پیدا کیا ہوا ہے۔

طلعت حسین

Thar Drought 

Enhanced by Zemanta

No comments:

Powered by Blogger.