Header Ads

Breaking News
recent

جے آئی ٹی کی رپورٹ آ گئی، اب آگے کیا ہو گا ؟

سپریم کورٹ کے احکامات پر پاناما لیکس کی تحقیقات کرنے والی مشترکہ تحقیقاتی ٹیم نے جو اپنی حتمی رپورٹ پیر کو جمع کروائی ہے اس میں کہا گیا ہے کہ وزیراعظم پاکستان نواز شریف اور ان کے بچوں کے بیانات اور تحقیقات سے جو بات سامنے آئی ہے وہ یہ ہے کہ ان کے طرزِ زندگی اور معلوم آمدن میں بہت فرق ہے۔ اس رپورٹ کے بعد پاکستان میں اپوزیشن جماعتوں کی جانب سے وزیراعظم سے فوراً مستعفی ہونے کا مطالبہ کیا جا رہا ہے جبکہ حکومتی وزرا نے اس رپورٹ کو ردی کا ٹکڑا قرار دیا ہے۔

سپریم کورٹ اب اس معاملے کی سماعت 17 جولائی کو کرے گی اور عدالت نے فریقین سے کہا ہے کہ وہ اس سماعت پر نئے دلائل پیش کریں اور پہلے سے کہی گئی باتیں نہ دہرائی جائیں۔ اس معاملے پر بی بی سی اردو کے ریڈیو پروگرام سیربین میں بات کرتے ہوئے سپریم کورٹ کے سابق جج جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ اب جبکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ آ چکی ہے تو اگلے مرحلے میں جس فریق کے بھی اس پر اعتراضات ہوں گے وہ انھیں تحریری شکل میں سپریم کورٹ میں داخل کرا دے گا۔ ان کا کہنا تھا کہ اعتراضات داخل کروانے کی صورت میں ان پر بحث کی جائے گی اور انھی اعتراضات کی روشنی میں معاملے کو سنا جائے گا۔

انھوں نے کہا کہ سپریم کورٹ نے دس جولائی کو یہ آبزرویشن دی ہے کہ فریقین کے وکلا دلائل کو دہرائیں نہیں بلکہ جے آئی ٹی کی رپورٹ کی روشنی میں اس پر بحث کریں۔ یہ بحث سننے کے بعد عدالت اس پر کوئی مناسب آرڈر دے سکتی ہے۔
مقامی میڈیا کے مطابق پاکستان مسلم لیگ کے وکلا اگلے چند دنوں میں جے آئی ٹی کی رپورٹ پر اپنے مفصل اعتراضات سپریم کورٹ میں داخل کروائیں گے۔
اس سوال کے جواب میں کہ اس عمل کے مکمل ہونے اور عدالت کا فیصلہ آنے میں کتنا وقت لگ سکتا ہے تو جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود نے کہا کہ یہ کہنا فی الوقت مشکل ہے۔

انھوں نے مثال دیتے ہوئے کہا کہ اگر ایک وکیل کسی ایک نکتے پر بےربط باتیں کر رہا ہے تو اس صورت میں تو اس روکا جا سکتا ہے لیکن اگر وہ بھاری بھرکم دلائل دے رہا تو پھر اسے روکنا مشکل ہو سکتا ہے۔ جسٹس ریٹائرڈ طارق محمود کا کہنا تھا ’اگر کوئی فریق یہ کہتا ہے کہ ہمارے ساتھ نا انصافی ہوئی ہے یا یہ یکطرفہ باتیں ہوئی ہیں تو اس صورت میں عدالت اس کے لیے مزید راستہ نکال سکتی ہے کیونکہ عدالت کے پاس اس کا اختیار ہے اور وہ اس بات کی پابند ہے کہ کسی کے ساتھ نا انصافی نہ ہو۔‘ ’اس لیے اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا یہ مختصر بھی ہو سکتا ہے اور طویل بھی اور یہ بھی ممکن ہے کہ عدالت ساری باتیں سننے کے بعد یہ کہے کہ ہم اس معاملے کو نیب میں بھیج دیتے ہیں۔‘

بشکریہ بی بی سی اردو
 

No comments:

Powered by Blogger.