Header Ads

Breaking News
recent

ٹاما ہاک کروز میزائل کیا ہے؟

امریکہ نے سات اپریل کو شام کے فضائی اڈے پر 59 ٹاما ہاک کروز میزائل داغے۔ اپنی رینج اور صحیح ہدف پر لگنے کے لیے مشہور ٹاما ہاک کروز میزائل امریکی اسلحے میں 1983 سے ہے اور کئی فوجی کارروائیوں میں استعمال کیا جا چکا ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل کی تاریخ
ٹاما ہاک میزائل امریکہ کا تیار کردہ میزائل ہے جو جی پی ایس گائیڈنس کے ذریعے اپنے ہدف تک پہنچتا ہے۔  یہ میزائل تقریباً 21 فٹ لمبا ہوتا ہے اور اس کا وزن تقریباً ڈیڑھ ٹن ہوتا ہے۔ ایک بار یہ میزائل داغ دیا جاتا ہے تو اس کا ٹربو انجن کام کرنا شروع کر دیتا ہے اور اس کے پّر کھل جاتے ہیں اور یہ 500 میل فی گھنٹہ کی رفتار سے پرواز کرتا ہے۔ اپنے ہدف کے قریب پہنچنے پر یہ میزائل 100 فٹ کی بلندی یا اس سے کم پر آ جاتا ہے۔ آسان الفاظ میں ٹاما ہاک کروز میزائل دور مار کرنے، صحیح ہدف پر مار کرنے کے لیے مشہور ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل منفرد کیوں؟
ٹاما ہاک کروز میزائل اپنے حجم، رفتار، فاصلے اور ٹریجیکٹری کے حوالے سے دوسرے میزائلوں سے منفرد ہے۔ روایتی طور پر جہاز سے گرائے جانے والے بم عین ہدف پر نہیں گرتے۔ دوسری جانب بیلسٹک میزائل جیسے کہ سکڈ دور مار کر سکتے ہیں اور زیادہ تیز رفتار ہوتے ہیں لیکن ان کو لانچ کرنے کے لیے بڑا لانچنگ پیڈ درکار ہوتا ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ بیلسٹک میزائل کو خفیہ طور پر فائر نہیں کیا جا سکتا۔ اس کے برعکس ٹاما ہاک کروز میزائل چھوٹا ہے اور دیگر میزائلوں کے مقابلے میں کم بلندی پر پرواز کرتا ہے جس کی وجہ سے اس کی نشاندہی اور اس کو مار گرانا مشکل ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل کی تیاری
ٹاما ہاک کروز میزائل کی تیاری کا کام 40 کی دہائی میں ہوا لیکن پولارس بیلسٹک میزائل پروگرام کے آغاز کے باعث اس کی تیاری کو روک دیا گیا۔ ٹیکنالوجی کے باعث ٹاما ہاک کروز میزائل کی تیاری کا کام دوبارہ 70 کی دہائی میں شروع ہوا اور دفاعی کانٹریکٹر مک ڈونل ڈگلس نے 1983 میں اس کو تیار کیا۔ ابتدا میں تین قسم کے ٹاما ہاک کروز میزائل بنائے گئے: بحری جہاز کو مارنے کے لیے جس پر روایتی وار ہیڈ تھا اور دو زمین پر مار کرنے والے میزائل جس میں سے ایک پر روایتی اور دوسرے پر ایٹمی وار ہیڈ تھا۔ تاہم آج کل روایتی وار ہیڈ والا زمین پر مار کرنے والا ٹاما ہاک کروز میزائل استعمال کیا جا رہا ہے۔

ٹاما ہاک کروز میزائل کا استعمال
ٹاما ہاک میزائل پہلے بار 1991 کی خلیجی جنگ میں استعمال کیا گیا۔ جنوری 17 کو یو ایس ایس پال ایف فوسٹر سے 300 میزائل داغے گئے اور بعد میں دیگر امریکی بحری جہازوں اور آبدوزوں سے مزید ٹاما ہاک کروز میزائل داغے گئے۔
پہلی خلیجی جنگ کے بعد اس میزائل کی تیاری تیز کر دی گئی اور 90 کی دہائی میں سینکڑوں ٹاما ہاک کروز میزائل استعمال کیے گئے۔ دسمبر 16 1998 میں آپریشن ڈیزرٹ فوکس کے دوران 415 ٹاما ہاک میزائل داغے گئے۔ سربیا اور مانٹونیگرو میں آپریشن کے دوران نیٹو نے یہ بھی میزائل استعمال کیے۔ 2003 میں عراقی پر حملے کے علاوہ صومالیہ، افغانستان اور لیبیا میں آپریشن کے دوران کم از کم 800 ٹاما ہاک کروز میزائل داغے گئے۔

تنازع
تاہم ٹاما ہاک کروز میزائل تنازعات سے نہیں بچ سکا۔ 17 دسمبر 2009 میں یمن پر فائر کیے گئے میزائل سے 41 شہری ہلاک ہوئے جن میں زیادہ تعداد بچوں اور عورتوں کی تھی۔ اگرچہ امریکہ اور یمن دونوں ہی نے میزائل حملے کی تردید کی لیکن ایمنسٹی انٹرنیشنل اور بعد میں وکی لیکس میں انکشاف کیا گیا کہ یہ میزائل امریکی ٹاما ہاک کروز میزائل تھے جو امریکی بحری جہاز سے داغے گئے۔

ٹاما ہاک کی قیمت
ماہرین کے مطابق ایک ٹاما ہاک کروز میزائل کی قیمت 10 لاکھ ڈالر ہے۔ اس کا مطلب یہ ہوا کہ امریکہ نے شام کے فضائی اڈے پر پانچ کروڑ 90 لاکھ ڈالر کے میزائل داغے۔ ایک اندازے کے مطابق 1983 سے لے کر اب تک دو ہزار ٹاما ہاک کروز میزائل استعمال کیے جا چکے ہیں۔

بشکریہ بی بی سی اردو 

No comments:

Powered by Blogger.