Header Ads

Breaking News
recent

ترکی کی سرحد پر مہاجرین کی مشکلات

ایک وقت تھا جب ترکی یورپی یونین کی رکنیت کے لیے اس کی ایک ہاں کا منتظر
تھا۔ بقول ایک ترک رہنما وہ یورپی یونین میں شرکت کے لیے اس کے دروازے پر کھڑا رہا لیکن یورپی یونین یہ دروازہ کھولنے کو تیار نہیں۔ جبکہ 1953ء میں ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ امیگرنٹس کی روک تھام کا بڑا معاہدہ کر کے اس کے ساتھ بہتر تعلقات کی بنیاد رکھی لیکن شاید اسے دل سے یورپی تسلیم نہ کرنے کے باعث یورپی یونین کا دروازہ ترکی پر نہ کھل سکا۔ اب جرمنی اور نیدر لینڈ کیخلاف کشیدگی کے ماحول میں ترکی نے یہ دروازہ خود ہی بند کر دیا ہے۔ صدر طیب اردگان نے 16 اپریل کو ریفرنڈم کے بعد ترکی میں ایک اور ریفرنڈم کروانے کاعندیہ دیا ہے۔ یہ ریفرنڈم ترکی کی یورپی یونین میں شمولیت یا عدم شمولیت کے حوالے سے ہو گا۔
اس ریفرنڈم کا صدارت سے کوئی تعلق نہیں۔ صدر کو اختیارات ملیں یا نہ ملیں یہ لازماً ہو گا۔ 16 اپریل کے ریفرنڈم سے طیب اردگان کو 2026ء تک ترکی کا صدر رہنے میں مدد ملے گی لیکن یہ ریفرنڈم تو اگلے چند ماہ میں ہی ہونے والا ہے۔ 2015ء میں ترکی نے یورپی یونین کے ساتھ امیگرنٹس کا معاہدہ کیا ۔ یہ وہ وقت تھا جب مختلف ممالک سے لوگ قبرض اور یونان کے راستے یورپ میں داخل ہونے کی کوشش کر رہے تھے۔ ان میں سے اکثر کی منزل برطانیہ اور امریکہ ہوتی ہے اور اب بھی ہے۔ اس معاہدے کے نتیجے میں ترکی نے غیر قانونی طور پر یورپ میں داخل ہونے والوں کو روکنا شروع کر دیا۔ اس سلسلے میں امریکہ اور یورپ سے ترکی کو 2ارب 60 کروڑ ڈالر سالانہ خطیر رقم بھی دی گئی۔ لیکن یہ رقم انہی امیگرنٹس پر خرچ بھی ہو گئی۔

ہزاروں امیگرنٹس کو روکنے پر ترکی کے قیام و طعام سمیت دیگر سہولیات سمیت اس سے کہیں زیادہ ڈالر خرچ ہوئے، ہزاروں کی تعداد میں ہونے کے باعث مہاجرین کی اکثریت اب بھی بدحالی کا شکار ہے۔ یورپ اور امریکہ کی اس میں کوئی دلچسپی نہیں۔ صدر ٹرمپ سرے سے اس کو کوئی اہمیت ہی نہیں دینا چاہتے ۔ یہی وجہ ہے کہ ترکی نے مئی میں اس سلسلے میں امریکہ سے امیگرنٹس کے معاملے پر معاہدہ کرنے کا عندیہ دیا ہے۔ جہاں امریکہ کے ساتھ پناہ گزین رہنما گولن کی واپسی پر مذاکرات ہو رہے ہیں وہاں ایجنڈے پر امیگرنٹس کی روک تھام کا معاہدہ بھی دوسرے نمبر پر ہو گا۔ یہ تو معلوم نہیں ہو سکا کہ امریکہ کے ساتھ معاملات کس سطح پر ہوں گے لیکن بقول ترک رہنما ان مذاکرات کو حتمی شکل دی جا چکی ہے۔

یہ بھی حقیقت ہے کہ گزشتہ سال دسمبر اور اکتوبر میں انتخابات سے پہلے ترک رہنمائوں سے مذاکرات ہوئے تھے۔ ان مذاکرات میں سی آئی اے کے وولسے نے بھی شرکت کی تھی۔ اس ملاقات کا مقصد گولن کو ترکی کے حوالے کرنا نہیں تھا بلکہ ترکی کے حوالے کرنے کے راستے تلاش کرنا تھا۔ بقول وولسے مذاکرات میں ترکی کو یہ بتا دیا گیا تھا کہ امریکی قانون میں گولن کی واپسی کا کوئی طریقہ درج نہیں۔ بغیر کسی ٹھوس جواز کے ان کی واپسی امریکی قانون شکنی کے مترادف ہوگی۔ امریکہ نے ترکی سے ٹھوس ثبوت مانگے ہیں۔ ترکی اور یورپی ممالک کے مابین کشیدگی نا صرف گولن کے لیے مشکلات کا باعث بنیں گی بلکہ ان سے امیگرنٹس کی مشکلا ت میں بھی اضافہ ہو گا۔ یورپ میں غیر قانونی آمد بھی بڑھنے کا امکان ہے۔ ترکی نے اگر اپنے بارڈر پر سکیورٹی نرم کر دی تو یورپ کے لیے مشکلات بے انتہا بڑھ سکتی ہیں۔

ڈاکٹر سید فیصل عثمان

No comments:

Powered by Blogger.