Monday, March 6, 2017

KHAWAJA UMER FAROOQ

آیئندہ پینتیس سالوں میں اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب ہو گا : امریکی تھنک ٹینک

ایک امریکی غیرجانبدار تھنک ٹینک، پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق کے مطابق
2050 کے بعد عیسائیت کی جگہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔
تحقیق کے مطابق 2010 میں دنیا بھر میں موجود مسلمانوں کی تعداد ایک ارب 60 کروڑ کے قریب تھی، جو دنیا کی آبادی کے تقریباً 23 فیصد کے برابر تھی جبکہ اس وقت دنیا میں موجود عیسائیوں کی تعداد 2 ارب 20 کروڑ(دنیا کی آبادی کا 31 فیصد) کے برابر تھی۔ پیو ریسرچ سینٹر کی اس رپورٹ میں دنیا بھر کی مذہبی آبادیوں کا تجزیہ کیا گیا تھا، جس میں یہ بات سامنے آئی کہ 2050 تک دنیا میں دونوں مذاہب کے ماننے والوں کی تعداد برابر ہو جائے گی جبکہ اسلام دنیا کا سب سے بڑا مذہب بن جائے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا کہ اس تبدیلی کی اہم وجہ عیسائی خاندانوں کی نسبت مسلمان خاندانوں میں پیدا ہونے والے بچوں کی زیادہ تعداد ہو گی، تاہم اس رپورٹ میں اسلام کے پھیلاؤ کے دیگر عوامل (جیسے کہ اسلامی تعلیمات کی تبلیغ کے ابلاغ عامہ کا استعمال) کو واضح نہیں کیا گیا۔ رپورٹ کے مطابق مستقبل میں دنیا میں موجود مسلمان نسبتاً جوان جبکہ عیسائی افراد کی عمر زیادہ ہو گی۔ ایک جانب جہاں ماضی میں اسلام کا پھیلاؤ مشرق وسطیٰ میں زیادہ رہا، ایشیا پیسیفک وہ علاقے ہیں جہاں مسلمانوں کی زیادہ تعداد موجود ہیں اور انڈونیشیا دنیا کا سب سے بڑا اسلامی ملک ہے، وہیں 2050 تک بھارت مسلم اکثریتی ملک بن جائے گا۔
رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ بھارت کی آبادی کا 18 فیصد حصہ مسلمانوں پر مبنی ہوگا۔

پیو ریسرچ سینٹر کی تحقیق میں جب لوگوں سے یہ سوال کیا گیا کہ وہ مسلمانوں کے بارے میں کیا رائے رکھتے ہیں تو 49 فیصد امریکیوں کا خیال تھا کہ کئی مسلمان امریکا مخالف جذبات رکھتے ہیں۔ واضح رہے کہ امریکا میں مسلمانوں کے حوالے سے پائے جانے والے تاثر میں واضح جانب داری دیکھنے کو ملتی ہے، ڈیموکریٹس مسلمانوں کو مثبت جبکہ رپبلکن عقیدہ اسلام کے حوالے سے منفی جذبات رکھتے ہیں۔

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

With faith, discipline and selfless devotion to duty, there is nothing worthwhile that you cannot achieve. Muhammad Ali Jinnah

Subscribe to this Blog via Email :