Header Ads

Breaking News
recent

لاعلمی کا مداوا علم ہے مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں

میں جس سرکاری سیکنڈری سکول میں پڑھتا تھا اس کا رقبہ ایک ایکڑ تھا۔ ایک
گراؤنڈ تھا جس میں ہاکی اور فٹ بال کھیلا جا سکتا تھا۔ سکاؤٹنگ تھی، ڈبیٹنگ کلب تھا اور مختلف کلاسوں کے مابین معلوماتِ عامہ کا سالانہ مقابلہ ہوتا تھا۔
یعنی کلاس روم کے باہر ذہنی و جسمانی نشوونما کا پورا انتظام تھا۔ میرے کلاس فیلوز میں ایک لڑکے کا باپ گدھا گاڑی چلاتا تھا۔ ایک کا باپ حلوائی، ایک بچہ تحصیلدار کا تھا اور ایک واپڈا کے ایگزیکٹو انجینیئر کا۔ چار لڑکے نواحی دیہاتوں میں رہنے والے مزارعوں کے تھے۔ اور باقیوں کے ابا کریانہ فروش، جلد ساز، دندان ساز، پیش امام، گلوکار، ٹیچر، وکیل، بینکر وغیرہ وغیرہ تھے۔

ڈسپلن برقرار رکھنے کے لیے استاد کے ہاتھ میں چھڑی بھی گھومتی رہتی تھی۔ فیس ساڑھے تیرہ روپے ماہانہ تھی۔ آج آدھے کلاس فیلوز کا کچھ پتہ نہیں۔ باقی آدھوں میں سے کوئی آرٹسٹ ہے، کوئی امریکہ میں ہے، کوئی ڈپٹی سیکرٹری ہے، ایک میجر جنرل ہے، کچھ کارپوریٹ سیکٹر میں ہیں، ایک انشورنس ایجنٹ اور ایک تعمیراتی ٹھیکیدار بنا پھر رہا ہے اور ایک کروڑ پتی مفرور ہیومن سمگلر ہے۔ میرا سکول کوئی خاص نہیں تھا۔ ہر تحصیل میں سرکاری سیکنڈری سکول ایسا ہی ہوتا تھا اور اس میں ایسے ہی طالبِ علم پڑھتے تھے۔ وہ شام کو پی ٹی وی پر بچوں کے لیے کارٹون فلمیں، بلیک اینڈ وائٹ ڈرامے اور سہیل رانا کا میوزک سکھانے کا پروگرام بھی دیکھتے تھے، ریڈیو پر گانے بھی سنتے تھے اور ان میں سے کچھ استاد کی غیر موجودگی میں ناچ بھی لیتے تھے۔
ہر مڈل کلاس گھرانے میں بچوں کا ایک آدھ رسالہ ضرور آتا تھا۔ اخبارات میں بچوں کی دنیا کی طرح کا ہفتہ وار صفحہ ضرور چھپتا تھا۔ ان صفحات میں نئے نونہال لکھاریوں اور شاعروں کی حوصلہ افزائی کی جاتی تھی۔ انہیں صفحات کے طفیل بعد میں کئی سکہ بند ادیب اور شاعر بھی بن گئے۔ آج میرا بچہ جس سکول میں پڑھتا ہے اس کا رقبہ چار سو مربع گز ہے۔ دو منزلہ عمارت میں صرف کلاس رومز ہیں۔ ایک چھوٹا سا لان ہے جس میں بس صبح کی اسمبلی ہونے کی گنجائش ہے۔ فیس اور متفرقات ملا کر چودہ ہزار روپے ماہانہ جاتا ہے۔ محلے میں جو گراؤنڈ تھا اس کے ایک حصے پر راتوں رات ایک مدرسہ بن گیا اور باقی حصہ ٹین کے بنے کیبنوں میں بٹ گیا جہاں سبزی، گوشت، کریانہ، نائی، پنواڑی اور گیرج کا راج ہے۔

چونکہ سکول میں بھی گراؤنڈ نہیں اور محلے کا گراؤنڈ بھی غائب ہوگیا لہذا وہ فٹ بال لیپ ٹاپ کے سافٹ ویئر پر کھیلتا ہے۔ ویک اینڈ پر کرکٹ سامنے کی سڑک پر کھیلتا ہے۔ ایک نگاہ گیند پر اور دوسری نگاہ آتی ہوئی کار اور جاتی موٹر سائیکل پر ہوتی ہے۔ شام کو وہ ٹی وی نہیں دیکھتا۔ کسی چینل پر اس کے مطلب کا کوئی پروگرام نہیں۔ کارٹون کب تک دیکھے؟ روتی دھوتی عورتوں کے ڈرامے اور جھگڑالو ٹاک شو اس کی سمجھ میں نہیں آتے۔ ہمارے محلے سے دو بلاک چھوڑ کے ایک تھیم پارک ہے۔ مگر یہاں پر جھولوں، سوئمنگ پول، ٹیبل ٹینس وغیرہ جیسی سہولتوں کے فی آئٹم پیسے دینے پڑتے ہیں۔ ایک دفعہ آنے جانے میں کم ازکم دو ہزار روپے کا خرچہ ہے۔ سمندر پر کبھی کبھار لے جاتا ہوں مگر ساحل کچرے سے اٹا پڑا ہے لہذا اب میرا بیٹا سمندر پر بھی نہیں جانا چاہتا۔

وہ اور اس جیسے لاکھوں بچے کھیلنا چاہتے ہیں مگر کہاں کھیلیں، اپنے مطلب کے ٹی وی پروگرام دیکھنا چاہتے ہیں مگر کس چینل پر؟ اپنی ہم عمر کتابیں پڑھنا چاہتے ہیں مگر سستی کتابیں اور رسالے کہاں تلاش کریں؟ لہذا ان میں سے جن کے والدین یہ خرچہ اٹھا سکتے ہیں انھوں نے اپنے بچوں کو لیپ ٹاپ دلا دیا ہے۔ وہ یہ لیپ ٹاپ کھاتے ہیں، پیتے ہیں اور جیتے ہیں۔ اور مجھ جیسے جعلی دانشور اخبار، ٹی وی اور سیمیناروں میں روتے ہیں کہ نئی نسل اپنے اردگرد سے اتنی بیگانہ کیوں ہے؟ وہ صحت مند ذہنی و جسمانی زندگی گذارنے میں دلچسپی کیوں نہیں رکھتی؟ اس کی ذہنی استعداد معیاری مہنگے طبقاتی سکولوں میں پڑھنے کے باوجود کیوں زوال پذیر ہے؟ یہ نسل عملی زندگی کے چیلنجوں کا کیسے مقابلہ کرے گی وغیرہ وغیرہ۔ 

پہلے ہم نے اپنی نسل سے سکول چھینے، ذہنی و جسمانی تربیت کا ماحول چھینا، ان کی آزادی سے اڑان بھرنے کی اجازت کے پر کترے اور اب جب یہ نسل ایک کمرے کی دنیا میں سمٹ رہی ہے تو ہم نوحہ گر ہیں کہ ایسا کیوں ہو رہا ہے؟ آخر ہم نے ایسا کون سا گناہ کیا ہے؟ جنھیں اب تک یہی نہیں معلوم کہ ان سے کون سا گناہ سرزد ہوا، انھیں کیسے معلوم ہوگا کہ گناہ کا کفارہ کیا ہوتا ہے۔ لاعلمی کا مداوا علم ہے مگر جہل کا کوئی کفارہ نہیں۔

وسعت اللہ خان
تجزیہ کار

No comments:

Powered by Blogger.