Header Ads

Breaking News
recent

نئی مردم شماری کے نئے تقاضے

مردم شماری شروع ہو چکی ہے۔ اس ضمن میں چھوٹے صوبوں کے تحفظات بھی سامنے آ چکے ہیں۔ لیکن ان سب تحفظات کے باوجود فوج کی نگرانی میں مردم شماری ہونا ایک خوش آیند بات ہے۔ تا ہم جو لوگ  فوج کی نگرانی میں مردم شماری کا مطالبہ کر رہے تھے وہ اب مزید بہانے تلاش کر رہے ہیں۔ بعض کا خیال یہ ہے کہ اس مردم شماری کا فائدہ پنجاب کو ہو گا، شائد یہی خوف چھوٹے صوبوں کی قیادت کو کھائے جا رہا ہے۔ اور اسی لیے کئی سال مردم شماری ہو بھی نہیں سکی۔

بلوچستان میں بلوچوں کو خوف ہے کہ نئی مردم شماری کے نتیجے میں بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی کا تناسب کم ہو جائے گا۔ وہ یہ مطالبہ کر رہے ہیں کہ پہلے افغانوں کو بلوچستان سے نکالا جائے پھر مردم شماری کی جائے۔ یہ تو وہی بات ہوئی کہ نہ نو من تیل ہو گا اور نہ رادھا ناچے گی۔ یہ بات بھی قابل ذکر ہے کہ جب افغانوں کو نکالنے کی بات کی جائے توتب یہی بلوچ قیادت افغانوں کے نکالنے کی بھی مخالفت کر دیتی ہے۔ اگر بلوچستان کی مردم شماری میں بلوچوں کی تعداد کم ہو گئی تو کیا ہو گا۔ لیکن یہ سوال اس لیے اہم نہیں کہ مردم شماری حقیقت پر مبنی ہونی چاہیے اگر واقعی بلوچستان میں بلوچوں کی آبادی کم ہو چکی ہے۔ اور اگر وہاں پختونوں کی آبادی بڑھ گئی ہے تو مردم شماری میں یہ حقیقت سامنے آنے میں کوئی مذائقہ نہیں۔ کیونکہ اس حقیقت کو چھپا کر ملک کی کوئی خدمت نہیں کی جا سکتی۔
مجھے تو  اس دلیل میں بھی کوئی وزن نظر نہیں آتا کہ گوادر میں کسی غیر بلوچ کو مردم شماری میں شامل نہیں کیا جائے۔ جو بھی پاکستانی روزگار یا کسی اور مقصد کے لیے گوادر چلا گیا ہے اس کو مردم شماری میں اپنا پتہ گوادر کا لکھوانے کا بھر پور حق ہے۔ گوادر پورے پاکستان کا ہے۔ وہ گوادر میں اپنے ووٹ کا بھی اندراج کرا سکتا ہے۔ یہ عجیب منطق  ہے کہ آپ  رہیں گوادر میں لیکن مردم شماری میں آپ کا اندرج  وہاں نہیں ہو سکتا۔ اسی طرح سندھی  قیادت کو  یہ خوف ہے کہ اس مردم شماری میں  سندھ کی شہری آبادی کا تناسب بڑھ جائے گا جب کہ شہری آبادی کی قیادت کے دعویداروں کو یہ خوف ہے کہ اس سے  دیہی سندھ کی آبادی کا  تناسب بڑھ جائے گا۔ ایک طرف ایم کیو ایم کو یہ خوف ہے کہ نئی مردم شماری میں کراچی اور حیدر آباد کی آبادی کم ہو جائے گی تو دوسری طرف پیپلزپارٹی کو یہ خوف ہے کہ اندرون سندھ کی آبادی کا تناسب  کراچی اور حیدرآباد کے مقابلے میں کم نہ ہو جائے۔ اگر کراچی کی آبادی بڑھنے کی وجہ سے وہاں کی سیٹیں بڑھ گئیں۔ تو یقیناً سندھ کی سیاست میں تبدیلی آ جائے گی۔ جس کا پیپلزپارٹی کو نقصان ہو گا۔ اسی لیے پیپلزپارٹی بھی پریشان ہے۔ یہ بھی ممکن ہے کہ نئی مردم شماری کے بعد وزیر اعلیٰ کا تعلق شہری آبادی سے ہوا کرے۔

کے پی کے کی میں بھی مردم شماری کی عجیب صورتحال ہے۔ وہاں بھی اس حوالہ سے تحفظات موجود ہیں۔ سب سے پہلے تحریک انصاف کے قائد عمران خان نے ہی مطالبہ کیا تھا مردم شماری فوج کی نگرانی میں کرائی جائے۔ لیکن اب ان کو بھی اس حوالہ سے تحفظات ہیں کیونکہ انھیں بھی یہ سمجھ نہیں آ رہا کہ اس مردم شماری کے بعد کے پی کے کا سیاسی منظر نامہ کیا ہو گا۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے پنجاب میں سکون ہے۔ پنجاب میں مردم شماری کے حوالہ سے کوئی سنجیدہ تحفظات سامنے نہیں آئے۔ اس کی شائد ایک وجہ یہ بھی ہے کہ پنجاب میں لسانیت کی بنیاد پر سیاست کا وجود نہیں۔ پنجاب میں تو کوئی پنجابی کے نام پر بھی سیاست کی دکان نہیں چمکا سکتا۔ اسی طرح پنجاب میں دیہی اور شہری سیاست میں کوئی سیاسی تنازعہ نہیں ہے۔ بلکہ پنجاب کی شہری اور دیہی سیاسی قیادت ایک ہی ہے ۔ چونکہ سیاسی مفادات کا ٹکراؤ نہیں ہے۔ اسی لیے تنازعہ نہیں ہے۔

اس طرح یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ لسانیت اور قوم پرستی کی سیاست کرنے والے سیاستدان اس مردم شماری سے پریشان ہیں۔ انھیں مردم شماری کے نتیجے میں بدلتے پاکستان سے اپنی سیاست خطرہ میں نظر آرہی ہے۔ وہ آج بھی ستر سال پرانی بنیاد پر سیاست کرنے کے خواہش مند ہیں۔ لیکن انھیں یہ بھی نظر آرہا ہے کہ اس بدلتے پاکستان میں ان کی سیاست خطرے  میں ہے۔ جہاں تک پنجاب کا تعلق ہے پنجاب کو یقیناً اس مردم شماری  اسے کوئی خوف نہیں۔ یہ  امید کی جا رہی ہے کہ لاہور کی آبادی بڑھنے سے یہاں کی سیٹیں بڑھ جائیں گے۔ سیاسی حلقہ اشارہ دے رہے ہیں کہ لاہور میں کم از کم قومی اسمبلی کی ایک نشست کا اضافہ ہو سکتا ہے۔ اسی طرح وسطیٰ پنجاب کے تمام شہروں میں سیٹوں  میں  اضافہ کی توقع کی جا رہی ہے۔ 

ایک محتاط اندازے کے مطابق نئی مردم شماری میں پنجاب کی آبادی میں بھی  مناسب اضافہ سامنے آ جائے گا۔ اس کی ایک وجہ یہ بھی ہے کہ دیگر صوبوں میں امن و امان کی صورتحال ٹھیک نہیں رہی ہے۔ جس کی وجہ سے دیگر صوبوں سے لوگ پنجاب منتقل ہو ئے ہیں۔ اسی وجہ سے پنجاب کی آبادی میں اضافہ ہوا ہے۔ میں اس ضمن میں پریشان بھی ہوں کیوں کہ پنجاب کی عددی اکثرئت سے چھوٹے صوبے پہلے ہی پریشان ہیں۔ اور اس میں اگر اضافہ ہو گیا تو یقیناً اس پریشانی میں اضافہ ہو گا۔ کیا نئی مردم شماری پنجاب کی جمہوری حکمرانی میں اضافہ کرے گی اور اگر ایسا ہو گیا تو اس کی پاکستان کی  جمہوریت اور یکجہتی پر کیا اثرات ہوںگے۔

یہ درست ہے کہ سینیٹ میں تمام صوبوں کی برابر نمایندگی ہے لیکن قومی اسمبلی تو ایک فرد ایک ووٹ کی بنیاد پر وجود میں آتی ہے۔  مردم شماری ایک آئینی تقاضا ہے۔ اس سے وسائل کی منصفانہ تقسیم ممکن ہے۔ مردم شماری میں تاخیر بھی اسی لیے ہوتی رہی کہ سیاسی مفاد عوامی مفاد کے طابع آتے رہے۔ لیکن اب جب عدلیہ کے دباؤ میں فوج کی نگرانی میں مردم شماری ہو رہی تو سیاستدان پریشان ہیں۔ اور یہ پریشانی آیندہ آنے والے چند دنوں میں مزید عیاں ہو جائے گی۔ لیکن عوام کو یہ سمجھنا چاہیے کہ مردم شماری اگر چند مخصوص سیاستدانوں کے مفاد میں نہیں بھی ہے تو کیا فرق پڑتا ہے۔ یہ عوامی مفاد میں ہے۔ یہ پاکستان کے ہر شہری کے حقوق کا تعین کرے گی۔ جو شائد سیاستدانوں کی ترجیح نہیں ہیں۔ اس لیے ہمیں نئی مردم شماری سے آنے والے نتائج کے لیے نہ صرف کود تیار رہنا چاہیے بلکہ قوم کو بھی اس کے لیے تیار کرنا ہو گا۔

مزمل سہروردی

No comments:

Powered by Blogger.