Header Ads

Breaking News
recent

کیا ایران اور امریکہ کشیدگی کے نئے دور کی طرف بڑھ رہے ہیں؟

ڈونلڈ ٹرمپ کو اقتدار میں آئے ابھی تین ہفتے ہی گزرے تھے جب انھوں نے ایران
کو ’دنیا کی درجہِ اوّل کی دہشتگرد ریاست‘ قرار دیتے ہوئے اسے ’سرکاری طور پر نوٹس‘ جاری کر دیا تھا۔ اس کے بعد بہت سے لوگ یہ سوال اٹھا رہے ہیں کہ کیا ایران اور امریکہ کے تعلقات کشیدگی کے نئے دور کی جانب بڑھ رہے ہیں؟
امریکہ سے تعلقات یا روابط رکھنے والے ایرانیوں کے لیے یہ پریشانی کا دور ہے۔ صدر ٹرمپ کی جانب سے امریکہ آنے والوں پر سفری پابندی والے سات ممالک میں ایران بھی شامل ہے جبکہ بڑی تعداد میں ایرانی نژاد لوگ امریکہ میں رہتے ہیں۔ امریکہ میں غیر ملکی طلبہ میں ایرانیوں کی تعداد سب سے زیادہ ہے اور وزٹ ویزے پر امریکہ آنے والوں میں بھی ایرانی سب سے آگے ہیں۔

ٹرمپ کی جانب سے سفری پابندی کو فی الحال عدالت نے معطل کر دیا ہے۔ پابندی کے اعلان کے بعد بی بی سی فارسی کو ایسے سینکڑوں ایرانیوں کے پیغامات موصول ہوئے جن کی زندگیاں بے یقینی کا شکار ہو گئی تھیں۔ ان کا تعلق تمام شعبہ ہائے زندگی سے تھا، محققین، طلبہ، ہم جنس پرست تارکینِ وطن، خاندانوں سے ملنے آئے بزرگ۔ اور بہت سے لوگوں کو ڈر ہے کہ معاملہ ابھی ختم نہیں ہوا۔ مگر صدر ٹرمپ کے عہدہ سنبھالنے سے اب تک صرف ایرانی ہی پریشان نہیں۔ امریکہ بھر میں لوگ یہ سوچ رہے ہیں کہ کیا ٹرمپ 2015 میں ایران کے ساتھ ہونے والے جوہری معاہدے کو ’پھاڑ پھینکنے‘ اور ایران کے خلاف پابندیوں کو ’تین گنا‘ کر دینے کا اپنا وعدہ پورا کر بھی سکیں گے یا نہیں۔
اور اگر تہران اور واشنگٹن کے درمیان بیان بازی جاری رہی تو آئندہ مئی میں ہونے والے ایرانی انتخابات پر کیا اثر پڑے گا ؟ انتخابی مہم کے دوران ڈونلڈ ٹرمپ نے ایران کے ساتھ جوہری معاہدے کو ’تباہ کن‘ قرار دیا تھا مگر ایرانی معاملات کے ماہرین کا کہنا ہے کہ آنے والے دنوں میں کیا ہوگا، اس کا بہترین پیمانہ ان کے وزیرِ دفاع جیمز میتھس کا بیان ہے۔ جنوری میں سینیٹ کی ایک کمیٹی کے سامنے بیان دیتے ہوئے جیمز میتھس کا کہنا تھا کہ ’میرے خیال میں یہ نامکمل معاہدہ ہے۔ مگر جب امریکہ زبان دیتا ہے تو اسے ہمیں پورا کرنا ہے۔‘ اوباما انتظامیہ میں ہتھیاروں کی روک تھام سے متعلق کورڈینیٹر گیری سامور کا کہنا ہے کہ ممکن ہے کہ ٹرمپ انتظامیہ اس معاہدے کو مزید سخت کرنے کی کوشش کرے۔

’مگر انھیں جلد ہی احساس ہوگا کہ کسی قسم کے بھی مذاکرات دوبارہ کرنے سے امریکہ کو پابندیوں میں مزید نرمی کرنی پڑے گی۔‘ بہت سے لوگ اس بات کی طرف اشارہ کرتے ہیں کہ اس معاہدے پر صرف امریکہ کے دستخط نہیں ہیں۔
اگر ٹرمپ اس معاہدے سے پیچھے ہٹتے ہیں تو یورپی یونین، برطانیہ، فرانس، جرمنی، چین، اور روس سے دوری کا خطرہ مول لیں گے جس کی وجہ سے کسی قسم کی نئی پابندیوں پر عمل کروانا مزید مشکل ہو جائے گا۔ یونیورسٹی آف ڈینور کے مشرقِ وسطیٰ سینٹر کے نادر ہاشمی کہتے ہیں کہ معاہدے کو ناکام بنانے کے دیگر طریقے بھی ہیں۔

’میرے خیال میں ٹرمپ اس معاہدے کا انتہائی سختی سے نفاذ کریں گے اور امید کریں گے کہ ایران کہیں تو غلطی کرے اور پھر معاہدہ توڑنے کا الزام اس پر لگے۔‘ ادھر ایران کے رہبرِ اعلیٰ آیت اللہ خامنہ ای اور ان کے قدامت پسند حامی صدر ٹرمپ کے جواب میں اب تک قدرے خاموش ہیں۔ کچھ لوگوں کا خیال ہے کہ وائٹ ہاؤس میں جھگڑالو صدر ان لوگوں کے لیے فائدے کی بات ہو سکتی ہے۔
’بڑے شیطان‘ کے خلاف شعلہ بیانی کر کے لوگوں کی حمایت حاصل کرنے والے آیت اللہ خامنہ ای امریکہ سے سخت لہجے میں بیان بازی کرنا خوب جانتے ہیں۔
حال ہی میں انھوں نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا تھا کہ ’ہم ٹرمپ کی ستائش کرتے ہیں۔ انھوں نے امریکہ کا اصل چہرہ بے نقاب کر کے ہمارا زیادہ تر کام کر دیا۔‘ جنوبی فلوریڈا کی یونیورسٹی میں امورِ ایران کے ماہر محسن ملانی کہتے ہیں کہ کچھ قدامت پسند عناصر صدر ٹرمپ کو ایسا شخص سمجھتے ہیں جن کے ساتھ وہ کام کر سکتے ہیں۔ ’ان کا ماننا ہے کہ وہ عملیت پسند غیر نظریاتی تاجر اور اچھے معاہدہ ساز ہیں جو کہ تہران کے ساتھ مذاکرات کرنے کو راضی ہوں گے۔‘

جس شخص کے لیے صدر ٹرمپ کا برسرِاقتدار آنا زیادہ خوش آئند نہیں ہے وہ ہیں موجودہ ایرانی صدر حسن روحانی۔ انھیں مئی میں دوبارہ انتخاب لڑنا ہے اور دونوں ممالک کے درمیان ایک دوسرے کے خلاف بیان بازی ان کی دو بڑی کامیابیوں، جوہری معاہدہ اور امریکہ سے تعلقات میں بہتری، پر تاریک سایہ ڈال سکتی ہے۔ جیسے ہی انتخابی مہم شروع ہوگی صدر روحانی کے مخالفیں ٹرمپ انتظامیہ کے اقدامات کو حسن روحانی کے خلاف استعمال کریں گے۔ قومی ایرانی امریکی کونسل کی ترتا پارسی کہتی ہیں کہ ’اگر سفری پابندی ایران کے ساتھ تعلقات کے بارے میں اشارہ ہے تو اس سب سے ایرانی انتخابات پر ضرور اثر پڑ سکتا ہے۔‘

مگر کیا قدامت پسند کامیاب ہو سکیں گے، یہ دیکھنا ابھی باقی ہے۔ اگرچہ پابندیوں کے خاتمے کے ٹھوس فوائد ایران میں بڑے پیمانے پر دیکھے جانا باقی ہیں۔ ایران کی عالمی سطح پر واپسی اور کاروبار کی توقع سے لاکھوں عام لوگوں کی امیدیں بڑھی ہیں۔ یہ واضح ہے کہ وہ اس سلسلے میں ہونے والی پیش رفت کو واپس جاتا نہیں دیکھنا چاہتے۔

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.