Tuesday, December 20, 2016

KHAWAJA UMER FAROOQ

بھارتی انصاف : ’سچائی اگلوانے کے لیے بیلٹ کا استعمال کیا‘

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ہیومن رائٹس واچ نے اپنی تازہ ترین رپورٹ 'باؤنڈ بائی بردرہڈ‘ میں انڈیا میں حراست کے دوران اموات پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔
114 صفحات پر مشتمل یہ رپورٹ سوموار کو جاری کی گئی ہے جس میں پولیس کی جانب سے ضابطوں کی پروا نہ کرنا، ٹارچر کی وجہ سے حراست میں اموات کا ہونا اور اس کے لیے ذمہ دار افراد کو سزا نہ ملنے کا ذکر ہے۔ اس میں بعض دلدوز واقعات کا ذکر کیا گيا ہے۔ مارچ سنہ 2013 میں ممبئی پولیس کی حراست میں مرنے والے ذوالفقار شیخ کی موت کے بارے میں پولیس حوالدار نے کہا: ملزم کے جسم پر زخم کے بارے میں اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ وہ پکا مجرم تھا اس لیے اس نے کچھ بھی بتانے سے انکار کیا۔ اس سے معلومات حاصل کرنا بہت ضروری تھا اس لیے پولیس نے میری موجودگي میں سچائی اگلوانے والے بیلٹ کا استعمال کیا۔ وہ اتنا کمزور تھا کہ پٹائي کہ بعد جب وہ پانی پینے کے لیے اٹھا تو وہ درد سے چکر کھا کر کھڑکی پر گرا جس سے اس کے جبڑے کا نچلا حصہ ٹوٹ گیا۔
جبکہ کولکتہ ہائی کورٹ نے مئی میں پریتم کمار سنگھ کے مقدمے میں کہا: ایسا لگتا ہے کہ ریاستی تفتیشی ادارے نے نقصان کی تلافی کے طور پر جلد بازی میں یہ جانچ کی ہے تا کہ اعلی پولیس افسران کو خفت سے بچایا جا سکے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ دوران حراست کسی بھی قیدی کی موت کے لیے ایک بھی سپاہی کو کوئی سزا نہیں ہوئي ہے اور نہ ہی مجرم قرار دیا گیا ہے۔ انڈیا میں پولیس حراست میں ہونے والی موت کو عام طور پر بیماری، فرار ہونے کی کوشش، خودکشی اور حادثات کا نتیجہ قرار دیتی ہے۔ لیکن انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے گروپوں کا الزام ہے کہ ان میں سے زیادہ تر اموات حراست میں تشدد کی وجہ سے ہوتی ہیں۔ تاہم سرکاری افسران ان الزامات کی تردید کر تے ہیں۔

تازہ رپورٹ میں 2009 سے 2015 کے درميان 'حراست میں ہوئی اموات' کے 17 معاملات کی 'تفصیلی جانچ' پیش کی گئي ہے جس میں سے نصف مسلمان ہیں۔
ویسے بھی انڈیا کی جیلوں میں مسلمانوں کا تناسب ملک میں ان کے آبادی کے تناسب کے مقابلے دوگنا ہے۔ شاہدین کے مطابق 35 سالہ جلفر شیخ کوسنہ 2012 میں 28 نومبر کو غیر قانونی طور پر گرفتار کیا گيا۔ پولیس نے ضابطے کی پرواہ کیے انھیں دیر سے مجیسٹریٹ کے سامنے پیش کیا جبکہ دو دسمبر کو اس کی پولیس تحویل میں ہی موت ہو گئی۔ اہل خانہ نے ممبئی کے دھراوی پولیس سٹیشن میں اسے تشدد کا نشانہ بنائے جانے کا الزام لگایا۔ مغربی بنگال میں مرشدآباد کے 21 سالہ سبزی فروش راجیب ملا کو 15 فروری سنہ 2015 میں گرفتار کیا گيا اور اسی دن اس کی موت ہو گئی۔ ریبا بی بی نے بتایا کہ اس روز سادہ لباس میں پانچ لوگ اس کے گھر آئے اور کہا کہ ان کے پاس گرفتاری کا وارنٹ ہے لیکن انھوں نے کوئی وارنٹ نہیں دکھایا۔ وہ رانی نگر پولیس سٹیشن گئیں اور انھوں نے پوچھا کہ کیا کسی نے راجیب کو مارا ہے تو ایک پولیس والے نے کہا: زیادہ نہیں لیکن آنے والے دنوں میں ہم اسے بہت ماریں گے۔

ریبا بی بی نے بتایا: میں کھڑکی سے دیکھ رہی تھی کہ اس کے ہاتھ بندھے ہوئے ہیں اور چار پولیس والے جوتوں اور تھپڑوں سے مار رہے ہیں۔ اترپردیش کے عبدالعزیز کو پولیس نے 2011 میں آٹھ مئی کو رات ساڑھے دس بجے بغیر وارنٹ دکھائے گرفتار کیا۔ جب ان کے گھر والے پولیس سٹیشن پہنچے تو انھیں بتایا گیا کہ وہ بیمار ہو گئے ہیں اور انھیں ہسپتال روانہ کیا گیا اور جب وہ ہسپتال پہنچے تو انھیں پتہ چلا کہ وہ ہسپتال پہنچنے سے پہلے ہی دم توڑ چکے تھے۔ مہاراشٹر کے 22 سالہ الطاف قادر شیخ یا مغربی بنگال کے قاضی نصیرالدین یا پھر 52 سالہ عبیدالرحمن یا 51 سالہ شفیق الاسلام اور تمل ناڈو کے 23 سالہ کے سید محمد کی بھی اسی قسم کی کہانی ہے جسے انسانی حقوق کی تنظیم نے اپنی رپورٹ میں پیش کیا ہے۔ انسانی حقوق کا کہنا ہے کہ کسی بھی معاملے میں پولیس کو سزاوار قرار نہیں دیا گيا ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ پولیس قانون کی پاسداری نہیں کرتی اور پھر اپنے ساتھیوں کو بچانے کے لیے سارے جتن کرتی ہے۔

مرزا اے بی بیگ
بی بی سی اردو ڈاٹ کام، دہلی

KHAWAJA UMER FAROOQ

About KHAWAJA UMER FAROOQ -

With faith, discipline and selfless devotion to duty, there is nothing worthwhile that you cannot achieve. Muhammad Ali Jinnah

Subscribe to this Blog via Email :