Header Ads

Breaking News
recent

باسفورس کا پل…عوام کی تاریخی فتح کا عینی شاہد

جمہوریّت کی اہمیّت اور تقّدس پربڑی بڑی ضخیم کتابیں اورہزاروں مضامین لکھے
گئے ہیں مگر بہادر ترک ماؤں کے دلیر بیٹوں نے آبنائے باسفورس کے پُل پر جُراّتوں کے قلم اور خون کی روشنائی سے جو تحریر لکھ دی ہے وہ اس موضوع پر حرفِ آخر ہے اور تمام کتابوں، تقریروں اور تحریروں پر بھاری ہے۔ فولادی ٹینک ہر چیز کو کچل دیتے ہیں اورہر رکاوٹ کو روند ڈالتے ہیں ۔ ان کے سامنے آنے کا مطلب موت ہے، ٹینک سڑکوں پر آجائیں تو انھیں کون روک سکتا ہے! ایسا سوچنے والے کروڑوں لوگ ٹی وی اسکرینوں پر نظریں جمائے ہوئے حیرت سے آنکھیں مَل رہے تھے انھیں نظر آنے والے مناظرپر یقین نہیں آتا تھا ۔ شائد وہ نہیں جانتے تھے کہ فولادی ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہونے والے نہتّے لوگ کون ہیں؟۔ حیران ہونے والے شائد نہیں جانتے تھے کہ یہ وہ عظیم ترک ہیں جنہوں نے اپنے کارناموں سے خود تاریخ کو کئی بار حیران و ششدر کیا ہے۔ یہ وہ ترک ہیں جنہوں نے تین برِّاعظموں پر حکومت کی ہے اور جن کی رگوں میں اُن آباء کا خون دوڑ رہا ہے جن کے نام سے یورپی شہنشاہوں کے تاج و تخت کانپتے اور تھرتھراتے تھے۔

عظیم ترکوں کو سلام! جنہوں نے اپنا ملک بچالیا۔ عظیم ترکوں کو مبارکباد !  جنہوں نے ترکی کو عراق اور شام بننے کی سازش سے بچالیا۔ عظیم ترکوں کے عظیم لیڈر طیب اردوان کو سلام ! کہ جنہوں نے فوجی بغاوت کے سامنے سر جھکانے کے بجائے اس کی مزاحمت کرنے کا جرأتمندانہ راستہ اختیار کیا اور یہ ثابت کردیا کہ تاریخ کے نازک ترین لمحے پر فورسز کے آہنی ہتھیار نہیں۔ لیڈر کا جرأتمندانہ کردار فیصلہ کُن ہوتا ہے۔ رات کے اندھیروں میں قانون اور آئین کے تحت عوام کی رائے سے قائم کردہ سسٹم کو تباہ کرنے کے لیے کیے جانے والے حملے کے لیے شب خون سے بہتر کوئی لفظ ایجاد نہیں ہوا ۔ ترکی میں ایسا ہی شب خون مارنے کی کوشش کی گئی مگراقتدار پر قبضے کے خواہشمند شاید بھول گئے تھے کہ اب یہ پرانا ترکی نہیں رہا اسمیں ایک بہت بڑی تبدیلی آچکی ہے۔ قیادت کی تبدیلی!۔ آج کے ترکی کا قائد وہ ہے جسکی ذات پر مالی یا اخلاقی کرپشن کا کوئی داغ نہیں ۔ جو نڈر اور جرأتمند ہے جو اپنے دین اور اپنی اقدارپر فخرمحسوس کرتا ہے۔
جس نے پہلے استنبول کے میئر کی حیثیّت سے عوام کے وہ بنیادی مسائل حل کیے جو صدیوں سے حل طلب تھے۔ پھر عوام نے اسے پورے ملک کی قیادت سونپی تو اس نے معجزے کردکھائے ۔ یورپ کے مردِ بیمار کو معاشی ترقّی اور خوشحالی کے اوجِ کمال تک پہنچادیا اور اس ترقّی کی برکات سے شہریوں کی جھولیاں بھردیں۔ آج ترکی کی باگ ڈور اس کے ہاتھوں میں ہے ۔ جسکا دل ملی حمیّت کے جذبوں سے سرشار ہے ۔ جو بڑی سے بڑی طاقت سے نہ کبھی ڈرا نہ مرعوب ہوا،  ہمیشہ ان کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر بات کی اورہر موقع پر مسلم اُمّہ کا کیس بڑی جرأت سے پیش کیا۔ اسرائیل کو عرب حکمرانوں نے نہیں طیّب اردوان نے للکارا ، مصر میں امریکا کی ایماء پر فوجی ڈکٹیٹر نے ایک منتخب حکومت ختم کی تو صرف طیب اردوان نے کھل کی مذمّت کی، شام پر کئی دھائیوں سے مسلّط ڈکٹیٹروں نے مخالف مسلک کے بے گناہ شہریوں کو وخشیانہ مظالم کا نشانہ بنایا تو طیب اردوان نے ہی روکنے کی کوشش کی، بنگلہ دیش پر مسلّط خونی قاتلہ نے بے گناہ معمّربزرگوں کو اپنے ملک پاکستان کی حمایت کرنے پر پھانسی پر لٹکا دیا تو طیّب اردوان نے اسطرح زورداراحتجاج کیا جس طرح پاکستان بھی نہ کرسکا اور اپنا سفیر واپس بلالیا۔

شب خون مارنے والے شائد بھول گئے تھے کہ آج ترکوں کا قائد وہ ہے جس نے کبھی عوام سے فاصلے نہیں رکھے، وہ اپنے عوام کے درمیان رہتا ہے بلکہ عوام کے دلوں میں رہتا ہے۔ جب انقرہ اور استنبول کی سڑکوں پر ٹینک پہنچ گئے اور فضا میں کانوں کے پردے پھاڑنے والے جیٹ اڑنے لگے، سرکاری ٹی وی سے مارشل لاء نافذ کرنے کی خبر نشر کردی گئی اور دنیا بھر میں دینِ مصطفٰےؐ کے مخالفوں نے خوشیوں کے شادیانے بجانے شروع کردیے تو ترکی کے بہادر رہنما نے پاکستان کے سول حکمرانوں کی طرح غیرآئینی آمریّت کے آگے سر نہیں جھکایا (مقبول ترین رہنماذوالفقار علی بھٹو کوجب مارشل لاء کی اطلاع دے دی گئی تو انھوں نے جنرل ضیاء الحق سے صرف یہ پوچھا تھا کہ ’اب میرے لیے کیا حکم ہے؟‘) نہ ہی اس نے چھُپنے یا اپنی جان بچانے کی کوشش کی بلکہ وہ جان خطرے میں ڈالکر، دشمنوں کے ایف16 طیاّروں کے ممکنہ حملے کی پرواہ نہ کرتے ہوئے  استنبول کی طرف روانہ ہوا اور فضاسے اپنے عوام کو پکارا” گھروں سے نکل آؤ، میں بھی پہنچ رہا ہوں ہم آئین کے باغیوں کوشکست دیں گے۔

ان سے غیرآئینی قبضہ چھڑائیں گے اور اپنے ملک کو ہر قیمت پر بچائیں گے”۔اپنے رہنما کی کال پر لبیّک کہتے ہوئے لاکھوں افراد اﷲاکبر کے نعرے لگاتے ہوئے سڑکوں اور چوراہوں پر نکل آئے اور پھر دنیا نے دیکھا کہ  انھوں نے ٹینکوں کا ہی نہیں تاریخ کا بھی رخ موڑ دیا۔ کسی بھی مرحلے پر نہ باپ گھبرایا نہ اس کی بہادر بیٹی، جس سے پوچھا گیا کہ کون جیتے گا تو اس نے پورے اعتماد سے کہا  “اﷲاکبر کی فتح ہوگی، اور عوام جیتیں گے”۔ دوسرے روزاردو اور انگریزی کے ہر اخبار نے سرخی لگائی تھی “عوام کی فتح”  “عوام فتح یاب ہوئے” پاکستان میں حکومت کے مخالفین ،اسلام سے بغض رکھنے والوں اور فوجی آمریّت کے حامی مبصرّین سے عوام کی یہ فتح ہضم نہیں ہورہی تھی صبح وہ اسکرین پر نمودار ہوئے تو ان کے چہروں پر ہوائیاں اڑ رہی تھیں۔ ترکی میں مارشل لاء نافذ ہوجانے کی خبر سے وہ بے حد excited تھے ۔

مگر عوام کی فتح کی خبر سن کر ان کے چہروں پر اسقدر پریشانی اورنحوست چھاگئی کہ ایسے لگتا تھا تھے جیسے باسفورس پل پرشہریوں کے ہاتھوں باغیوں کی نہیں ان کی پٹائی ہوئی ہو،  وہ عوام  کی عظیم فتح کا ذکر تو کررہے تھے مگر بہت  سی مینگنیاں ڈال کر۔ طیّب اردوان سے انھیں صرف یہ عناد ہے کہ  طیّب نام لیتا ہے خدا کا اس زمانے میں ۔ اُسکے اسی “جرم” کی بناء پر عالمی طاقتیں اس کی دشمن ہیں۔ امریکا اور کچھ دیگر مغربی ممالک کے بدلتے ہوئے بیانات سے ان کے اصل عزائم پوری طرح بے نقاب ہوگئے ۔ بلاشبہ وہ ترکی کو عراق اور لیبیا کی طرح بنا دینا چاہتے تھے۔ حکومت یا حکمرانوں سے ذاتی شکوے شکایت کی بناء پر باشعور لوگ جب جمہوریت دشمنی پر اُترآئیں تو دکھ ہوتا ہے۔ مُہذّب قومیں سسٹم کااحترام کرتی ہیں اورعوامی فیصلے کاتقد س مجروح نہیں ہونے دیتیں اور ہمارے ہاں جہاں چارپانچ Federating Units ہیں جہاں مختلف  زبانیں بولنے والی مختلف قومیتیں بستی ہیں وہاں صرف آئین ہی ملکی اتحاد کا ضامن ہے اور جمہوریّت ہی ملک کی بقاء اور سالمیّت کی ضمانت دے سکتی ہے۔ حکومت کے مخالفین سے جمہوریّت کی افادیّت کا ذکر کیا جائے تووہ یہ کہہ کر حملہ آور ہوتے ہیں کہ “کونسی جمہوریّت! یہ کوئی جمہوریت ہے” ۔ یعنی چونکہ حکومت میں نقائص ہیں، گورننس اچھی نہیں لہٰذا پورے سسٹم ہی کی گردن اڑا دی جائے، یعنی مسجد کا امام اگرپڑھا لکھا نہ ہو تو مسجد کو ہی تالا لگادیا جائے۔ بھائی آئین اُن Rules of game یا قوائد و ضوابط کا نام ہے جو معاشرے کے اجتماعی شعور نے کاروبارِ مملکت چلانے کے لیے طے کیے ہیں۔

” ہم ایسی جمہوریت کو کیاکریں!!۔ ہم اس پر لعنت بھیجتے ہیں” جیسے فقرے اگر Sponsored قسم کے اینکربولیں تو ان سے بحث بے سود ہے لیکن اگر آزاد ذھن کے دانشور ایسی بات کریں توحیرانی ہوتی ہے۔ ان سے عرض ہے کہ آپ جمہوریت کو بے سود اور ناکام سمجھتے ہیں مگر ہوسکتا ہے دوسرے لوگ آپ سے متفق نہ ہوں۔  ضروری نہیں کہ آپ کی ذاتی رائے ہی اکثریت کی رائے ہو ، دوسروں کی رائے کا احترام کرنا بھی سیکھیں۔ دوسرا یہ کہ سو فیصد لوگ بھی حکومت کی کارکردگی سے مطمئن نہ ہوں تو بھی قوم کو اور تمام اداروں کو وہی کرنا چاہے جو Rules of game میں لکھا ہے۔ الیکشن کے لیے عوام کو تیار کریں، وزیرِ اعظم کے خلاف عدمِ اعتماد کی تحریک لائیں، حکومت کے خلاف ریفرنس دائر کریں یا سپریم کورٹ سے رجوع کریں اگر اس کے علاوہ کوئی راستہ اختیار کیا جائے گا تو وہ فسادکا راستہ ہوگا جوانارکی کو جنم دے گا ،جس سے ایک مسئلہ تو کیا حل ہونا ہے پورا ملک مسائل کی دلدل میں پھنس جائے گا۔ پورا ملک عدم اِستحکام کا شکار ہوجائے گا۔

ہر جگہ ترکی کا پاکستان سے موازنہ کیا جارہا ہے۔ کبھی کسی تقریب میں کسی وزیر سے  ملاقات  ہوجاتی  تو راقم  ان سے یہی  کہتا  تھا کہ Civilian Superamacy صرف خواہش یا تقریروں سے قائم نہیں ہوتی، اس کے لیے طیّب اردوان بننا پڑتا ہے ،جس نے اپنے عوام کو ترقّی اور خوشحالی سے فیضیاب کیا اور اپنے اور عوام کے درمیان پردے حائل نہیں ہونے دیے۔ لوگ پوچھتے ہیں کہ پاکستان میں ایساایڈونچرہوا توکیا ردّ ِعمل ہوگا؟ ترکی سے پاکستان کا موازنہ مناسب نہیں اس لیے کہ نہ یہاں کوئی طیب اردوان ہے اور نہ ہمارے عوام (جنکی رگ وپے میں غلامی کے اثرات ہیں) ترکوں کی طرح دلیر اور جرأتمند ہیں جو فوجی ٹینکوں کے سامنے سینہ سپر ہوجائیں۔ یہاں کی پولیس میں نہ اتنی ہمّت ہے اورنہ آئین اورمنتخب راہنماؤں کے ساتھ اسقدر وابستگی ، کہ وہ جمہوریّت کی پاسبانی کے لیے کھڑی ہوجائے۔ اقتدار کے ایوانوں میں پولیس کو نہ عزّت دی جاتی ہے اور نہ ہی فیصلہ سازی میں کوئی کردار !۔ ترکی میں اپوزیشن پارٹیاں بھی باوقار اور بااصول ہیں۔ کسی نے بھی “مارشل لاء کا ذمے دار اردوان کا روّیہ اور طرزِ حکمرانی ہے” جیسے جملوں سے آمریت کی حمایت کرنے یا مارشل لاء کو جواز فراہم کرنے کی کوشش نہیں کی۔

مگر اس کا یہ مطلب ہرگزنہیں کہ اگر یہاں کے عوام آئین کو روندنے والے ٹینکوں کا مقابلہ نہیں کرسکتے تو پھر فوج یہ کام کر گزرے ، ایسا کسی بھی صورت میں، کسی بھی صورت میں نہیں ہونا چاہے۔ ایسی صورت ملک کے لیے تباہ کن ہوگی اور فوج کے لیے بھی! ۔ مشرّف کے مارشل لاء میں بھی فوج میں دراڑیں پڑی تھیں جس طرح ترکی میں جمہوریت پر پانچویں حملے میں فوج متحد نہ رہ سکی اسی طرح پاکستان میں بھی فوجی ادارے کو ناقابلِ تلافی نقصان پہنچنے کا احتمال ہے۔ اس کے علاوہ تمام قابلِ ذکر پارٹیوں نے برملا کہاہے کہ ہم کسی صورت میں فوجی مداخلت کی حمایت نہیں کریں گے(شیری رحمان صاحبہ اور شیریں مزاری صاحبہ نے سب سے موّثر انداز میں دوٹوک بات کی ہے)۔

مشرّف کی مزاحمت سے پاکستانی عوام کی جھجک اتر چکی ہے۔ ترکی میں عوام کی فتح سے یہاں لوگوں کے حوصلے بلند ہوئے ہیں، اب خدانخواستہ ایسا ہوا تو ترکی کی طرح نہ سہی مگر مزاحمت پہلے سے سخت ہوگی، اور یہ یقینی بات ہے کہ عدلیہ میں فوج کے کسی غیرآئینی اقدام کو جائز قرار دینے والے ارشاد حسن عرف شادا ٹائپ کے جج اب نہیں ملیں گے۔ فوج متنازعہ اور بدنام ہوگی ۔ فوج کی مقبول قیادت پر بہت کیچڑ اچھلے گا ۔ عوام اور فوج ایک دوسرے سے ٹکرائیں گے اور فوج بھی کمزور ہوگی اور ملک بھی۔ موجودہ حالات میں کسی کو ایسا سوچنا بھی نہیں چاہیے ۔

مارشل لاء لگنے پر عوام نہیں۔ عوام کے مسترد کردہ مایوس سیاستدان مٹھائیاں بانٹتے ہیں۔ باسفورس کے پل پر آئین کے دشمنوں کی اتری ہوئی وردیاں اور پھینکے ہوئے ہتھیار اس بات کا اعلان کررہے ہیں کہ دنیا کی کوئی فوج اپنے ہی عوام کے خلاف نہیں جیت سکتی اگر عوام مقابلے پر نکل آئیں تو مہلک ترین ہتھیاروں سے مسلّح فوج کو بھی پسپائی اوررسوائی کی خاک چاٹنا پڑتی ہے۔
باسفورس کا پل ہر ملک کی فوجی قیادت کو واضح پیغام دے رہا ہے کہ ٹینکوں کا رخ دشمن کی طرف ہوگا تو عوام ان پر پھُول برسائیں گے اور اگر ان کا رخ اپنے ہی عوام کی طرف ہوگا تو پھر پھولوں کی جگہ پتھر اور جوتے برسیں گے۔ باسفورس کا پل پاکستان کے حکمرانوں کو بھی پیغام دے رہا ہے کہ اگرآپ چاہتے ہیں کہ جمہوریت کے تخفظ کے لیے عوام باہر نکلیں تو پھرآپ پر لازم ہے کہ صرف نام کی نہیں صحیح جمہوریت نافذ کریں تاکہ اس کی برکات سے عوام فیضیاب ہوں پھرآپ عوام سے دوریاں اور فاصلے ختم کرکے ان کے ساتھ رشتہ استوار کریں۔ مالی اور اخلاقی کرپشن میں ملوث سیاستدانوں اورافسروں کو قریب نہ پھٹکنے دیںاور پولیس اور عدالت کے فرسودہ نظام کو بدلیں پھر آپ گراس روٹ لیول پر پارٹی کو منظّم کریں، لوکل باڈیز سسٹم کو فوری طور پر بحال اور فعال کریں اور طیّب اردوان کی طرح اپنے دین اور اپنی اقدار کی پاسبانی میں شرم نہیں فخر محسوس کریں۔

یاد رکھیں کہ فولادی ٹینکوں کے سامنے وہی لیٹ سکتے ہیں جنکی زبان پراﷲاکبرکے نعرے اور سینوں میں لاالہ الااﷲمحمد الرسول اﷲ کا مقدس کلمہ موجزن ہوتا ہے۔ باسفورس کا پل جناب طیّب اردوان کو بھی پیغام دے رہا ہے کہ وہ بھی اپنی سوچ اور روّیے میں تبدیلی لائیں آمرانہ روّیے کو بدلیں اور فراخدلی اور رواداری سے کام لیں اور باغی ٹولے سے بھی عفو اوررحمدلی کا رویّہ اپنائیں اور باسفورس کا پل تمام اسلامی ملکوں کو پیغام دے رہا ہے کہ دشمنوں کی صفوں میں فیصلہ ہوچکا کہ جو سر اٹھائیگا اِسکا سر کاٹ دو یا ٹانگیں کھینچتے رہو ، ہوشیار ہوجاؤ ، اپنے دین اور اپنی تہذیب کی پاسبانی کے لیے اختلافات بھلا کر متّحد ہو جاؤ} ورنہ خاکِ رہگزر ہوجاؤ گے اورپھر…  تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں۔

ذوالفقار احمد چیمہ


No comments:

Powered by Blogger.