Header Ads

Breaking News
recent

آن لائن بینکنگ اور اے ٹی ایم کارڈز والے خبردار

کراچی پولیس چینی باشندوں پر مشتمل ایک ایسے جرائم پیشہ گروہ کی سرگرمی سے تلاش میں ہے جو مقامی بنکوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے مختلف کھاتہ داروں کی رقوم کے متعلق معلومات حاصل کرکے کروڑوں روپے کی رقوم پر ہاتھ صاف کرچکا ہے۔ اس گروہ کا ایک رکن گرفتار ہوچکا ہے۔ یہ چینی شہری جو سائبر جرائم کے ماہر ہیں چند ہی روز قبل پاکستان آئے تھے ۔ انہوں نے کراچی کے بعض اہم علاقوں کی اے ٹی ایم مشینوں سے اپنے خاص کارڈز کے ذریعے مختلف کھاتہ داروں کے بنک اکاؤنٹس کی خفیہ معلومات حاصل کرکے ان کی رقوم اپنے تیار کردہ اے ٹی ایم کارڈوں کے ذریعے ہتھیانے کا کام شروع کردیا ۔ اس سے قبل کراچی کے بہت سے کریڈٹ کارڈ ہولڈراپنے بنکوں کی انتظامیہ سے شکایات کررہے تھے کہ ان کے کارڈز کے ذریعے دنیا کے مختلف ممالک میں لاکھوں روپے کی خریداری کس طرح ہورہی ہے؟

میرے سامنے اس وقت امریکہ میں گذشتہ برس سب سے زیادہ فروخت ہونے والی کتاب " Future Crimes" موجود ہے،جس کے مصنف مارک گڈمین نے ڈیجیٹل ٹیکنالوجی اور اس کے ذریعے ایک دوسرے سے منسلک دُنیا کی انتہائی خطرناک سرگرمیوں کا انکشاف کیا ہے،جنہیں معلوم کرکے انٹرنیٹ اور 249 کمپیوٹرزسے متعلقہ ٹیکنالوجی استعمال کرنے والا ہر انسان کانپ اُٹھتا ہے۔ سوشل میڈیا، ای کامرس اور کمپیوٹر ڈیٹا پر انحصار کرنے والے لوگ نہیں جانتے کہ کب ان کا تمام ڈیٹا اور ہر طرح کی خفیہ دستاویزات ہیکرز Hackers کے پاس پہنچ جائیں گی یا ان کے اپنے کمپیوٹر سے مکمل صاف کردی جائیں گی۔ دراصل جہاں کمپیوٹرز اورانٹرنیٹ کے رابطے اور سہولتیں موجودہ انسانی زندگی میں سہولت پیدا کرنے اور ترقی کی طرف بڑھنے کے لئے ایک سے بڑھ کر ایک معجز ے دکھا رہی ہیں وہاں کئی لحاظ سے انسان اس ٹیکنالوجی کا غلام بن کر بھی رہ گیا ہے۔

ڈیجیٹل انڈر ورلڈ کے لوگ اس میدان کے ایسے ناسور ہیں جن کی موجودگی میں اربوں کھربوں کے مصارف سے قائم ہونے والے دنیا کے بڑے سے بڑے اور انتہائی حساس معلومات رکھنے والے نیٹ ورک بھی محفوظ نہیں ۔ کچھ نہیں کہا جاسکتا کہ ہیکر ز Hackers کس وقت کس نیٹ ورک کے مضبوط حصار توڑ کر ان میں جا گھسیں، کب ان کی اہم ترین خفیہ معلومات لے اڑیں اور کب ان کے نیٹ ورکس سے ایسی تمام معلومات صاف کرکے ان اداروں کو کروڑوں اربوں ڈالرز کا نقصان پہنچا دیں۔ وکی لیکس کے بعد دُنیا پانامہ لیکس کا تجربہ کر چکی۔ ہیکرز Hackersکی طرف سے ایسے بڑے کام کرنے کے علاوہ نچلی سطح کے جرائم تواتر کے ساتھ سامنے آتے رہتے ہیں۔ بڑی بڑی کمپنیاں اور ادارے اپنے نیٹ ورکس کو ڈیجٹل انڈر ورلڈ سے محفوظ رکھنے کے لئے کمپیوٹر سیکیورٹی کے لئے بھاری مصارف برداشت کررہے ہیں۔ امریکہ کا صرف گارنر گروپ اپنے کمپیوٹر ڈیٹا کے تحفظ کے لئے سالانہ تقریبا نوے ارب ڈالر اخراجات برداشت کررہا ہے۔ اس وقت دُنیا میں کمپیوٹر وائرس سے تحفظ دینے کے لئے Symantec, McAfee,Trend Micro جیسے ادارے سروسز فراہم کررہے ہیں۔

کتاب کے مصنف کا خیال ہے کہ ایسے اداروں کے فراہم کردہ اینٹی وائرس پروگرام صرف پانچ فیصد وائر س کی نشاندہی کرپاتے ہیں] جبکہ 95 فیصد وائر س کا سراغ ہی نہیں مل سکتا۔ مصنف مارک گڈمین ڈیجیٹل کرائمز کا سراغ لگانے والی امریکی ایجنسیوں کے علاوہ ایسے بہت سے بین الاقوامی اداروں میں بھی طویل عرصے تک خدمات سرانجام دے چکے ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ جس طرح دنیا میں اٹلی کا مافیا 249 جاپان کا یاکوزا، چین کا ٹرایڈز، اور کولمبیا کا ڈرگ کیرلز موجود ہیں اس سے بھی بڑھ کر سائبر کرائمز کرنے والے منظم گروہ موجود ہیں،جن کا تمام کاروبار آن لائن ہے۔ ان کی ہر طرح سے محفوظ آن لائن سائٹس پر اغوا 249 دہشت گردی249 بنکوں کی رقوم ہتھیانے، کمپنیوں کا ڈیٹا تباہ کرنے یا چرانے سے لے کر ہیروئن فروشی، ناجائز اسلحہ اور معاوضے پر قتل اور اغوا برائے تاوان اور جسم فروشی جیسے کاروبار عام ہو رہے ہیں اور اس سارے کاروبار کے پیچھے موجود لوگوں کے نام اور ایڈریس مکمل طور پر خفیہ ہیں۔ ان آن لائن جرائم کی پناہ گاہوں کو ختم نہیں کیا جا سکتا،البتہ اس مارکیٹ کے جعلی گاہک بن کر بعض اوقات حکومتوں کی خفیہ ایجنسیوں کے لوگ اس دھندے میں مصروف لوگوں کے قریب پہنچ جاتے ہیں، لیکن ان پر آسانی سے ہاتھ اس لئے نہیں ڈال سکتے کہ ان کے جرائم کے خلاف ان کے پاس کوئی ثبوت نہیں ہوتا۔

مصنف ان سائٹس کو ’’ مجرموں کی بلٹ پروف پناہ گاہیں‘‘ کا نام دیتا ہے ۔ ایسے آن لائن غیر قانونی کاروبار کو یہ آن لائن تحفظ اور سہولت فراہم کرنے والے اس سہولت کے عوض اپنے گاہکوں سے اچھا خاصا معاوضہ وصول کرتے ہیں اور یہ بے حد منافع بخش کام بن چکا ہے۔ تاہم ہیکرز کے کام میں سارے لوگ جرائم پیشہ ہی نہیں، ایسی مثالیں بھی سامنے آئی ہیں کہ بعض نوعمر امریکی طالب علموں نے محض تفریح کے لئے بعض ایئرپورٹس اور بڑی آئل کمپنیوں کے ڈیٹا نیٹ ورکس تک رسائی حاصل کی اور ان کے کام کو روک دیا۔ یہ ادارے بمشکل ہی کسی بڑے حادثے اور جانی نقصان سے محفوظ رہ سکے۔ کئی کمپنیوں کو کمپیوٹر ہیکرز کی وجہ سے کروڑوں اور ا ربوں ڈالر کا نقصان بھی برداشت کرنا پڑا ہے۔ اس وقت پیشہ وارانہ طور پر کمپیوٹرز اور نیٹ ورکس سے ڈیٹا چرانے والے جرائم پیشہ لوگوں کے منظم عالمی گروہ چین کے علاوہ انڈونیشیا، امریکہ، تائیوان، روس، رومانیہ، بلغاریہ، برازیل، انڈیا اور یوکرائن میں موجود ہیں۔ دنیا بھر میں اے ٹی ایم کارڈز اور کروڑوں کی تعداد میں کریڈٹ کارڈزچرانے اوران کی از سر نو فروخت کا کاروبار کرنے کے لئے Albert Gonzalez کا نام بدنام ہے ۔

منظم جرائم پیشہ گروہوں کے علاوہ اب بعض سیاسی اور نظریاتی طور پر کام کرنے والے گروہ بھی سائبر سپیس میں اپنا وجود منوا رہے ہیں۔ ان میں وکی لیکس کے بعد اب پانامہ لیکس والوں کے نام نمایاں ہیں۔ سیرین الیکٹرانک آرمی کے نام سے بھی ایک تنظیم سرگرم ہے۔ ان لوگوں کا موقف یہ ہے کہ وہ دُنیا کی اہم حکومتوں اور اداروں کی معلومات ناانصافیوں کے خاتمے کے لئے دُنیا کے سامنے لارہے ہیں۔ پانامہ لیکس والوں کا کہنا ہے کہ دُنیا کے موجودہ مالیاتی اور کرپٹ سیاسی نظاموں کی وجہ سے دنیا بھر کی دولت چند سو ہاتھوں میں جمع ہوچکی ہے۔ ترقی پذیر ملکوں کے حاکم اپنے عوام کا خون چوس کر اربوں ڈالر کی رقم دوسرے ملکوں میں لاکر جمع کرارہے ہیں وہ افراد جو دُنیا کے بڑے بڑے اداروں کو چیلنج کرکے ان کا ڈیٹا عام کردینے کے لئے معروف ہیں ان میں Julian,Assange, Chelsea,Manning and Edward Snowden کے نام نمایاں ہیں۔

اگر ان لوگوں کے نام عالمی اخبارات کی صفحہ اول کی سرخیوں میں آتے ہیں تو ان کے مقابلے میں جرائم پیشہ ہیکرز اپنے ارکان کے ناموں کو مکمل طور پر صیغہ راز میں رکھنے کے حق میں ہیں۔ ان کی سائٹس پر نہ صرف ہر طرح کے گھناؤنے جرائم والے اپنا کام اطمینان سے کرسکتے ہیں،بلکہ مختلف جرائم کرنے کے آسان اور موثر طریقے بھی یہاں بتائے جاتے ہیں 249 یہی وجہ ہے کہ سائبر کرائمز کے بعض ماہرین نے انٹرنیٹ کو دہشت گردوں کی یونیورسٹی کا نام دیا ہے۔ مصنف نے کمپیوٹر وائرس کے سلسلے میں پاکستانیوں کو بھی کریڈت دیا ہے 249 اس نے لکھا ہے کہ دنیا میں آئی بی ایم کمپیوٹرز کا سب سے پہلا وائر س برین وائرس تھا۔ جو1986ء میں لاہور کے دو بھائیوں امجد فاروق علوی اور باسط فاروق علوی نے تخلیق کیا تھا۔ اس وقت ان کی عمریں سترہ اور چوبیس سال تھیں۔ تاہم ان کے وائریس کا مقصد یہ تھا کہ دوسرے ان کا سافٹ ویئر چوری نہ کریں۔

قارئین ! میں اپنے آئندہ کالم میں کتابً فیوچر کرائمزً میں مذکور سائبر کرائمز کے متعلق بہت سے مزید اہم حقائق بیان کروں گا۔ تاہم ہمارے پاکستانی ہیکرز امریکہ اور یورپ میں جاکر اس میدان میں کیا کچھ کرتے رہے ہیں اس کی ایک جھلک بھی یہاں دکھانا خالی از دلچسپی نہیں ہوگا۔

یہ 1995 کی بات ہے جب میرے ایک دوست نے مجھے بتایا کہ کس طرح امریکہ میں بظاہر اپنے دوستوں کے پاس جانے کے دھوکے میں وہ خطرناک قسم کے جرائم پیشہ لوگوں کے درمیان پہنچ گیا تھا۔ اللہ کے خصوصی کرم اور اپنے پختہ عزم کی وجہ سے وہ ان لوگوں کے چنگل سے نکل آیا، ورنہ وہ اسے وسائل کی چمک کے ذریعے اپنے جرائم پیشہ گروہ کا ساتھی بنانا چاہتے تھے۔ یہ لوگ سائبر کرائمز مافیا کا حصہ تھے ۔ بظاہر تو انہوں نے کار مرمت کرنے کی ورکشاپ بنا رکھی تھی اور کچھ کاریں مرمت بھی کرتے تھے،لیکن ان کے اصل کام کچھ اور تھے۔ یہ لوگ اسے بتاتے رہے کہ کس طرح انہوں نے ٹیلی مارکیٹنگ کے ذریعے جعل سازی کرکے لاکھوں ڈالر کمائے پھر ایک افسر سے مل کر گرین کارڈ ز بنوانے کاکام کیا اور لاکھوں ڈالر کمائے۔ 

میرے اس دوست سے امریکہ میں جعلسازی کے یہ کام کرنے والے ان لوگوں نے کہا کہ اگر وہ ان کو لندن میں رہنے والے اپنے کزن کا بنک اکاؤنٹ نمبر معلوم کرکے بتا دے تو وہ اس میں چند لاکھ پونڈ رقم بھجوا سکتے ہیں، جس سے وہ آدھی رقم انہیں واپس کرنے کا پابند ہوگا۔ میرے دوست نے ان سے کہا کہ آپ اپنی پوری رقم اپنے پاس کیوں نہیں رکھتے، انہوں نے کہا کہ یہ رقم کسی بنک سے ایک خاص تکنیک کے ذریعے نکلوائی جائے گی او ر احتیاط کے طور پر وہ اسے کسی کاروباری کے بنک اکاؤنٹ ہی میں بھیج سکتے ہیں۔ آپ آج اکاؤنٹ نمبر بتائیں شام تک رقم اس اکاؤنٹ میں پہنچ جائے گی۔ ان لوگوں کی باتوں سے میرے دوست نے محسوس کیا کہ وہ لوگ کسی خطرناک گروہ سے وابستہ ہیں۔ اس کے بعد انہوں نے بات کو مذاق میں ٹالتے ہوئے کہا کہ صاحب ہم نے ان کاموں میں پی ایچ ڈی کر رکھی ہے ۔ جب وہ دو اڑھائی ماہ ان لوگوں کے درمیان گزارنے کے بعد واپسی کی تیاری کررہا تھا تو ایک دن اس کے میزبان دوستوں نے اسے کہا کہ اچھے دوست آپ یہ سستی قسم کی شرٹس اور معمولی قیمت کی چیزیں تحفے میں لے جانے کے لئے کیوں خرید رہے ہیں؟ ہم سے یہ کریڈٹ کارڈ لے لو 249 اور اس کے ذریعے کھلے دل سے خریداری کرو۔ کم از کم دو دو سو ڈالر کی شرٹس اور پانچ پانچ سو ڈالر کے بوٹ خرید کر وطن لے جاؤ تا کہ لوگوں کو معلوم ہو کہ تم امریکہ سے آئے ہو۔

اس نے کہا کہ وہ ان کے کریڈ ٹ کارڈ استعمال کرکے ان پر کسی طرح کا بوجھ نہیں بننا چاہتا، جس پر انہوں نے ہنس کر کہا کہ تم اس بات کا غم نہ کرو ہمیں خود معلوم نہیں یہ کریڈٹ کارڈ کس کے ہیں اور تم کس پر بوجھ بنو گے ! ایک موقع پر پھر انہوں نے اسے کہا کہ دیکھیں آپ یہاں کچھ کمانے آئے ہیں۔ بہت اوپر جانے کے لئے کم از کم ابتداء میں اس طرح کے فراڈ کرنے ہی پڑتے ہیں۔ جب تک کوئی بڑا داؤ نہیں لگاؤ گے کامیابی کی طرف بڑھ نہیں پاؤ گے۔ اصل کمائی تو ایسے ہی کاموں میں ہے۔ میرے دوست نے انہیں کریدنے کے لئے پوچھا :کس طرح کے کاموں میں ؟ انہوں نے کہا : تم اب واپس جارہے ہو تو جاتے ہوئے ہم سے کوئی پچاس ہزار ڈالر کے ٹریولنگ چیکس لے جاؤ، جا کر انہیں کیش کراؤ، ان سے آدھی رقم تمہاری اور آدھی ہماری ہوگی۔ اس نے کہا کہ یہ ٹریولنگ چیکس جعلی ہوں گے۔ انہوں نے کہا ہرگز نہیں ۔ ہمارے ساتھ شاپنگ کے لئے چل کر دیکھ لو، جس سٹور پر بھی چاہوہم ان چیکس کے ذریعے پے منٹ کرکے دکھا دیتے ہیں۔اس نے کہا تو پھر آپ یہ سارے چیکس اپنے پاس ہی کیوں نہیں رکھ لیتے ؟ 

انہوں نے کہا کہ ہمارے پاس تو ایسے لاکھوں ٹریولرز چیکس ہیں 249 اگر ہم سب کیش کرانے لے جائیں گے تو شک کی وجہ سے دھر لئے جائیں گے،جبکہ تم ایک وزٹر کے طور پر امریکہ آئے ہو یہاں انہیں کیش کرالو یا واپسی پر پاکستان میں جاکر۔ پچاس ہزار ڈالر کی رقم کوئی اتنی بڑی رقم نہیں کہ کوئی کسی وزٹر پرکسی طرح سے شبہ کرے۔ اس نے ان لوگوں کی ایسی باتوں کو مذاق یا ہوائی باتیں جانا تھا،لیکن انہوں نے اس کی ملاقات ایک لیموزین کے مالک ہم وطن سے کرائی اور بتایا کہ وہ اس وقت ایک امریکن بنک میں ایک بڑے عہدے پر تعینات ہے۔ لمبی چوڑی تنخواہ ہے اور بہت سی مراعات حاصل ہیں۔ اس شخص کے رخصت ہونے کے بعد انہوں نے بتایا کہ دراصل یہ شخص پہلے ا سی بنک میں کیشئر تھا، اس نے کمپیوٹر سافٹ ویئر پر استعمال کی ایک ایسی تکنیک اختراع کی جس کی وجہ سے بنک کے مختلف کھاتوں سے آہستہ آہستہ تین چار کروڑ ڈالر کی رقم فراڈ سے اپنے اکاؤنٹ میں منتقل کرلی۔

ایک موقع پر اس تکنیک کے استعمال میں اس سے کچھ غلطی ہو گئی، جس سے بنک والوں کو اس پر شبہ ہوگیا اور وہ پکڑا گیا۔ بنک نے اسے پولیس کے سپرد کردیا۔ بنک بورڈ کا اجلاس ہوا تو بورڈ کے ارکان نے اس شخص کی ذہانت اور مہارت پر تعجب کا اظہار کیا اور اس نتیجے پر پہنچے کہ ایسے ذہین اور طباع شخص کی صلاحیتوں سے بنک کو فائدہ اُٹھانا چاہئے۔ اس کے بعد ایک بہت اچھے وکیل کو ایک لاکھ ڈالر کا معاوضہ دے کر بنک نے خود اسے رہا کرایا اور اپنے ہاں لمبی چوڑی تنخواہ کے ساتھ سیکورٹیز کا انچارج بنایا ۔اس طرح جعلسازوں کے اس گروہ نے اس پر یہ واضح کرنے کی کوشش کی کہ ذہانت کی ،خواہ وہ منفی ہی کیوں نہ ہو،دُنیا میں کتنی قدر و اہمیت ہے۔

میرے دوست کے ان تجربات پر مبنی یہ حقائق میرے سامنے تھے اور میں سوچتا تھا کہ آخر امریکن ایسے تارکین وطن کو اپنے ہاں کس طرح برداشت کرلیتے ہیں؟ اب ’’فیوچر کرائمز‘‘ نامی کتاب میرے سامنے ہے اور میں سوچتا ہوں کہ امریکہ بے چارا خود اپنی اکانومی کو چار چاند لگانے اور دُنیا بھر میں اپنا کنٹرول مضبوط کرنے والی اس قابل فخرٹیکنالوجی کے ہاتھوں کس قدر بے بس ہے!

ڈاکٹر شفیق جالندھری

No comments:

Powered by Blogger.