Header Ads

Breaking News
recent

افغانستان کھلونا نہ بنے

طور خم بارڈر پر گیٹ کی تنصیب رکوانے کے لئے افغان فوج کی بلا اشتعال فائرنگ
سے پاک فوج کے میجر علی جواد چنگیزی شہید ہو گئے یہ کوئی معمولی بات نہیں۔ یہ سب کچھ افغان فورسز نے اِس حقیقت کے باوجود کیا کہ پاکستانی افواج نے افغانستان کی حدود میں آنے والی اپنی چوکی خالی کر دی تھی اور اب پاکستان کی حدود میں گیٹ کی تنصیب جاری ہے، ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ افغان حکومت اِس سلسلے میں پاکستان سے تعاون کرتی، کیونکہ طور خم بارڈر پر گیٹ کی تنصیب سے دونوں ممالک کے درمیان غیر قانونی نقل و حرکت کا خاتمہ ہو جائے گا، مگر اس کی بجائے افغانستان کی حکومت فوج کی اشتعال انگیزی پر خاموش ہے اور دونوں ممالک کے درمیان کشیدگی کو بڑھایا جا رہا ہے۔

پاکستان کی مسلح افواج نے افغان فوج کی جارحیت کا مُنہ توڑ جواب دیا ہے اور وہ چیک پوسٹ تباہ کر دی ہے، جو پاکستان پر حملے کے لئے استعمال کی جا رہی تھی۔ حیرت اِس امر پر ہے کہ افغان فوج یہ جانتے ہوئے بھی کہ وہ پاک فوج کا مقابلہ نہیں کر سکتی، بارڈرز پر اشتعال انگیزی کا مظاہرہ کیوں کر رہی ہے۔ یہ تو وہی تکنیک ہے، جو بھارت پاکستان کے ساتھ منسلک بارڈرز پر کرتا ہے اور بلا جواز سرحدی علاقوں میں فائرنگ اور مارٹر گولے پھینک کر کشیدہ فضا پیدا کر دیتا ہے۔ کیا یہ بات سچ تو نہیں کہ طور خم پر پاک افغان بارڈر کا افغانستان کی طرف نظام اب بھارتی خفیہ ایجنسی ’’را‘‘ کے ہاتھوں میں ہے اور افغان حکومت کی آشیر باد سے یہ سب کھیل کھیلا جا رہا ہے۔ تاریخ میں شاید یہ پہلی بار ہوا ہے کہ پاک افغان سرحد پر اس شدت کی کشیدہ صورت حال پیدا ہوئی ہے۔ یہ کوئی معمولی بات نہیں ہے، اس کے پسِ پردہ یقیناًکوئی بین الاقوامی سازش کار فرما ہے، کیونکہ خطے میں بدلتی ہوئی صورت حال کسی بھی طرح معمول کے واقعات کی نشاندہی نہیں کر رہی۔
چند ہفتے پہلے جب عسکری قیادت نے طور خم پر چیک پوسٹ خالی کرنے کا فیصلہ کیا تو اُس پر بعض حلقوں کی طرف سے خاصی تنقید ہوئی کہ اپنی زمین کیوں چھوڑ دی گئی، خود وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا کہ اِس بارے میں حکومت سے مشورہ نہیں کیا گیا، جبکہ آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ یہ فیصلہ ایک خاص حکمتِ عملی کے تحت کیا گیا ہے۔ پاکستان کی ایک انچ زمین بھی نہیں چھوڑی گئی۔ البتہ یہ چوکی چونکہ افغانستان کی حدود میں قائم تھی، اِس لئے اسے خالی کر کے اپنی حدود میں واپس آئے ہیں، آج افغان فورسز کی طرف سے طور خم بارڈر پر بنائے جانے والے گیٹ کے ردعمل میں جو کچھ کیا جا رہا ہے، وہ اِس امر کا ثبوت ہے کہ چوکی خالی کرنے اور بعدازاں وہاں گیٹ بنانے کا فیصلہ کسی بھی طرح افغان فورسز اور اُس کے پسِ پردہ طاقتوں کے مفاد میں نہیں،یہی وجہ ہے کہ وہ اشتعال انگیزی پر اُتر آئے ہیں اور ہر قیمت پر اِس گیٹ کی تعمیر کو رکوانا چاہتے ہیں۔ 

یہ پہلا موقع ہے کہ افغان و پاکستان سرحد پر چیکنگ کا ایک ایسا نظام نافذ کیا جا رہا ہے، جو بین الاقوامی ضابطوں کے عین مطابق ہے، اس سے پہلے افغانستان سے پاکستان آنا اتنا ہی آسان تھا، جیسے ایک محلے سے نکل کر دوسرے محلے میں جانا، اس سے فائدہ اُٹھا کر دہشت گرد بآسانی پاکستان میں داخل ہوتے اور قبائلی علاقوں میں روپوش ہو جاتے۔ اصولاً تو افغان حکومت کو اس نظام کوسراہنا چاہئے، کیونکہ اس کی وجہ سے دونوں طرف حالات کو نارمل کرنے کا موقع ملے گا، مگر افغان فورسز کی بلااشتعال کارروائیوں سے لگتا ہے کہ انہیں یہ فیصلہ ہضم نہیں ہو رہا۔ یہ کہنا خلافِ حقیقت ہو گا کہ یہ سب کچھ افغان فوج خود کر رہی ہے،اسے یقیناًافغانستان حکومت کی مکمل حمایت حاصل ہے اور افغان حکومت کا یہ فیصلہ ہر گز اپنا نہیں ہو سکتا۔ اس کے پسِ پردہ امریکہ اور بھارت کا ہاتھ ہے، جو افغانستان سے پاکستان کے اندر آزادانہ در اندازی چاہتے ہیں تاکہ خطے میں امن قائم نہ ہو اور اس امن کے ذریعے پاکستان جو فوائد حاصل کرنا چاہتا ہے،اُن سے محروم رہے۔

اس شبے کو اِس لئے بھی تقویت ملتی ہے کہ کل تک افغانستان کے حکمران حامد کرزئی کی زبان میں یہ واویلا کرتے تھے کہ پاکستان سے افغانستان میں دہشت گرد داخل ہوتے ہیں، اِس لئے وہ ان کے خلاف کارروائی کرے۔ آج جب پاکستان نے آپریشن ضربِ عضب کے ذریعے شمالی و جنوبی علاقوں کو دہشت گردوں سے پاک کر کے امن بحال کر دیا ہے ، تو صرف اس نکتے کو ایشو بنا کر کہ پاکستان بارڈر پر گیٹ کیوں نصب کر رہا ہے، فورسز پر حملہ کرنا، سمجھ سے بالاتر ہے۔ یہ تو خود افغانستان کا مطالبہ تھا کہ سرحد پر آزادانہ نقل و حرکت کو روکا جائے، اب جب اس بارے میں عملی کام ہو رہا ہے تو متشدد ردعمل ظاہر کیا جا رہا ہے۔ 

سابق صدر پرویز مشرف نے افغان فورسز کے حملے میں پاکستانی فوج کے میجر علی جواد چنگیزی کی شہادت پر ردعمل ظاہر کرتے ہوئے سوشل میڈیا پر ایک تفصیلی بیان دیا ہے، جس میں انہوں نے حیرت کا اظہار کرتے ہوئے کہا ہے کہ پہلے کبھی ایسا نہیں ہوا کہ افغان فوج نے پاکستانی فوج پر کبھی براہ راست فائرنگ کی ہو، لگتا ہے خطے کی بعض قوتیں افغانستان کو ہائی جیک کرنا چاہتی ہیں اور انہوں نے اپنا وہاں اثرو رسوخ بڑھا لیا ہے، مگر افغانوں کو یاد رکھنا چاہئے کہ ان کا تہذیبی، لسانی اور تاریخی تعلق پاکستان میں بنتا ہے،انہیں اس رشتے کو کسی صورت نہیں بھولنا چاہئے۔ انہوں نے پاک فوج کے ردعمل کی تعریف کی، جس میں افغانستان کی فوج کو دندان شکن جواب دیا گیا اور اُس کی وہ چوکی تباہ کر دی گئی، جو حملے کے لئے استعمال کی جا رہی تھی۔

افغان فوج کے بزدلانہ اور احمقانہ عمل سے آج پاکستان میں35سال سے مقیم لاکھوں افغان پناہ گزینوں کے بارے میں پاکستانی عوام کے تاثرات بدل گئے ہیں، انہیں آستین کے سانپ کہا جا رہا ہے، جنہوں نے بھارت کی خوشنودی کے لئے پاکستان پر حملہ کیا ہے، حالانکہ براہِ راست اِن پناہ گزینوں کا شاید اس واقعہ سے کوئی تعلق نہ ہو، مگر معاملہ چونکہ افغانستان کی طرف سے شروع ہوا ہے، اِس لئے لامحالہ دھیان اسی طرف جاتا ہے کہ افغانستان نے پاکستان کے تمام احسانات بھلا دیئے ہیں، بھارت افغانستان میں اثرو رسوخ بڑھا رہا ہے، یا افغانستان حکومت کا اُس کی طرف جھکاؤ زیادہ ہو گیا ہے۔ بات ایک ہی ہے اِس میں امریکہ بھی ایک بڑے فریق کے طور پر موجود ہے، جو افغانستان میں اپنی موجودگی کا فائدہ اٹھاتے ہوئے یہ چاہتا ہے کہ پاکستان میں اقتصادی راہداری منصوبے کو ناکام بنائے اور چین کے خطے میں بڑھتے ہوئے کردار کو کم کرے۔ یہی وجہ ہے کہ چین نے بھی کھل کر پاکستان کا ساتھ دینے کا اعلان کیا ہے۔ 

گویا یہ سب کچھ خطے میں بالادستی کی جنگ کا ایک حصہ ہے، مگر تکلیف دہ بات یہ ہے کہ افغانستان کی حکومت اس حقیقت کو فراموش کر رہی ہے کہ پاکستان سے بڑھ کر اُس کا کوئی فطری حلیف ہو ہی نہیں سکتا۔پاکستان نے ہر مشکل گھڑی میں افغانوں کا ساتھ دیا ہے۔ افغانستان میں امن لانے کے لئے پاکستان کے کردار کو کبھی فراموش نہیں کیا جا سکتا، جس کی خاطر خود پاکستانیوں نے ہزاروں جانیں قربان کیں۔ یہی وہ تناظر ہے، جس میں وزیر داخلہ چودھری نثار علی خان نے کہا ہے کہ افغانستان کو اب یہ فیصلہ کرنا ہے کہ وہ ہماری امن کوششوں کی حمایت کرتا ہے یا پھر دوسروں کی گیم کا حصہ بنتا ہے۔ و ہ کون سی قوتیں ہیں، جو افغانستان کو طالبان اور حکومت کے درمیان محاذ آرائی سے نکالنے کی بجائے پاکستان کے خلاف محاذ آرائی کی طرف دھکیلنا چاہتی ہیں اس طرح تو وہ سینڈوچ بن جائے گا، طالبان پیچھے سے اُسے ماریں گے اور آگے سے اُسے پاکستان سے مار پڑے گی، سب سے بڑا نقصان یہ ہو گا کہ پاکستان و افغانستان کے درمیان جو صدیوں پر محیط برادرانہ تعلقات ہیں انہیں شدید نقصان پہنچے گا اور لاکھوں افغان مہاجرین بھی متاثر ہوں گے۔ افغان حکومت کو ہوش کے ناخن لینے چائیں اور خود ہمیں بھی اپنی خارجہ پالیسی میں تبدیلیوں کی ضرورت ہے،کیونکہ امریکہ کی طرف جھکاؤ کی خارجہ پالیسی نے ہمیں کچھ نہیں دیا، اُلٹا ہمیں ایک ایسے مقام پر لاکھڑا کیا ہے، جہاں ہمارے چاروں طرف دشمنوں کی فصل اُگ آئی ہے۔

نسیم شاھد

No comments:

Powered by Blogger.