Header Ads

Breaking News
recent

یورپی یونین سے انخلاء کے بعد کا برطانیہ

گزشتہ چند مہینوں سے صرف یورپ ہی نہیں بلکہ دنیا بھر میں یہ تجسس پایا جا
رہا تھا کہ برطانیہ اپنے مستقبل کے بارے میں کیا فیصلہ کرنے جا رہا ہے؟ لیکن اب جبکہ ریفرنڈم ہوچکا اور اب بیشتر لوگوں کے ذہنوں میں سوال اٹھ رہا ہے کہ 44 سالہ اس تعلق کے خاتمے پر برطانیہ کو کن حالات کا سامنا کرنا پڑے گا؟ یا یہ کہ رکنیت کی بحالی یا منسوخی کے کیا فائدے یا نقصانات ہیں۔

برطانیہ جو کہ دنیا بھر میں روایتی بادشاہات کی تاریخ رکھتا ہے، حقیقتاً آج بھی یہ روایات اور احساس برتری ایک مخصوص طبقہ فکر کے ذہنوں سے ختم نہیں ہوسکی اور یہی سوچ ریفرنڈم کی اصل وجہ بھی تھی۔ یوں وہ طبقہ جو یونین سے انخلا کا حامی تھا وہ کامیاب ہوگیا اور برطانیہ 28 ممالک کی رکنیت سے علیحدہ ہوگیا۔ یونین میں برطانیہ دوسرے ممالک کی طرح ایک یورپی یونین ممبر کی حیثیت رکھتا تھا لیکن وہ باقی ممبر ممالک پر بالا دستی بھی قائم رکھنا چاہتا تھا۔ اگر برطانیہ یونین کا حصہ بنا رہتا تو اسے یونین کے مشترکہ قوانین کی پاسداری کرنی پڑتی، چاہے وہ بات ایمیگریشن کی ہو یا انسانی حقوق کی۔

انفرادی طور پر برطانیہ میں ان معاملات کیلئے رائج علیحدہ قوانین تھے لیکن یورپی رکنیت کی وجہ سے تمام یورپی ممالک کے باشندے بناء ویزہ کے نہ صرف برطانیہ میں قیام اور روزگار حاصل کرسکتے تھے بلکہ انہیں بھی برطانوی شہریوں کی طرح دیگر مراعات اور سہولیات میسر تھیں اور یہی بات انخلاء کی حامی جماعت کی طبیعت پر گراں گزرتی تھی کہ ہماری نوکریاں اور ٹیکس کا دیا گیا پیسہ ہمارے بجائے غیر برطانوی پاشندوں پر صرف کیا جارہا ہے، لیکن یورپی یونین میں رہنے کی وجہ سے ملنے والے کاروبار اور معیشت کی مضبوطی کے عنصر کو وہ یکسر بھول جاتے تھے۔ ان کے مطابق اپنے وسائل سے استفادہ حاصل کرنے کا حق مقامی باشندوں کا زیادہ ہے۔ اس تحریک کی بنیاد نے تب زور پکڑا جب چند سال پہلے یونانی معیشت تقریباً دیوالیہ ہونے کو تھی، چونکہ قانوناً یونان کو بحران سے نکالنے کے لیے باقی ممبر ممالک کو بھی اسے مخصوص حد تک امداد کی فراہمی یقینی بنانی تھی یہاں سے وہ بحث شروع ہوئی جو آج ریفرنڈم اور یونین سے حتمی انخلاء پر آکر ختم ہوئی ہے۔
اب آتے ہیں اُس سوال کی طرف کہ یورپی یونین سے نکل جانے سے برطانیہ پر کیا اثرات مرتب ہوں گے؟ جہاں ایک طرف انخلاء کا جشن ہے تو دوسری جانب بہت سارے قوانین میں تبدیلی اور تشکیل نو جیسے مسائل کا سامنا بھی رہے گا۔ عالمی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے مطابق یورپی یونین چھوڑنے کے بعد برطانیہ کو معاشی ترقی پر منفی اثرات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ آئی ایم ایف کے مطابق برطانیہ کو ایک طویل عرصہ غیر یقینی صورتحال کا بھی سامنا رہے گا اور اِس غیر یقینی صورت حال کے باعث مالیاتی مارکیٹس میں سرمایہ کاری زیادہ دیر نہیں رہے گی جبکہ معاشی پیداوار میں بھی خاطر خواہ کمی واقع ہوگی۔ آئی ایم ایف نے مزید یہ بھی کہا ہے کہ یورپی یونین چھوڑنے سے کسی حد تک لندن خود عالمی مالیاتی مرکز کا درجہ بھی کھو بیٹھے گا۔ یہی نہیں یورپی یونین چھوڑنے کے حوالے سے خدشات نے حالیہ مہینوں میں برطانوی مارکیٹوں پر ممکنہ طور پر بُرا اثر ڈالا ہے اور آج پاؤنڈ کی قیمت تاریخ کی کم ترین سطح تک گرگئی ہے۔

جہاں تک بات ہے تجارت کی تو انخلاء اور یونین سے پرانے معاہدوں کی منسوخی کے بعد جب تک کوئی نئے تجارتی معاہدے طے نہیں پاتے تب تک برطانیہ کو عالمی تجارتی تنظیم کے اصول و ضوابط کے تحت ہی محدود پیمانے پر تجارت کرنی پڑے گی یعنی دنیا کی جس مارکیٹ میں کبھی برطانیہ کو بالکل آزادانہ رسائی حاصل تھی، اب وہاں تجارت کیلئے چین اور امریکہ کی طرح شرائط و ضوابط پر کاربند رہ کر چلنا پڑے گا۔

دوسری طرف یورپی ممالک سے بہتر روزگار کی تلاش میں برطانیہ آنے والے تارکین وطن بھی اب باقاعدہ قانونی ضابطہ کار کا سامنا کریں گے اور اس طرح ان کی تعداد کو محدود کیا جانا برطانیہ کے لیے اب ممکن ہوسکے گا بلکہ اب صرف ہنر مند طبقہ کو ہی رسائی دی جائے گی اور جو 20 لاکھ کی تعداد پر مشتمل دیگر یورپی ممالک کے لوگ پہلے سے موجود ہے، انہیں اب واپس جانا پڑے گا کیونکہ اب قانونی طور پر وہ برطانیہ میں سکونت رکھنے کا جواز کھو بیٹھے ہیں۔ مختصر یہ کہ ریفرنڈم کی بنیادی وجوہات میں سے ایک بڑی وجہ بھی یہی تھی کہ وسائل کی مناسب تقسیم مقامی باشندوں تک محدود رکھی جائے اور یورپی باشندوں کی تعداد کو محدود کیا جائے۔ بہرحال انخلاء کے بعد برطانوی معیشت کیسی ہوگی، اور کس طرح کے نتائج برآمد ہوں ہوگے؟ کیا پھر مقامی لوگ ماضی سے بہتر مستقبل دیکھیں گے؟ ان سب کے جوابات کیلئے اب 2 سال تک کا عرصہ درکار ہے، جب تک نئی پالیسیوں اور قانون پر عملدرآمد شروع نہیں ہوجاتا۔

عابد ملک

No comments:

Powered by Blogger.