Header Ads

Breaking News
recent

پاکستان اور چین کے خلاف امریکا ۔ بھارت کا گٹھ جوڑ

آج (پیر 20 جون 2016ء) کے انگریزی روزنامے The News نے پہلے صفحے پر بڑی نمایاں شہ سرخی لگائی ہے کہ عوامی جمہوریہ چین نے بھارت کو ٹکا سا جواب دیا ہے کہ وہ NSG میں اس کی رکنیت کی حمایت نہیں کرے گا۔ یہ بات سمجھ میں بھی آتی ہے کہ بھارت جس طرح سے اس تنظیم میں رکنیت کے لئے ہاتھ پاؤں مار رہا ہے اس سے اس کی بدنیتی صاف عیاں ہو جاتی ہے کہ وہ NSG میں داخلے کی کوئی شرط پوری نہیں کرتا لیکن امریکہ کے بل بوتے پر وہ اپنا مقصد ناجائز طریقے سے حاصل کرنا چاہتا ہے۔

یاد رہے اس کے لئے اس نے 2005ء سے امریکہ پر ڈورے ڈالنے شروع کردیئے تھے اور یہ وعدہ لے لیا تھا کہ وہ بھارت کو غیرفوجی مقاصد کے لئے جوہری مواد، ٹیکنالوجی فراہم کرے گا۔ اس پر کچھ عرصہ دونوں ممالک میں بھارت کی جوہری منصوبے کی نگرانی پر بات چیت ہوتی رہی۔ امریکہ چاہتا تھا کہ جب وہ بھارت کو جوہری ٹیکنالوجی دے رہا ہے تو اسے اختیار ہونا چاہئے کہ وہ اس کے استعمال کی نگرانی کرے تاکہ وہ فوجی مقاصد کے لئے استعمال نہ کر سکے۔ اس ضمن میں امریکہ نے اسے اپنے ملکی قانون HYDEAU کی پابندی کی تجویز دی جسے بھارت نے یکسر مسترد کر دیا۔ ہونا تو یہ چاہئے تھا کہ بھارت کے انکار پر امریکہ اسے مذکورہ سہولت فراہم کرنے سے انکار کر دیتا لیکن بھارت نے ایران گیس پائپ لائن معاہدے سے الگ ہو کر اور ایران کے جوہری منصوبے کی مخالفت میں ووٹ دے کر امریکہ کی خوشنودی حاصل کر لی۔

ادھر امریکہ نے جارج بش کے زمانے سے چین کے محاصرے Containment کی سرد جنگ کے دور کی فرسودہ استعماری پالیسی جسے اس نے ترک تو نہیں کیا تھا اس میں بھارت کو شمولیت کی دعوت دے دی جسے صدر اوباما نے امریکی حکمت حربی کا اہم عنصر قرار دیتے ہوئے ایشیائی بحرالکاہل میں چین کے بڑھتے ہوئے اثرونفوذ کو روکنے کے لئے بھارت کے ساتھ معاہدہ کر لیا۔ گو بھارت بحرہند کی علاقائی طاقت ہے لیکن اوباما نے اس کے کاندھوں پر بحرالکاہل میں چین کے خلاف محاذ آرائی کی ذمہ داری ڈال دی۔ یہی نہیں اس نے ایشیا بحرالکاہل اقتصادی تنظیم APEC میں چین کو تنہا کرنے کے لئے اس کی دس ریاستوں کو توڑ کر ان پر مشتمل آزاد تجارتی خطہ بنا لیا جس میں سے چین کو خارج کر دیا۔
اس سلسلے میں اسے زیادہ محنت نہیں کرنی پڑی کیونکہ شمالی بحیرہ چین اور جنوبی بحیرہ چین میں واقع جزائر پر ایک طرف چین اور جاپان تو دوسری طرف چین اور فلپائن، ویتنام، ملیشیا، تائیوان کے مابین تنازعات اٹھ کھڑے ہوئے جنہیں چین علاقائی سطح پر طے کرنا چاہتا تھا لیکن اس میں امریکہ کود پڑا اور جاپان اور فلپائن سے پچاس کے عشرے میں کئے گئے فرسودہ فوجی معاہدات کا احیاء کر کے جنوبی بحیرہ چین کے جزیرے SPRATLY کے سمندری علاقے سے چین کو اطلاع دیئے بغیر جنگی جہاز بھیج دیئے جبکہ تائیوان سے بھارت کی طرح لڑاکا F16 طیارے فروخت کرنے کا معاہدہ کر لیا۔ لیکن جاپان میں امریکی جنگجو صدر نے بڑا خطرناک کھیل شروع کر دیا۔ اس نے جاپان کو اپنے سابقہ آئین میں ترمیم کر کے بیرون ملک جنگ میں امریکی افواج کی کمک کے لئے اپنی فوج بھیجنے کا اختیار دے دیا جس سے جنوبی کوریا، چین اور فلپائن، تائیوان میں خوف و ہراس کی لہر دوڑ گئی کیونکہ دوسری عالمی جنگ میں یہ ممالک جاپان کی جارحیت کے شکار رہ چکے ہیں۔ ان پر جاپان پانچ سال تک قابض رہا تھا جس کے دوران اس کی قابض فوج اور انتظامیہ نے مقامی آبادی پر بڑے مظالم ڈھائے تھے۔ 

اس کا ردعمل جنوبی کوریا پر بڑا شدید تھا۔ جاپان کے خلاف جنوبی کوریا کی ان خواتین نے مظاہرہ کیا جنہیں جاپان کی قابض فوج نے اپنے سپاہیوں کی ہوس کی تسکین کے لئے محبوس کیا ہوا تھا۔ جاپان کی قابض انتظامیہ انہیں Comfort Women کے نام سے موسوم کیاکرتی تھی۔ ان میں سے زیادہ تر تو مرکھپ گئی تھیں لیکن جو بچ گئی تھیں وہ جاپان کے خلاف سڑکوں پر نکل آئیں۔ ایسے ہی مظالم جاپان نے چین میں بھی کئے تھے۔ اس کا ذکر شہرۂ آفاق نوبل انعام یافتہ امریکی خاتون ناول نگار Perlbuck نے اپنے ناولوں Dragon Seed، Good Earth، Women’s Pavilion وغیرہ میں کیا ہے۔

مندرجہ بالا سطور میں جاپان کی عسکریت پسند پالیسی سے خطے کی ریاستوں کو اپنی بقاء کو لاحق خطرے کا شدید احساس ہو رہاہے۔ اگر اس خطے میں جنگ ہوئی تو وہ دوسری عالمی جنگ سے بھی زیادہ مہلک ہو گی۔ اس آگ میں امریکہ، بھارت کو شامل کر چکا ہے اور اس نے (بھارت) اپنی سرزمین پر نقل و حمل کی آزادی (Logistics) اور رسل و رسائل کے استعمال کا اختیار بھی دے دیا۔ اس پر بھارت کی حزب اختلاف نے بڑی تشویش کے ساتھ اس خدشے کا اظہار کیا ہے کہ امریکہ کو یہ مراعات دے کر نریندر مودی نے نہ صرف بھارت کی روایتی ناوابستہ پالیسی کو نقصان پہنچایا ہے بلکہ بھارت کو امریکہ کی ممکنہ جنگ میں جھونک دیا ہے۔ لیکن بھارت کی انتہاپسند ہندو حکومت عوامی جمہوریہ چین سے 1962ء کی جنگ میں اپنی شکست کا بدلہ لینے کے لئے اندھی ہو گئی ہے۔ اب امریکہ نے اسے F16 اور F18 لڑاکا طیارے بنانے کی بھی اجازت دے دی ہے جبکہ پاکستان کو درکار F16 کی فراہمی میں لیت و لعل کر رہا ہے۔

بھارت میزائل شکن میزائل کا کامیاب تجربہ کر کے چین اور پاکستان پر بالادستی حاصل کرنے میں کوشاں ہے اور چین کو اشتعال دے کر اس سے نبردآزمائی کرنا چاہتا ہے۔ اس کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ اس نے عوامی جمہوریہ چین پر الزام لگایا ہے کہ اس کے فوجی کنٹرول لائن عبور کر کے بھارت کی حدود میں داخل ہو گئے ہیں۔ اس کا چین نے منہ توڑ جواب دیا کہ جب سرحدوں کا تعین ہی نہیں ہوا تو ان کی خلاف ورزی کا سوال ہی نہیں پیداہوتا۔ فی الحال تو یہ صورت حال ہے کہ جس کے پاس جو علاقہ ہے وہ اس کے قبضے میں ہے۔ یاد رہے اس تنازعے پر فریقین میں مذاکرات کے 19 ادوار ہو چکے ہیں جو بھارت پاکستان مذاکرات کی طرح لاحاصل رہے۔

اس تناظر میں یہ حقیقت روزِ روشن کی طرح عیاں ہو جاتی ہے کہ امریکہ بھارت گٹھ جوڑ دراصل عوامی جمہوریہ چین کے خلاف ہے جبکہ بھارت کو چین کے خلاف استعمال کرنے کے لئے اوباما نے اسے پاکستان کے خلاف کھلی چھوٹ دے دی ہے۔ جیسا میں نے کالم کے آغاز میں لکھا ہے کہ The News اخبار نے صاف لکھا ہے کہ چین نے 24 جون کو NSG میں رکنیت کے لئے بھارت کی حمایت سے صاف انکار کر دیا ہے لیکن روزنامہ ڈان نے اس کی بجائے بھارت کی وزیر خارجہ سشما سوراج کے اس بیان کی شہ سرخی لگائی ہے کہ بھارت نے NSG میں پاکستان کی رکنیت کی مخالفت نہیں کی ہے بلکہ اسے اس تنظیم کے اراکین پر چھوڑ دیا ہے جو حقائق کا جائزہ لے کر ہی فیصلہ کریں گے۔ شریمتی جی نے بڑے وثوق سے کہا کہ چین نے بھارت کی مخالفت نہیں کی البتہ طریق کار کا ذکر کیا ہے۔ تاہم بھارت سال رواں میں NSG کا رکن بن جائے گا (ڈان 20 جون 2016ء) لیکن روزنامہ اسلام نے یہ سرخی لگائی ہے کہ چین NSG میں بھارت کی شمولیت کا مخالف نہیں (اسلام پیر 20 جون 2016ء) اس سے یہ تاثر پیدا ہوتا ہے کہ عوامی جمہوریہ چین اس تنظیم میں بھارت کے داخلے کی مخالفت نہیں کرے گا۔ ڈان نے جو سرخی لگائی ہے اس سے یہ تاثر نہیں ملتا کہ چین بھارت کی مخالفت نہیں کرے گا البتہ اس نے خبر کے متن میں اس کا ذکر کیا ہے۔ میرے خیال میں The News کی رپورٹ غیر مبہم اور واضح ہے اس سے کہیں یہ تاثر نہیں ملتا کہ چین کا رویہ مبہم ہے۔

بین الاقوامی میڈیا اسے بھارت اور پاکستان کے دنگل کے طور پر پیش کر رہا ہے جو درست نہیں ہے۔ بھارت امریکہ کی مدد سے عوامی جمہوریہ چین سے نپٹنا چاہتا ہے اس کے بعد وہ پاکستان پر وار کرے گا۔ اپنے مذموم عزائم کی تکمیل کے لئے وہ چین کو پاکستان سے الگ کرنے کے لئے پروپیگنڈا کر رہا ہے کہ چین پاکستان کی خاطر بھارت کی رکنیت کی مخالف نہیں کرے گا لیکن اس سفلی چال میں وہ ہرگز کامیاب نہیں ہو گا کیونکہ چین کے خلاف امریکہ سے گٹھ جوڑ کر کے اب بھارت، چین کا حریف بن گیا ہے۔ نریندر مودی نے اوباما کے ساتھ مشترکہ بیان میں جنوبی بحیرہ چین میں جہاز رانی کا اعلان کر کے دراصل اس عظیم طاقت کو للکارا ہے جس سے وہ اقتصادی، عسکری، سیاسی میدانوں میں پے در پے مار کھاتا رہا ہے۔ کچھ اناڑی قلمکار چین اور بھارت کے دوطرفہ تجارتی حجم سے یہ نتیجہ اخذ کرتے ہیں کہ اب اس کا جھکاؤ پاکستان کے بجائے بھارت کی طرف ہو گا۔ احساس کمتری کے مارے یہ لکھاری بھول جاتے ہیں کہ چین نے پاکستان میں شروع سے ہی جتنی سرمایہ کاری کی ہے اس کے بعد حالیہ چین پاک اقتصادی راہداری پر کی گئی 46 ارب ڈالر کی سرمایہ کاری، کیا اس کے باوجود وہ بھارت کو پاکستان پر ترجیح دے سکتا ہے۔ نیز گوادرجیسی بندرگاہ سے وہ اپنا مال خلیج، سری لنکا، افریقہ تک بآسانی پہنچا سکتا ہے جبکہ وسط ایشیا کی شاہراہوں سے اس کی برآمدات یورپ کی منڈیوں تک پہنچ جائیں گی۔

آخر اس کا جھکاؤ بھارت کی طرف کیوں ہو گا جب وہ (بھارت) اس کے مقابلے میں چاہ بہار پرسرمایہ کاری کر رہا ہے، اس طرح بھارت چین کا نہ صرف تزویراتی بلکہ تجارتی حریف بھی ہے۔ اگر بھارت پاکستان پر خدانخواستہ قبضہ کر لیتا ہے تو اس ملک پر اس کی (چین) تنصیبات اور سرمایہ پر بھی وہ قابض ہو جائے گا۔ اس لئے پاکستان پر کوئی حملہ عوامی جمہوریہ چین پر حملہ تصور ہو گا۔
پروفیسر شمیم اختر
روزنامہ "نئی بات"

No comments:

Powered by Blogger.