Header Ads

Breaking News
recent

سہمے ہوئے برطانوی اور سہمی ہوئی دنیا

برطانوی عوام کی جانب سے یورپی یونین سے نکلنے کے فیصلے کے بعد سوشل
میڈیا پر ایک عجیب سہما ہوا ماحول ہے۔ ایک جانب برطانیہ اور دنیا بھر میں بڑھتی ہوئی نسل پرستی اور قوم پرستی کے رجحانات اور اس سے جڑی شدت پسندی نظر آتی ہے تو دوسری جانب منقسم برطانیہ کی درمیان حائل خلیج جسے پاٹنے کو کوئی تیار نہیں ہے۔ جمعے کو ریفرینڈم کے اعلان کے بعد اگلے دو روز تک مسلسل ایسی ٹویٹس سامنے آتی رہیں جن میں برطانیہ میں اور دنیا کے مختلف ممالک میں رہنے والے ایسے افراد جو شکل یا ہیئت یا لہجے سے اس ملک کے نہیں لگتے انہیں نشانہ بنائے جانے کی بات ہوتی تھی۔

کارلوس نے ٹویٹ کی کہ ’میں گھر جا رہا تھا کہ میں نے سڑک کنارے دو مردوں کو گرے ہوئے دیکھا اور یہ سوچ کر تصاویر لیں کہ نشے میں دھت ہوں گے مگر پتا چلا کہ انہیں دو انگریز مردوں نے مار مار کر ادھ موا کر دیا تھا۔ طبی عملے کے مطابق دونوں باپ بیٹا ایک گھنٹے سے وہاں پڑے تھے۔ کسی نے ایمبولینس نہیں بلائی۔ یہ دونوں باپ بیٹا پولش تھے جنہیں مبینہ طور پر انگریزوں کے ایک گروہ نے مارا اور کہا کہ وہ کب ملک چھوڑ کر جائیں گے۔ سکائی نیوز کے صحافی ایڈم بولٹن نے لکھا ’اس ہفتے میں نے اور میرے خاندان نے تین بار یورپی شہریوں کے خلاف لوگوں کو یہ کہتے ہوئے سنا کہ ’تم لوگ کب چھوڑ کر گھر واپس جا رہے ہو۔‘ جیمز ٹٹکومب نے لکھا ’میری بیٹی نے مجھے بتایا کہ کسی نے ان کے سکول کے بیت الخلا میں ایک لڑکی کے نام کے ساتھ لکھا ’تم کب رومانیہ واپس جا رہی ہو۔‘
 
سکاٹش فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن نے اپنے خطاب میں سکاٹ لینڈ میں رہنے والے تمام غیر ملکیوں کو خوش آمدید کہا اور ان کی خدمات کا اعتراف کیا۔
کیمبرج کے علاقے ہنٹنگن سے ایک صاحب نے لکھا ’پولش خاندانوں کے لیٹر باکس میں یہ تحریر ڈالی گئی ہے۔ تحریر میں لکھا تھا ’یورپی یونین چھوڑ دیں مزید پولش کیڑے مکوڑے نہیں چاہیے۔‘ ہیون کرولی نے ٹویٹ کی کہ ’میری بیٹی برمنگھم میں کام ختم کر کے جا رہی تھی کہ اس نے چند نوجوانوں کو ایک مسلمان لڑکی کو گھیرے ہوئے آوازے کستے ہوئے سنا ’دفع ہو جاؤ ہم نے یورپ چھوڑنے کے لیے ووٹ دے دیا ہے۔‘ بلاگر منی ہوانگ نے لکھا ’یورپی یونین چھوڑنے کے ووٹ کے بعد ایسے ہمسائے جن سے ہم نے کبھی بات نہیں کی تھی ہم سے پوچھنے آ رہے ہیں کہ کیا آپ انگریزی بول سکتے ہیں۔‘لندن کے علاقے ہیکنی سے ایک ویڈیو وائرل ہوئی جس میں ایک شخص کو ایک سفید فام شخص گالیاں دے رہا ہے اور کہہ رہا ہے کہ غیر ملکی اس ملک سے دفعہ ہو جاؤ جبکہ وہ جواب میں اسے کہہ رہا ہے کہ میں برطانوی ہوں یہیں پیدا ہوا اور یہیں بڑا ہوا۔‘
یہ سارے اس ماحول کے چند نمونے ہیں ہیں جن سے برطانیہ میں رہنے والے مختلف قومیتوں کے لوگ گزر رہے ہیں جبکہ دوسری جانب فرانس میں انتہائی دائیں بازو کی جماعت کے اعلانات، آسٹریلیا میں ملک کے دو فیصد مسلمانوں کے خلاف ایک سیاسی جماعت کی کوریج میں اچانک اضافہ ایسی چند علامات ہیں جنہیں بہت پریشانی کی نظر سے دیکھا جا رہا ہے۔ مگر اس ساری صورتحال میں جو چیز غائب ہے وہ سیاسی رہنماؤں کی جانب سے ایسے رویوں کی حوصلہ شکنی جس میں سوائے سکاٹ لینڈ کی فرسٹ منسٹر نکولا سٹرجن اور لندن کے میئر صادق خان کے سب نے خاموشی اختیار کی ہوئی ہے۔

تو کیا سوشل میڈیا پر یہ سوال درست ہے کہ اس ریفرینڈم نے نسل پرستی کو یورپ سے آزادی کی آڑ میں جائز کر دیا ہے؟ اگر نہیں تو ٹوئٹر پر postrefracism# ہیش ٹیگ پڑھ کر آپ کے رونگٹے کھڑے ہو جائیں گے۔
طاہر عمران
بی بی سی اردو ڈاٹ کام


No comments:

Powered by Blogger.