Header Ads

Breaking News
recent

سعودی بن لادن گروپ حمایت کا حق دار ہے

گذشتہ ہفتے تین مختلف اخبارات میں تین شہ سرخیاں شائع ہوئیں:''وزارت بن لادن
کے عملہ کے لیے منصفانہ ڈیل کو یقینی بنائے گی''۔''چھوڑ جاؤ یا انتظار کرو،بن لادن گروپ نے 17000 سعودی ملازمین سے کہہ دیا'' اور ''سعودی عرب نے بحران زدہ بن لادن گروپ پر منصوبوں کی بولیوں میں حصہ لینے پر عاید پابندی خاتم کردی''۔

پہلی سرخی وزیر محنت مفرج الحقبانی کے بیان پر مبنی تھی۔انھوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ سعودی بن لادن گروپ سے تنخواہوں کے مسئلے کو حل کرایا جائے گا جبکہ یہ اطلاعات سامنے آئی تھیں کہ کمپنی کے ملازم ورکروں کو تنخواہیں ادا نہیں کی جارہی ہیں اور انھیں برطرفیوں کا سامنا ہے۔ اس دوران ملازمین کے احتجاج کی خبر آئی اور انھوں نے کمپنی کی دس بسوں کو آگ لگا کر جلا دیا۔ اس واقعے کی خبر سوشل میڈیا پر جنگل کی آگ کی طرح پھیل گئی۔

اس پر غیرملکی میڈیا نے بھی توجہ دی اور مجھے عالمی میڈیا اداروں کی جانب سے متعدد فون کالز موصول ہوئیں۔ میں نے کچھ بھی کہنے سے انکار کردیا کیونکہ یہ مسئلہ ابھی تک حل نہیں ہوا ہے اور میں ان لوگوں کو مزید جوش وخروش نہیں دلانا چاہتا تھا جو اس ایشو کو نامعلوم وجوہ کی بنا پر پیچیدہ بنانا چاہتے تھے مگر جس چیز سے مجھے صدمہ پہنچا ،وہ بعض ''ماہرین معیشت'' کا ردعمل تھا۔ وہ یہ کہنے کی کوشش کررہے تھے کہ بن لادن گروپ کو مورد الزام ٹھہرایا جانا چاہیے۔
لیکن ہمیں تاریخ کے لیے اور مہذب لوگوں کی طرح سچ بولنا چاہیے۔ بن لادن گروپ اور اس خاندان نے اس ملک (سعودی عرب) کی ساٹھ سال تک خدمت کی ہے۔ جہاں تک ان کے خاندانی اور ذاتی سطح پر کردار کا تعلق ہے تو وہ سرتاپا عجز وانکسار کا مرقع اور منکسرالمزاج ہیں۔ میں نے انھیں کبھی غرور وتکبر کا اظہار کرتے ہوئے نہیں دیکھا ہے جیسا کہ کاروبار اور صنعت میں آنے والے بہت سے نئے لوگوں کا وتیرہ ہے حالانکہ وہ اس سے محض عشرے دوعشرے قبل کمپنیوں کے سادہ ملازم یا عہدے دار تھے۔

سعودی عرب کے تمام بادشاہ اس خاندان کے مملکت کی معیشت میں کردار کو سراہ چکے ہیں۔ جیسا کہ کسی کا قول ہے:''یہ تعمیراتی گروپ اتنا بڑا اور بہت سے سرکاری منصوبوں کو کنٹرول کرتا ہے کہ وہ سعودی عرب کی تیل کے بغیر معیشت کا ایک لابدی جزو بن چکا ہے''۔ مملکت میں سیکڑوں چھوٹی کمپنیاں کے اس گروپ کے ساتھ کاروبار وابستہ ہیں اور وہ ان سے معاملہ کرتا ہے۔ تمام بنکوں کے ساتھ اس کے بنک کاری تعلقات ہیں۔ تمام بڑے گروپوں کی طرح اس کے بھی مثبت اور منفی پہلو ہیں۔ تاہم یہ ہمیشہ کاروبار اور صنعت میں صفِ اول میں رہا ہے۔

الزامات کا کھیل
ہاں، مسجد الحرام میں ایک بڑی کرین کے گرنے کا حادثہ رونما ہوا۔ اس کی تحقیقات جاری ہیں اور توقع کی جاتی ہے کہ مجاز حکام اس کو مکمل کرلیں گے۔تاہم فوری طور پر کسی نتیجے پر پہنچ جانا اور الزام تراشی کا کھیل رچانا میرے نزدیک بہت ہی مایوس کن ہے۔اس سے میڈیا کے بعض حصوں کی جانب سے ادا کیے جانے والے کردار سے متعلق سوالات بھی پیدا ہوگئے ہیں۔ کسی نے بھی بن لادن گروپ کے آمدن اور خرچ کے گوشوارے کو دیکھنے کی زحمت گوارا نہیں کی اور نہ کسی نے یہ اعداد وشمار فراہم کیے ہیں کہ اس وقت ریاست اور نجی شعبے کے ذمے بن لادن گروپ کی کتنی رقوم واجب الادا ہیں۔

عالمی سطح پر حکومت کی جانب سے بڑی کمپنیوں کو مالی امداد ملنے کی بہت سی مثالیں موجود ہیں۔1980ء کی دہائی کے آخر میں امریکا کو بنکوں کی بچتوں اور قرضوں کے بحران کا سامنا ہوا تھا۔اس مرحلے پر حکومت آگے بڑھی اور یہ تخمینہ لگایا گیا تھا کہ امریکی ٹیکس دہندگان کو 124 ارب ڈالرز کی لاگت پڑ گئی ہے۔2008ء کے مالی بحران کے نتیجے میں امریکی حکومت نے آٹوموبائل کے تیار کنندگان کو دیوالہ نکلنے سے بچانے کے لیے اربوں ڈالرز دیے تھے۔ اس طرح تیس لاکھ ملازمتوں کو بھی بچا لیا گیا تھا۔

یہ ایک طے شدہ حقیقت ہے کہ بہت سی سعودی کمپنیاں ٹھیکے کی رقوم تاخیر سے ملنے کی شکایت کرچکی ہیں۔ ٹھیکے داروں کو رقوم کی تاخیر سے ادائی سے ہمیشہ کمپنیوں پر اثرات مرتب ہوتے ہیں اور میں اس سے متعلق برسوں سے پڑھتا چلا آرہا ہوں۔ یہ اور بات ہے کہ عرب ٹی وی چینلز مسائل زدہ بن لادن گروپ کے لیے ''حل'' پیش کررہے ہیں۔ ایک مرتبہ ایک امریکی صحافی نے مجھ سے گفتگو کرتے ہوئے سعودی بن لادن گروپ کو سعودی عرب کے لیے ٹرامل کرو قرار دیا تھا۔ وہ ٹیکساس کی بہت بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی کا حوالہ دے رہے تھے جس نے ماضی میں بہت سی رکاوٹوں کا سامنا کیا ہے اور اب وہ ایک مشکل دور سے گزر آئی ہے۔زندگی کا یہی ایک راستہ ہے۔

سعودی بن لادن گروپ موجودہ بحران سے نکل آئے گا اور ہم سب اس کے لیے بہتری کے خواہاں ہیں۔
-----------------------------
(خالد المعینا اخبار سعودی گزٹ کے ایڈیٹر ایٹ لارج ہیں۔ 

No comments:

Powered by Blogger.