Header Ads

Breaking News
recent

ہماری جامعات پیچھے کیوں ہیں؟

نیا بھر میں تعلیم کی افادیت پر بڑا زور دیا جاتا ہے، قومیں علم و تحقیق کے شعبے
میں کام کرکے اپنی کامیابی کا لوہا عالمی سطح پر منواتی ہیں۔ اس سلسلے میں اعلیٰ تعلیم بہت زیادہ اہمیت کی حامل ہے۔ دنیا بھر میں اعلیٰ تعلیم کا مرکز جامعات ہوتی ہیں جہاں جدید علوم پڑھا کر تحقیق پر بہت زیادہ زور دیا جاتا ہے اور اس تحقیق کے نتیجے میں نسل انسانی کے فائدے کے لئے نت نئی ایجادات و دریافت معرض وجود میں آتی ہیں، جن سے نہ صرف وہاں کے ملک و قوم فائدہ اٹھاتے ہیں بلکہ پوری دنیا اس سے مستفید ہوتی ہے۔

لیکن اگر دنیا بھر میں نظر دوڑائی جائے تو بدقسمتی سے ہمارے ملک کے برعکس ترقی یافتہ ممالک کی جامعات تعلیم و تحقیق میں بہت آگے نظر آتی ہیں جس سے وہاں پر نت نئی ایجادات اور دریافتیں سامنے آتی رہتی ہیں۔ جس کی مدد سے وہ اقتصادی فائدہ اٹھا کر اپنے ملک کی معیشت بہتر کرکے وہاں کی عوام کو خوشحال رکھتے ہیں، یوں وہ ملک اگر آج ترقی یافتہ ہیں تو ان میں وہاں کی جامعات کا کردار بہت ہی اہمیت کا حامل ہے۔ جامعات میں جدید علوم اور تحقیق پر جو قومیں توجہ دے رہی ہیں وہ اپنا مستقبل روشن کر رہی ہیں۔ اگر آپ دنیا کی 10 بڑی جامعات کو دیکھیں تو ان میں سب سے زیادہ تعداد امریکی درسگاہوں کی نظر آئے گی، اور اسی لئے آج امریکہ سپر پاور بھی ہے۔

آئیے ذرا نظر ڈالتے ہیں کہ ہمارے ملک کی جامعات اتنی پیچھے کیوں ہیں؟ میرے خیال میں یہ چند اہم مسائل ہیں جو ہماری جامعات کو بہت پیچھے کررہے ہیں،

حکومت کی اعلیٰ تعلیم اور جامعات میں عدم دلچسپی
جامعات میں پرانا نصاب اور جدید علوم سے دوری
تحقیق صرف ڈگری کی خانہ پُری کے لئے اور ترقی پانے کے لئے کرنا
جامعات کا انڈسٹری سے وابستہ نہ ہونا
اساتذہ کا غیر معیاری ہونا
فنڈنگ کا مسئلہ

اگر ہم دیکھیں تو حکومتِ وقت کے منشور میں اعلیٰ تعلیم نظر ہی نہیں آتی ہے، اور اگر یہ سلسلہ مزید جاری رہا تو معاملات خراب سے خراب تر ہوتے چلے جائیں گے۔ اسی طرح ہماری جامعات میں آج بھی وہی پرانا طرز تعلیم رائج ہے جو دنیا میں 50 سال پہلے پڑھایا جاتا تھا جبکہ حقیقت یہ ہے کہ جدید طرز تعلیم و تحقیق کے عمل سے ہی ہم آگے جا سکتے ہیں۔

اگر ہم ایم فل، ایم ایس یا پی ایچ ڈی ڈگریوں کو دیکھیں تو زیادہ تر اساتذہ کرام اس چکر میں لگے ہوتے ہیں کہ بس ایک اچھا تحقیقی مقالہ کسی نہ کسی طرح سے کسی تحقیقی جرنل میں چھپ جائے جس پر اُن کی ترقی کا دارو مدار ہوتا ہے، یہی نہیں بلکہ طالب علم بھی ڈگری حاصل کرنے کے چکر میں محض خانہ پُری کیلئے تحقیق کرتا ہے اور پھر کہیں نہ کہیں پیپر شائع کرکے اپنے سپروائزر کو خوش کرتا ہے۔ یوں استاد بھی خوش اور شاگرد بھی، لیکن اصل تحقیقی کام صرف مذاق ہی رہ جاتا ہے جس کا نتیجہ ملک و قوم کے لئے صفر نکلتا ہے۔ ایسی صورت میں یہ سمجھنا مشکل نہیں کہ ہم آج ترقی کیوں نہیں کررہے۔

اسی طرح بہت سے اساتذہ صرف وقت گزاری کیلئے ہوتے ہیں، تاکہ مہینے کے آخر میں تنخواہ مل جائے، ان کی ذہنی سطح بس اسی نکتہ تک محدود ہوتی ہے۔ ایسے اساتذہ کی کڑی نگرانی کرکے غیر معیاری اساتذہ کا احتساب کیا جائے تو ہی کچھ بہتری آسکتی ہے ورنہ ندارد۔

میرے خیال میں ہماری جامعات کی ناکامی کا سب سے اہم سبب نااہل حکمران ہیں۔ زیادہ تر ایسے حکمران ہم پر مسلط ہوتے ہیں جن کا نہ تو واضح تعلیمی نظریہ ہوتا ہے اور نہ ہی تحقیق کے حوالے سے وہ کچھ کرنے کے اہل ہوتے ہیں۔ جب تک سربراہ نااہل ہوں گے تو شاید ہی جامعات آگے بڑھ سکیں۔ وزارت تعلیم اہل افراد کو سونپ کر ہی اس خامی پر قابو پایا جا سکتا ہے۔

سید صفدر حسین شاہ

No comments:

Powered by Blogger.