Header Ads

Breaking News
recent

تعلیمی اداروں میں تعطیلات کی بھرمار

پاکستان میں سرکاری اور نجی تعلیمی اداروں میں تعطیلات کی بھر مار ہے۔ پرائیویٹ ادارے عموماً سرکاری اداروں کے معمولات کو اپناتے ہوئے اکثر ان سے بھی آگے نکلنے کی کوشش کرتے ہیں۔

اس طرح سرکاری اور پرائیویٹ اداروں کے تعلیمی سال کا بیشتر حصہ تعطیلات کی نذر ہو جاتا ہے ۔ اگر تعلیمی اداروں میں تقریبات اور امتحانی ایام کو شامل کیا جائے تو طلبا اور طالبات کے لیے تدریسی اوقات کا دورانیہ بہت کم رہ جاتا ہے ۔ اس میں تعلیمی اداروں کے اساتذہ کے لیے رخصت اتفاقیہ کو شامل کیا جائے تو تدریسی اوقات میں اور بھی کمی واقع ہوجاتی ہے ۔

جس دن کوئی استادرخصت اتفاقیہ پر ہو تو عارضی طور پر کسی دوسرے استادکی ڈیوٹی لگادی جاتی ہے کہ وہ کلاس روم میں جاکر  تدریسی فرائض سرانجام دے۔ متبادل استاد کو یہ اضافی ڈیوٹی سخت ناگوار گزرتی ہے۔ وہ کلاس روم میں جاکر وقت گزارتا ہے اوراس طرح کلاس کا مانیٹر استادکا نعم البدل بن جاتا ہے۔
استاد صاحب آرام فرماتے ہیں اور طلباء کو خاموش رکھنے کا فریضہ کلاس کا مانیٹر سرانجام دیتا ہے۔ بعض اوقات دو یا تین طلباء کو کلاس کے مختلف حصوں میں کھڑا کردیا جاتا ہے کہ وہ طلباء کو شور کرنے یا ایک دوسرے سے باتیں کرنے سے منع کرتے رہیں اور اکثر اوقات انہیں طلباء کو سزا دینے کی تربیت دی جاتی ہے کہ کلاس سے شور باہر نہ جانے پائے اور ہیڈ ماسٹر/ مسٹرس کو یقین رہے یا ڈے ماسٹر کو احساس رہے کہ کلاس روم میں تدریسی کام جاری و ساری ہے۔ اس طرح سے پیریڈ کا وقت باآسانی گزرجاتا ہے۔

اساتذہ کرام کا یہ حق ہے کہ وہ سال کے دوران 25 ایام رخصت اتفاقیہ لے سکتے ہیں۔ اکثر اساتذہ کرام اپنے اس حق سے بھر پور فائدہ اٹھاتے ہیں۔اکثر اساتذہ اپنی رخصت اتفاقیہ کے ایام ان دنوں میں پورے کرتے ہیں جبکہ طلباء کے امتحان کے دن قریب ہوتے ہیں۔ اصولاً رخصت اتفاقیہ کے لیے درخواست ایک دن قبل دینا ضروری ہوتا ہے تاکہ ایک ہی وقت میں اساتذہ کی زیادہ تعداد رخصت اتفاقیہ پر نہ ہو اور طلباء کا تدریسی وقت کم سے کم ضائع ہو لیکن دیکھا گیا ہے کہ اساتذہ کرام اس بات کی ہرگز پروا نہیں کرتے بلکہ درخواست رخصت عین وقت پر سکول بھجوا دیتے ہیں ۔

سب سے بڑا مرحلہ تعطیلات موسم گرما ہیں جو اکثر و بیشتر تین ماہ پر مشتمل ہوتی ہیں۔ بعض سکول تعطیلات گرما شروع ہونے سے پہلے یا ختم ہونے کے بعد از خود چھٹیوں میں اضافہ کرلیتے ہیں۔ اس میں سب سے بڑا طریقہ بچوں کا ٹیسٹ لیا جانا ہے۔ اس ٹیسٹ کے لیے سرکاری مدارس عموماً اور پرائیویٹ ادارے خصوصاً ٹیسٹ کے اخراجات کی وصولی طلباء سے کرتے ہیں اور تعطیلات سے قبل دس سے پندرہ ایام اس ٹیسٹ کی آزمائش اور تیاری میں گزار دیتے ہیں یا پھر تعطیلات کے فوراً بعد یہ مرحلہ پیش آتا ہے۔ یوں سمجھئے کہ یہ تعطیلات ساڑھے تین ماہ تک طوالت اختیار کرلیتی ہے۔

اب ان موسم گرما کے تین ماہ ،موسم سرما کے دس دن، اور تعلیمی سال کے دوران اتوار کی چھٹیاں، سالانہ امتحان پر بیس دن اور اس کے علاوہ دیگر سرکاری تعطیلات کے بعد تدریسی اوقات کے لیے صرف5 ماہ بچ جاتے ہیں اور اگر ان میں سے اساتذہ کی رخصت اتفاقیہ کے دن نکال دیئے جائیں تو تقریباً 4 ماہ کا عرصہ بنتا ہے۔

اساتذہ کرام سالانہ معاوضہ بصورت ماہانہ تنخواہ 12 ماہ کا وصول کرتے ہیں اور بچوں کو تقریباً 4 ماہ پڑھاتے ہیں اور سرکاری اور پرائیویٹ ادارے طلباء سے پورے سال کی ماہانہ فیس وصول کرتے ہیں۔ پرچوں کی چھپائی، امتحانی جوابی کاپیوں کا معاوضہ الگ سے وصول کیاجاتا ہے۔ اس کے علاوہ بچوں کو مجبور کیا جاتا ہے کہ وہ ٹیوشن بھی ضرور پڑھیں۔ چاہے ٹیوشن مجموعی طور پر ہو یا انفرای طور پر کیونکہ ہوم ورک کو مکمل کرانے کے لیے امدادی ٹیچر کی اشد ضرورت ہے۔

سرکاری اسکولوں میں اجتماعی ٹیوشن کا رواج عام ہے۔ سکول کے اوقات کے دوران جوکہ عام طور پر چھ گھنٹوں پر مشتمل ہوتا ہے طلباء مختلف مضامین پر دسترس حاصل نہیں کرپاتے بلکہ ضروری مضامین جیسے کہ انگلش، ریاضی اور سائنس کے مضامین کے لیے سکول کے اوقات کے فوراً بعد ایک گھنٹہ یا اس سے کچھ زیادہ ٹیوشن پڑھنا ضروری سمجھا جاتا ہے اور بعض جگہوں پر لازمی تصور کیا جاتا ہے، جس کے اخراجات والدین کو اضافی طور پر برداشت کرنا پڑتے ہیں۔

رہیں تعطیلات موسم گرما اس کا رواج کب شروع ہوا اور اس کی اہمیت کیا ہے۔اس بارے میں کچھ نہیں کہا جا سکتا لیکن اب تاثر یہی دیا جاتا ہے کہ موسم گرما میں گرمی کی شدت طلباء برداشت نہیں کرسکتے لہٰذا ان کا گھروں میں بیٹھے رہنا بہتر ہے اور انہیں ہدایت کی جاتی ہے کہ دیے گئے ہوم ورک کو کاپیوں پر منتقل کرکے تعطیلات کے بعد سکول آئیں۔

اگر ان تعطیلات کو ختم کرکے گرمی کی شدت کے دوران سکول کے اوقات کا دورانیہ چار گھنٹے کردیا جائے اور باقی ایام میں چھ گھنٹے ہو تو طلباء کا بیشتر وقت ضائع ہونے سے بچ جائے گا اور طلباء دوران سال مصروف رہیں گے ۔ اساتذہ بھی تدریسی کام میں مصروف رہیں گے ۔ محکمہ تعلیم کو چاہیے کہ وہ ایسا لائحہ عمل تیار کرے جس سے طلباء کا قیمتی وقت ضائع ہونے سے بچ سکے ہو اور اساتذہ کرام مفت کی تنخواہ سے مستفید نہ ہوں۔

شمیم انصاری

No comments:

Powered by Blogger.