Header Ads

Breaking News
recent

سراج الحق کے نیب اور عدلیہ کے خلاف دھرنے ۔ خوش آئند؟

جماعت اسلامی کے امیر سراج الحق ملک میں کرپشن کے خلاف ایک بڑی تحریک شروع کرنے جا رہے ہیں۔ بلکہ ان کی یہ تحریک اب تک جوبن پر پہنچ چکی ہوتی لیکن ممتاز قادری کے ایشو نے اس کو پیچھے کر دیااور وہ ممتاز قادری کے مسئلہ کو آگے لے آئے۔ اسی وجہ سے ان کی کرپشن کیخلاف تحریک کا شیڈول بھی متاثر ہو رہا ہے۔ اور ان کا اپنا فوکس بھی ڈی فوکس ہو رہا ہے۔

سراج الحق کی جماعت اس وقت کے پی کے میں تحریک انصاف کے ساتھ شریک اقتدار ہے۔ لیکن اس شراکت اقتدار کے باوجود انہوں نے تحریک انصاف کے دھرنوں میں شرکت نہیں کی تھی۔ اور نہ ہی کسی بھی لمحہ عمران خان اور تحریک انصاف کا ساتھ دیا۔ بلکہ راوی یہ بتاتے ہیں کہ عمران خان اور تحریک انصاف نے سراج الحق پر شدید دباؤ ڈالا کہ وہ اور ان کی جماعت دھرنوں میں ساتھ دے۔ اور آخر میں بات یہاں تک پہنچ گئی ایک دفعہ کنٹینر سے خطاب ہی کر دیں۔ بلکہ یہ سراج الحق ہی تھے جنہوں نے تحریک انصاف کو کے پی کی کی اسمبلی تحلیل کرنے سے روکا۔

 اور یہ وارننگ دی کہ وہ اسمبلی کی تحلیل میں ساتھ نہیں دیں گے۔ حالانکہ اس وجہ سے عمران خان اور سراج الحق کے درمیان فاصلے پیدا ہو گئے ۔ جو آج تک قائم ہیں۔ اور اپنی ان خدمات کے عوض انہوں نے حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) سے بھی کچھ نہیں لیا۔ ایک دفعہ میں نے ان سے پوچھا کہ آپ نے دھرنوں میں ساتھ نہیں دیا اور ن لیگ سے بھی کچھ نہیں لیا۔ یہ کیا سیاست ہے۔ تو وہ مسکرائے۔ اور کہنے لگے کہ میں اپنی باقی سیاسی زندگی آمریت کے خلاف جدوجہد میں نہیں گزارنا چاہتا تھا۔ اسی لئے میں نے عمران خان سے کہا کہ تمھارے دھرنے سے جمہوریت کو خطرہ ہو سکتا ہے۔ اس لئے ساتھ نہیں دو نگا۔ اور میاں نواز شریف کو کہا تھا کہ آپ کا نہیں جمہوریت کا ساتھ دے رہاہوں کوئی احسان نہیں کر رہا۔
تا ہم اب سراج الحق کرپشن کے خلاف خود دھرنے دینے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ اگر عمران خان کا دھرنا جمہوریت کی بقا کے لئے خطرہ تھا تو سراج الحق کے دھرنے جمہوریت کے لئے خطرہ کیوں نہیں ہیں۔ دونوں میں کیا فرق ہے۔ ایک فرق تو یہ ہے کہ سراج الحق حکومت کو گرانے کے لئے دھرنا نہیں دے رہے۔ وہ پارلیمنٹ کو ختم کرنے کے لئے دھرنا نہیں دے رہے۔ وہ اپنے دھرنوں سے وزیر اعظم سے استعفیٰ نہیں مانگ رہے۔ لیکن اگر ان کا ٹارگٹ یہ سب نہیں ہے تو کیا ہے۔

سراج الحق اسلام آباد میں نیب کے دفتر کے باہر دھرنا دینے جا رہے ہیں۔ وہ نیب پر باؤڈ بڑھانا چاہتے ہیں کہ وہ اپنی کارکردگی بہتر کرے۔ میں سمجھتا ہوں کہ سراج الحق پاکستان کی بہتری کی بات کر رہے ہیں۔ وہ پاکستان کے روشن مستقبل کی بنیاد مستحکم کرنے کی بات کر رہے ہیں۔ وہ وہی کام کر رہے ہیں جو تمام جمہوری ممالک میں کیا گیا ہے۔ ہمارے ملک میں جب بھی جمہوریت کو خطرہ ہو تا ہے تو ہم فوری بھارت کی مثال دیتے ہیں ۔

 لیکن اگر بھارت کی ہی مثال سامنے رکھ لیں تو ماضی قریب میں بھارت میں انا ہزارے نے کرپشن کے خلاف ایک بہت بڑی تحریک کی قیادت کی۔ ایک طویل دھرنا دیا۔ بھوک ہڑتال کی۔ اور کرپشن کے خلاف انا ہزارے کی اس تحریک کے آگے بھارت کی حکومت کو کافی حد تک سرنگوں ہونا پڑا۔ کرپشن کے خلاف نئی قانون سازی بھی ہوئی۔ انا ہزارے کی کرپشن کے خلاف اس تحریک کو بھارت میں بہت پذیر آئی ملی اور تما م مکاتب فکر نے ان کے ساتھ اظہار یکجہتی کیا۔ اس لئے سراج الحق کی بھی کرپشن کے خلاف تحریک سے نہ تو پاکستان کمزور ہو گا ۔ اور نہ ہی جمہوریت کمزور ہو گی۔

کرپشن پاکستان کا ایک اہم مسئلہ ہے۔ ابھی تک ہمارے ملک میں کرپشن کے خلاف کا م کرنے والے ادارے اپنی کارکردگی عوامی توقعات کے مطابق نہیں کر سکے ہیں۔ بلکہ یہ کہنا غلط نہ ہو گا کہ کرپشن کے خلاف کام کرنے والے انہی اداروں کی نا اہلی کی سزا جمہوریت کو ملتی ہے۔ اگر کرپشن کیخلاف کام کرنے والیے ادارے اپنا کام ٹھیک سے کرنے لگ جائیں تو کرپشن خود بخود ختم نہیں تو کم ضرور ہو جائے گی۔ ملک میں کرپشن کے اس بول بالا میں نیب جیسے اداروں کا بھی بھرپور ہاتھ ہے۔ نیب حقیقی معنوں میں کرپشن کے خلاف موثر کردار ادا کرنے میں نا کام رہا ہے۔ انکوائریز کا سالہا سال التوا میں رہنا۔کیسز کو سیاسی بنیادوں پر دبانا اور اٹھانا۔

سراج الحق کی یہ سوچ کافی حد تک ٹھیک ہے کہ اگر ہم ملک میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والے اداروں اور عدلیہ کو ٹھیک کر لیں تو کرپشن کا معاملہ کافی حد تک حل ہو جائے گا۔ اگر نیب اور دیگر ادارے ٹھیک کام کریں تو چور پکڑے جائیں گے۔ چور بچ نہیں سکیں گے۔ اس لئے نیب کے دفتر کے باہر دھرنا ایک درست قدم ہے۔ ہمیں بحیثیت قوم کرپشن کے خلاف کام کرنے والے اداروں کے گرد گھیرا تنگ کرنا ہو گا تا کہ انہیں ٹھیک کام کرنے پر مجبور کیا جا سکے۔

اسی طرح ملک میں کرپشن کے خلاف کسی بھی تحریک کے نا کام ہو نے کی ایک بڑی وجہ یہ بھی ہے کہ ہمارے ملک میں عدلیہ کرپشن کے خلاف کیسز میں بر وقت فیصلے کرنے میں نا کام رہی ہے۔ جس کی وجہ سے کرپٹ عناصر کی حوصلہ افزائی ہوئی ہے۔ کرپشن کے خلاف کام کرنے والے ادارے اپنی نا اہلی کا دفاع کرتے ہوئے یہ توجیح پیش کرتے ہیں کہ انہوں نے جن مقدمات کو عدالت بھیجا بھی ہے۔ ان کو عدالتوں نے گھاس نہیں ڈالی ہے۔

 اس لئے سراج الحق کا سپریم کورٹ لاہور ہائی کورٹ اور دیگر عدالتوں کے خلاف دھرنے دینے کا فیصلہ بھی کافی حد تک درست ہے،اس ملک کی عدلیہ کو اس بات پر مجبور کیا جا سکے کہ وہ کرپشن کے مقدمات کے بروقت اور دلیرانہ فیصلے کرے۔ تکنیکی بنیادوں پر ملزمان کو چھوڑنے کا سلسلہ بہر حال بند ہو نا چاہئے۔ منی لانڈرنگ کے مقدمات کو سنجیدگی سے لینے کی ضرورت ہے۔ اس لئے سراج الحق ایک ٹھیک کام کرنے جا رہے ہیں۔

 لیکن ضرورت اس امر کی ہے کہ وہ اس میں سیاست کا تڑکا کم سے کم رکھیں۔ افراد کو نہیں اداروں کو نشانہ بنائیں۔ ادارے ٹھیک ہو گئے تو افراد خود بخود نشانہ پر آجائیں گے۔ جب ادارے ٹھیک کام کر رہے ہونگے۔ عدلیہ انصاف کر رہی ہو گی۔ تو حکمران کیا کوئی بھی بچ نہیں سکے گے۔ اگر سراج الحق اس ملک میں کرپشن کے خلاف کام کرنے والے اداروں اور عدلیہ پر عوامی دباؤ بڑھا سکیں تو یہ ان کی بہت بڑی عوامی و قومی خدمت ہو گی۔

مزمل سہروردی

No comments:

Powered by Blogger.