Header Ads

Breaking News
recent

بشار الاسد : شام کا نجات دہندہ ؟

صدی کا سب سے دلچسپ بیان شام کے صدر بشار الاسد نے دیا ہے۔ کہا ہے کہ
"مجھے شام کے نجات دہندہ کے طور پر یاد رکھا جائے گا۔"
کیوں نہیں، ضرور۔ اگر اپنے ہی ملک کی 11 فیصد آبادی کو نیست و نابود کرنا نجات دہندہ ہونے کی شرط ہے تو آپ نجات دہندہ ہیں۔ اگر اپنے ہی ملک کی پچاس فیصد آبادی کو ملک سے نکال باہر کرنا نجات دہندگی ہے تو آپ کی برابر کا نجات دہندہ اور کوئی نہیں۔ اگر اپنے ہی ملک کے 70 فیصد شہروں کو کھنڈر اور مٹی کے ڈھیروں میں بدل دینے ہی میں ملک کی نجات ہے تو بیشک آپ نجات دہندہ ہیں۔ 

ایک لاکھ بچوں کو جنت کی راہ دکھانے والا نجات دہندہ نہیں تو پھر کون ہے جو اس سعادت کا سہرا باندھنے کا حقدار ہو۔ حضور آپ تو پول پاٹ کو بھی پیچھے چھوڑ گئے۔ اس نے دوعشروں میں ملک کی 30 فیصد آبادی کا صفایا کیا تھا۔ یعنی پانچ برس میں ساڑھے سات فیصد،آپ نے اتنی مدت میں پانچ لاکھ شہری کالعدم کر دئیے۔
لیکن آپ کی طاقت کا یہ ایک رخ ہے، دوسرا رخ یہ ہے کہ آپ تو اپنی کرسی بھی 
خود نہ بچا سکے،امریکہ،روس،برطانیہ اور ایران اپنی اجتماعی طاقت لے کر آئے تو آپ کی کرسی بچی ہوئی ہے،وہ بھی تابکے،بہر حال،آدھے نجات دہندہ تو آپ ضرور ہیں۔

بشار کی نجات دہندگی کا قصہ طویل ہے۔ اس دوران شام کے لیے عالمی عزائم کے تھیلے سے بلی بلکہ دو دو بلیاں برآمد ہونے کے آثار ظاہر ہو گئے ہیں۔ حیرت انگیز طور پر جلدی جلدی اشارے مل رہے ہیں۔ ایک تو اسرائیل نے شام کی تقسیم کے خد وخال بتا دئیے ہیں اور دوسری طرف روس نے بھی تقسیم کا اشارہ دے دیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے شام کے تین حصے کر دئیے جائیں۔ علوی شام، دوسرا کردوں کا،تیسرا دروزیوں کا۔

 شام میں 3 فیصد شیعہ مسلمان ہیں۔ وہ علوی علاقے میں رہتے ہیں، وہیں رہیں گے۔ دروز 3 فیصد ہیں، 10 فیصد مسیحی ان کے ساتھ رہیں گے۔ 10 فیصد کرد اپنے علاقے میں یہ اور 10 فیصد علوی ملا کر 36 فیصد ہوئے، اور 64 فیصد عربوں کا ذکر ہی نہیں۔ واہ، کیا انصاف ہے۔ یعنی وہ ترکی میں پناہ لے لیں، سعودی عرب میں گھر بنا لیں، اردن چلے جائیں، یورپ جاتے ہوئے سمندر میں ڈوب جائیں، جو بھی کریں، تقسیم شام میں ان کے لیے کوئی حصہ نہیں رکھا گیا۔

امریکہ کے تھیلے کی بلی میں البتہ عربوں کے لیے جگہ ہے،70 فیصد کے لیے نا سہی ، جنگ ختم ہونے کے بعد جتنے بچے رہیں گے اتنوں کے لیے ہی سہی ۔ روس نے بشار الاسد کو انتباہ کیا ہے کہ وہ سارے شام پر حکومت کا خواب نہ دیکھیں۔ اس بیان کا ایک ہی ''ترجمہ'' ہے اور وہ ہے شام کی تقسیم لیکن روس کا فارمولا کیا ہے،ابھی واضح نہیں۔ اسرائیل نے فارمولا دیا ہے، ایران اس سے پوری طرح متفق ہے لیکن روس کا فارمولا کچھ مختلف لگتا ہے۔
تھیلے سے سر نکالنے والی امریکی بلی کا روپ رنگ ترکی کے صدر رجب طیب ایردوآن کے بیان سے واضح ہے۔ انہوں نے کہا ہے کہ امریکہ کردوں کو ہتھیار دے رہا ہے۔ کیوں دے رہا ہے؟ ظاہر ہے، اپنا ملک بنانے کے لیے۔ کرد، بشار کے خلاف نہیں لڑ رہے۔ ان کی جنگ ترک سرحد سے ملحقہ شامی علاقوں پر قابض شامی حریت پسندوں سے ہے۔ پچھلے ہفتے کردوں کی دہشت گرد تنظیم نے استنبول اور ایک دوسرے شہر میں دو بم دھماکے کیے، سو افراد مارے گئے۔ 

نومبر میں اسی تنظیم نے استنبول میں دھماکے کر کے سو سے زیادہ افراد کو مار ڈالا تھا۔ امریکہ نے ترکی سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ کردوں کی اس تنظیم پر بمباری روک دے جس نے یہ دھماکے کیے ہیں۔ امریکہ اس تنظیم کو دہشت گرد ماننے کے لیے تیار نہیں۔ دہشت گردی میں کوالیفائی کرنے کے لیے کتنے بم دھماکے کرنا ضروری ہیں؟

امریکہ کو بتانا چاہیے پاکستان کی جاعت الدعوہ نے ایک بھی بم دھماکہ نہیں کیا۔ امریکہ نے اسے دہشت گرد قرار دے دیا۔ ثابت ہوا، دہشت گردی کی کوالی فیکیشن محض بم دھماکے نہیں۔ خیر، اتنا تو ہوا کہ امریکہ کو ''کردستان'' کا مائی باپ ہونے کی حیثیت کی رسید مل گئی۔ دوسری طرف یورپی یونین نے الزام لگایا ہے کہ روس اور ایران داعش کو اسلحہ اور پیسہ دے رہے ہیں۔ کیوں؟ اس لیے کہ داعش کی جنگ بشار الاسد سے نہیں۔ اس کے پاس جتنا بھی رقبہ ہے (جو آدھے شام سے زیادہ ہے) وہ پالمیریا اور چند ایک قصبوں کو چھوڑ کر سارے کا سارا وہ ہے جو اس نے شامی حریت پسندوں ( النصرہ، لوائے اسلام، جیش الحر، وغیرہ سے چھینا ہے۔ ان حریت لیڈروں نے یہ رقبہ بشار کی فوج سے چھینا تھا۔

روس اور ایران کو کافی امیدیں داعش سے وابستہ ہیں کہ وہ حریت پسندوں کو میسرے سے گھیر رکھے گی، میمنے کی طرف بشار کی فوج اور روسی و ایرانی فضائیہ ہیں۔ اس ہفتے ایک اور اہم واقعہ بھی ہوا جس سے کئی مبصر حیران رہ گئے۔ روس کے صدر پیوتن نے سعودی فرما نروا شاہ سلیمان سے شام کے بحران پر تفصیل سے گفتگو کی۔ روس اس تنازعے میں سعودی عرب کا حریف ہے اور اس کے خلاف ایٹمی حملے کی دھمکی بھی دے چکا ہے۔ خیال کیا جارہا ہے کہ شام میں جنگ کے ''زمینی حقائق'' نے پیوتن کو فون کیا کہ وہ سعودی عرب سے رابطہ کرے ۔ وہ کچھ نہ کچھ تعاون چاہتا ہے۔ سعودی عرب تعاون کرے گا؟۔ ابھی واضح نہیں، بہر حال وہ شام کی تقسیم کے کسی خیال کی حمایت نہیں کر سکتا۔

شام میں تشدد بڑھتا جا رہا ہے۔ 70 فیصد عرب مسلمان تو برباد ہو ہی رہے ہیں، علوی کو بشار کے بھڑکائے شعلوں نے جھلسانا شروع کر دیا ہے۔10 فیصد علوی آبادی عیش و عشرت میں پلی بڑھی ہے، شاید وہ زیادہ دیر اس''درجہ حرارت'' کی تاب نا لا سکے۔ روس بڑے عزم اور دعووں کے ساتھ آیا تھا لیکن اسے زمین اندازوں سے زیادہ پتھریلی ہونے کا علم ہو گیا ہے، اب وہ شام کی ایسی تقسیم چاہتا ہے جو سب کو قبول ہو، کاتب تقدیر کو کیا قبول ہے، کون کہہ سکتا ہے؟ 

بشکریہ روزنامہ "جہان پاکستان"

عبداللہ طارق سہیل

No comments:

Powered by Blogger.