Header Ads

Breaking News
recent

تینتالیس 43 برس قید تنہائی کے بعد آزادی

امریکہ کی تاریخ میں سب سے طویل قید تنہائی کی سزا کاٹنے والے البرٹ وڈ فوكس 43 برس تک جیل میں رہنے کے بعد رہا ہوگئے ہیں۔
عشروں تک تنہا کال کوٹھری کی سزا کاٹنے والے قیدیوں کے ایک گروپ ’انگولا تھری‘ میں سے رہا ہونے والے وڈ فوكس آخری قیدی تھے۔

وڈ فوکس کو لوزيانا کی خطرناک ’انگولا جیل‘ میں ڈکیتی اور حملے کے جرم میں قید کیا گيا تھا اور اسی دوران سنہ 1972 میں ایک محافظ برائنٹ ملر کے قتل کے بعد انھیں تنہا ایک کال کوٹھری میں ڈال دیا گیا تھا۔
اتنے برس جیل میں رہنے کے دوران ان پر دو بار مقدمہ چلا لیکن دونوں ہی بار عدالت نے ان الزامات کو خارج کر دیا تھا۔
ریاست لوزیانا کی حکومت تیسری بار وڈ فوكس کے خلاف مقدمہ دائر کرنے کی تیاری کر رہی تھی۔
وڈ فوكس نے اپنی رہائی کے بدلے کم تر درجے کے الزامات کو چیلنج نہ کرنے کا فیصلہ کیا اور اس طرح انھیں رہائی مل گئی۔ تاہم ان کا کہنا ہے کہ اس کا مطلب یہ نہیں ہے کہ انھوں نے جرم کا اعتراف کر لیا ہے۔

جمعہ کو انھوں نے ایک بیان میں کہا ’میں ایک بار پھر اپنی بے گناہی ثابت کرنے کے لیے سوچ رہا تھا لیکن میری صحت اور عمر سے منسلک خدشات نے مجھے اس معاملے کو حل کرنے کی حوصلہ افزائی کی اور کم تر الزامات کو چیلنج نہیں کرنے کی شرط پر مجھے رہائی مل گئی۔ 

اپنی رہائی کے بعد انھوں نے میڈیا سے بات چيت میں کہا کہ وہ اپنی ماں کی قبر پر جانا چاہتے ہیں۔
ان کی ماں کی موت ان کے جیل میں رہتے ہوئے ہوگئی تھی اور وڈ فوکس کو ان کی آخری رسومات میں شرکت کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔
ان کے وکلا کا کہنا ہے کہ انھیں روزانہ 23 گھنٹے کال کوٹھری میں بند رکھا جاتا تھا۔
وڈ فوكس ان تین قیدیوں میں شامل تھے جنھیں انتہائی سیکورٹی والے انگولا جیل میں قید تنہائی کی سزا دی گئی تھی۔ امریکہ میں ان تینوں قیدیوں کو ’انگولا تھری‘ کے نام سے جانا جاتا ہے۔
اس جیل کا نام انگولا اس لیے ہے کیونکہ جس جگہ جیل بنی تھی وہاں پہلے افریقہ سے لائے گئے غلام مزدوروں سے کھیتی کا کام لیا جاتا تھا۔

وڈ فوکس کے دیگر دو ساتھی قیدی رابرٹ کنگ اور ہرمن والس تھے جنھیں باالترتیب سنہ 2001 اور 2013 میں رہا کر دیا گیا تھا۔
وڈ فوكس اور ہرمن ولس سیاہ فام افراد کے حقوق کے لیے کام کرنے والے ایک گروپ بلیک پینتھرز سے منسلک تھے۔
یہ گروپ سیاہ فام لوگوں پر پولیس کے مظالم اور نسل پرستی کے خلاف اپنے دفاع کے لیے سنہ 1966 میں قائم کیا گیا تھا۔

No comments:

Powered by Blogger.