Header Ads

Breaking News
recent

جب جنرل ضیاء الحق لاجواب ہوگئے

حفیظ جالندھری، انا کا عجیب و غریب نمونہ تھے۔ کوئی چیزان کے مزاج کے خلاف ہو تی تو بپھر جاتے۔ عزیز ہاشمی کے ساتھ ان کے بڑے گہرے مراسم تھے۔ جب بھی پنڈی آتے، ان ہی کے یہاں قیام کرتے۔ ماجد الباقری کے حوالے سے میری بھی ان سے شناسائی تھی۔ حفیظ صاحب آتے تو عزیز ہاشمی کچھ دوستوں کو بلالیتے۔ ان ملاقاتوں میں حفیظ صاحب کھل کر گفتگو کرتے۔ 

باتوں، شعروں کے ساتھ ساتھ گالیاں بھی سناتے۔ ایک بار نیشنل سنٹر میں مشاعرہ تھا، حفیظ صاحب صدارت کر رہے تھے۔ سا معین میں کالجوں کے کچھ لڑکے اور خواتین بھی تھیں۔ ہر شاعر ہوٹنگ کا نشانہ بنتا۔ حفیظ صاحب نے دو تین بار انہیں روکا ،لیکن لڑکے کہاں باز آتے تھے۔ آخر حفیظ صاحب اُٹھ کر مائیک کے پاس گئے اور ایسی بے نقط سنائیں کہ تمام خواتین شرم کے مارے ہال سے نکل گئیں۔ اس کے بعد کوئی شاعر ہوٹ نہیں ہوا۔ اکادمی کی کانفرنس کا آخری پروگرام ایوانِ صدر میں چیدہ چیدہ ادیبو ں کا کھانا ہوتا تھا۔

 کھانے سے پہلے چھوٹا سا مشاعرہ بھی ہوتا۔ ضیاء الحق کا دور تھا۔ حفیظ بھی موجود تھے۔ شاید ضیاء الحق صحیح طرح اُن سے نہیں ملے۔ حفیظ کے چہرے پر ایک ناگواری سی تھی۔ جب ان کی باری آئی تو بولے ’’اب میں ایسی چیز پڑھوں گا کہ ضیاء الحق کو بھی کھڑا ہونا پڑے گا۔‘‘ اس کے بعد انہوں نے ترانہ شروع کر دیا اور ٹھہر ٹھہر کر مصرعے دہرا دہرا کر اُسے اتنا طویل کر دیا کہ ختم ہونے پر لوگوں نے شکر کا کلمہ پڑھا۔ 

معلوم نہیں ضیاء الحق پر کیا گزری۔ ضمیر جعفری کو لوگ مزاحیہ شاعر کی حیثیت سے جانتے ہیں ،لیکن اُن کے سنجیدہ کلام کی قدر و قیمت کا اندازہ بہت کم لوگوں کو ہے۔ ان کی شخصیت میں ایک عجیب تضاد تھا۔ سر جھکا نے پر آتے تو جھُکتے ہی چلے جاتے ،سر اُٹھاتے تو پھر شان ہی اور ہوتی۔

 ایک اہلِ قلم کانفرنس میں ضیاء الحق سے کہنے لگے ’’ایک بات کرنا چاہتا ہوں۔‘‘ ضیاء الحق نے کہا ’’جعفری صاحب کہئے۔‘‘ بولے ’’آپ نے چکوال میں کیڈٹ کالج بنانے کا اعلان کیا ہے۔‘‘ ضیاء الحق کی باچھیں کھِل گئیں۔ ’’جی ہاں‘‘۔ بولے ’’ایک کیڈٹ کالج پر جتنے اخراجات آئیں گے، ان سے کئی عام کالج بن سکتے ہیں۔‘‘ ضیاء الحق نے کہا ’’جعفری صاحب کیڈٹ کالج سے جونسل نکلے گی وہ عام کالجوں سے تو نہیں نکل سکتی۔ کیڈٹ کالج کی تربیت سے لیڈر شپ پیدا ہو گی۔‘‘ ضمیر جعفری بولے ’’آپ کہاں سے آئے ہیں، آپ نے تو ٹاٹ کے سکول میں پڑھا ہے۔‘‘ ضیاء الحق چُپ ہو گئے۔ 

(رشید امجد کی کتاب ’’عاشقی صبر طلب‘‘ سے انتخاب)  

No comments:

Powered by Blogger.