Header Ads

Breaking News
recent

عدالتی اصلاحات کا بیڑا آخر اٹھائے گا کون؟

ایک مصاحب سے عدالتی اصلاحات پر ہماری لفظی تکرار جاری تھی اور اس اجزائے ضربی کا کوئی معقول مجموعہ نکل کر سامنے نہیں آ پا رہا تھا۔ جلیس موصوف کا موقف تھا کہ ادارے کبھی انقلاب و اصلاح کے متحمل نہیں ہوتے‘ انقلاب کسی فردِ واحد کا کارنامہ ہی ہو سکتا ہے‘ جیسا کہ اعلیٰ عدلیہ میں ہلچل کی مہمیز جسٹس افتخار محمد چوہدری تھے۔

ان کے منظر سے ہٹتے ہی وہ ساری تحریک سکوتِ مضمحل کا شکار ہو گئی۔ اب جو تھوڑا بہت دھندلا سا ارتعاش کبھی کبھار عدالت ِ عظمیٰ کی فضاؤں میں نظر آ جاتا ہے اصل میں اسی قافلۂ کشاں کشاں کی اُڑائی ہوئی گرد ہے جسے بیٹھنے میں دو چار سال لگیں گے۔ کوئی یہ گمان ہرگز بھی نہ کرے کہ اگر ایک ابراہیم نمرود کی دہکائی ہوئی چِتا میں کود گیا تو اس کے بعد اس کے قبیل کا ہر فرد ابراہیم ثابت ہو گا، کیونکہ! نام کے ابراہیم تو بہت ہو سکتے ہیں مگر کام کا ابراہیم خدا کبھی کبھی پیدا کرتا ہے۔

رفیقِ من نے گویا اس مبحث میں ثابت کر دیا کہ عدلیہ کا جہانگیر، افتخار محمد ہی تھا جو اپنی مسند پر کچھ عرصہ اور براجمان رہتا تو نوشیروان ثانی ثابت ہو سکتا تھا۔ ہمارے مہربان دوست کا خیال تھا کہ افتخار محمد چوہدری کو ہر حال میں توسیع ملنی چاہیے تھی مگر ہمارا یہ ماننا تھا کہ توسیع والی میکانیت بجا نہیں ہے۔ کسی فرد کو مدتِ ملازمت میں توسیع دیے جانے سے اس کے جونیئرز میں کئی ایک لائق فائق احباب کی حق تلفی ہوتی ہے اور اُنکی جن صلاحیتوں سے ملک و قوم کو خاطر خواہ فوائد ہو سکتے ہیں ان کی ریٹائرمنٹ کے ساتھ ہی نابود ہو جاتی ہیں۔
ہمیں اپنے زاویۂ نگاہ پر تب خِفت ہوئی جب دو دن بعد سپہ سالار ِاعظم جنرل راحیل شریف کی طرف سے میعادِ خدمات میں توسیع نہ لینے کا بیان سامنے آیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے جب یہ بیان جاری کیا کہ جنرل راحیل شریف کے عرصۂ خدمت میں توسیع کے حوالہ سے خبریں بے بنیاد ہیں اور جنرل راحیل کا کہنا ہے ’’پاک فوج عظیم ادارہ ہے‘ پاکستان کے قومی مفاد کا ہر قیمت پر تحفظ کیا جائے گا‘ مدتِ ملازمت میں توسیع نہیں لوں گا‘ مقررہ وقت پر ریٹائر ہو جاؤں گا‘‘ تو یقینا یہ سن کر ہم منہ میں انگلی دبا کر رہ گئے۔

وقتی طور پر ہمیں یہ ضرور محسوس ہوا کہ آرمی چیف کے اس فیصلے نے برقی اور کیبل میڈیا پر پک رہے تجزیوں اور افواہوں کو علیٰ الاعلان غلط ثابت کر دیا ہے تاہم ہمارا فکری ارتکاز اس حقیقت پر آ ٹھہرا کہ پاکستانی قوم حالت ِ جنگ میں ہے اور جنرل راحیل شریف اس جنگ کی رہبری کر رہے ہیں‘ وہ چلتی جنگ کو کلائمیکس پر کیسے چھوڑ کر جا سکتے ہیں۔

چلیے ہم اس تشکیک میں نہیں پڑتے کہ راحیل شریف کے علاوہ کوئی دوسرا جرنیل اس جنگ کو جاری نہ رکھ پائیگا‘ پاک فوج میں ضرور ایک سے بڑھ کر ایک ماؤں کے لال پڑے ہیں مگر ہمارا سوال صرف اتنا ہے کہ محاذ اور مورچہ پر تو نماز بھی معاف ہوتی ہے‘ سہاگ رات بھی کوئی معنے نہیں رکھتی‘ والد کی موت اور والدہ کی بیماری کی بھی پرواہ نہیں ہوتی‘ پھر ریٹائرمنٹ تو نہایت ہی ادنیٰ سی چیز ہے۔ برّی فوج کے سربراہ کے اس بیان پر سیاستدان تو بغلیں بجاتے نہیں تھک رہے، ماسوائے عبدالقادر بلوچ کے، جملہ لیڈران نے اس خبر پر خوشی کا ردِعمل ظاہر کیا ہے۔
بظاہر اس بیان میں کوئی دھماکا خیزی کا عنصر نہیں تھا‘ باوجود اس کے بعض عناصر نے اس سے اپنے مطالب کے نکات و معانی نکالے حالانکہ اس معاملہ پر کسی نوع کی رائے زنی نہیں ہونی چاہیے تھی۔ رہِ گزشتہ پر نگاہ کی جائے تو مجازاً کہنا پڑیگا کہ راحیل شریف کے پیشرو نے باوصف ضرورت نہ ہونے کے بھی اپنی جاہ طلبی پر ایک پوری مدت کے لیے تحصیلِ ملازمت کی تھی‘ راحیل شریف کی طرف سے تو اس کا تقاضا عندالضرورت ہوتا‘ اگر ہوتا‘ کیونکہ کراچی سمیت پاکستان بھر کے عوام ملک و قوم کے امن و سلام کے لیے انہیں اپنے منصب پر برقرار دیکھنا چاہتے ہیں۔

ہمیں اپنے مصاحب کی متذکرہ رائے کے صائب ہونے میں اب یکسر اشتباہ نہیں رہا کہ ادارے کبھی انقلاب و اصلاح کے متحمل نہیں ہوتے بلکہ یہ کسی فردِ واحد ہی کا کارنامہ ہو سکتا ہے۔ ہم چیف جسٹس افتخار محمدچوہدری کو ایکسٹینشن نہ دیے جانے کے ضرور حق میں تھے مگر جنرل راحیل شریف کے معاملے میں ہماری رائے اس کے بالکل برعکس ہے۔ ہمیں یوں نظر آتا ہے کہ راحیل شریف کے دس ماہ بعد اپنے عہدہ پر سے فارغ الخدمت ہو جانے سے نہ صرف فوج کا ادارہ ایک مردِ کامل جرنیل سے محروم ہو جائے گا بلکہ دہشت گردی کے خلاف پاکستانی قوم اپنی بقا کی جنگ بھی بری طرح ہار جائے گی‘ پھر نہ یہ ملک ہو گا نہ یہ قوم اور نہ ہی اس کے ادارے، اس سے زیادہ ہم کچھ نہیں کہنا چاہتے۔

ہمارے کم کہے کو زیادہ سمجھا جائے تو اس کا لبِ لباب یہی ہے کہ جنرل راحیل شریف بشمول ہمارے پاکستانی عوام کے دلوں کی دھڑکن ہیں اور ہم کبھی نہیں چاہیں گے کہ وہ ریٹائرمنٹ لے کر ہمیں دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر جائیں۔ ہمارے عمّال بھلے راحیل شریف کو توسیع نہ دیں جنرل صاحب کو ہر حال میں توسیع ملے گی اور تب تک ملے گی جب تک ضربِ عضب آخری دہشت گرد کو اس کے مآلِ کار تک نہیں پہنچا دیتا۔

جہاں تک جسٹس افتخار کی توسیع کا تعلق ہے تو اس بابت ہماری دو آراء تھیں، ایک تو یہ کہ ان کی بحالی کے بعد ہمیں لگ رہا تھا جس عوام کی طاقت نے انہیں بحال کروایا تھا اس عوام کو ریلیف دینے کے لیے وہ ماتحت عدلیہ میں ہنگامی اور انقلابی بنیادوں پر اصلاحات متعارف کروا کر اسے ایک مثالی عدلیہ بنائیں گے‘ اسلیے ہمارا خیال تھا اس نیک کام میں انہیں کم از کم پانچ چھ سال کا عرصہ لگ جائے گا لہٰذا ایسے میں انہیں اگر توسیع بھی دینی پڑے تو بلاحجت تمام دے دینی چاہیے، مگر انھوں نے تو کمر سیدھی کرتے ہی اپنی زخم خوردگی کے اسباب ڈھونڈتے ہوئے کمین گاہوں کی طرف ٹکٹکی باندھ لی اور اپنے اصل ایجنڈے سے اغماض کی راہ لی‘ اور آخری دن تک از خود نوٹس کے کاروبار میں الجھے رہے‘ اسلیے ہماری دوسری رائے یہ تھی کہ انہیںوقت سے پہلے ریٹائر ہو جانا چاہیے بلکہ ہم تو کیا ان کے ہمدرد بھی ان کی توسیع کے سخت خلاف تھے۔

جسٹس چوہدری کی عدلیہ کوئی عملی کارنامہ انجام دینے کے بجائے روزمرہ کی بنیاد پر بیانیہ اصلاحات پر ہی اپنا اور قوم کا قیمتی وقت برباد کرتی رہی۔ افتخار چوہدری کوئی مثالی کام نہ کر سکے‘ شاید یہی وجہ ہے کہ ان کے پَیروان بھی اعلیٰ و ماتحت عدلیہ کی اصلاح کے لیے کچھ نہ کر پائے۔ جسٹس افتخار کے پہلے پس رَو نرم خو اور دھیمے مزاج کے جج جسٹس تصدق حسین جیلانی انہیں اپنا رول ماڈل قرار دیتے تھے مگر بطور چیف جسٹس پاکستان انھوں نے بھی 7 ماہ کی سروس نہایت خاموشی سے گزار دی اور ایک روایتی عدلیہ کی طرف رجعت کرنے میں کوئی عار محسوس نہ کی۔ ان کے بعد چیف جسٹس ناصرالملک نے بھی اپنی ملازمت کے 13 ماہ روایت پسندی کی نذر کر دیے۔

پھر تاریخ کے سب سے مختصر دورانئے کے جج جسٹس جواد ایس خواجہ، جن میں جسٹس افتخار کی روح سمائی تھی، 23 دنوں کے لیے چیف جسٹس بنے تو انھوں نے تاریخ کے دو اہم فیصلے (اُردو کو دفتری و سرکاری زبان بنائے جانے اور اٹھارہویں ترمیم کی توثیق) قلمبند کیے جن میں سے اوّل الذکر کو توتاریخی فیصلہ قرار دیا گیا جب کہ آخرالذخر کے بارے میں محبانِ وطن نے اچھا تاثر قائم نہ کیا۔ ہمارے حاضر چیف جسٹس جناب انور ظہیر جمالی ایک درویش صفت انسان ہیں‘ انھوں نے 15 ماہ کے لیے یہ عہدہ سنبھالا ہے‘ عدلیہ کی اصلاحات کے لیے اب تک سینیٹ میں ایک اصلاحاتی تقریر فرما چکے ہیں‘ باقی11 مہینوں میں وہ کیا اصلاحات جاری کرینگے یہ وہی جانتے ہیں۔

یہاں ہم واضح کر دیں کہ توسیع کی ضرورت اسے پڑتی ہے جس نے کوئی مثالی آپریشن شروع کر رکھا ہو جو اس کے ریٹائر ہونے کے بعد تعطل کا شکار ہونے کا خدشہ ہو۔ ہنوز اعلیٰ عدلیہ کے کسی جدت پسند محترم جج نے ایسا کوئی آپریشن شروع نہیں کیا۔ ہمارے پچیسویں اور اگلے چیف جسٹس میاں ثاقب نثار صاحب ہیں‘ ان کی مدت ِملازمت 2 سال 2 ماہ ہو گی۔

ان کے بیانات اور خطبات سے تو صراحت ہوتی ہے کہ وہ قانونی و عدالتی اصلاحاتی ایجنڈے پر کسی جوڈیشل آپریشن کا ارادہ بہرطور رکھتے ہیں۔ اگر وہ اپنے کام کی وجہ سے عوامی جج بننے میں کامیاب ہو گئے تو کوئی وجہ نہیں کہ جنرل راحیل شریف کی طرح عوام ان کی توسیع کے لیے بھی اٹھ نہ کھڑے ہوں۔ جوڈیشل ریفام کی بات کی جائے تو سول سروس کی طرح قصہ پھر ایک کمیٹی سے شروع کرنا پڑیگا۔

   نواز حکومت نے ترکی کی مجتہد عدلیہ کی قولاً و فعلاً متابعت کا قصد باندھا تو اس پروگرام کو قابلِ تلبیس بنانے کے لیے اسے ’’قانونی و عدالتی اصلاحات پیکیج‘‘ کا نام دیا گیا اور ’’وزیر اعظم لیگل ریفارمز کمیٹی‘‘ کے تحت ممبران کی تقرری و قانون سازی کے لیے سفارشات مرتب کرنے کی غرض سے نون لیگ کی قانونی ٹیم کے سینئر رُکن، ممبر پیمرا چوہدری اشرف گجر کو بطورِ سربراہ ریفارمز کمیٹی اختیارات تفویض کیے گئے۔

پرنسپل سیکریٹری کے حکمنامہ کے مطابق سیکریٹری وزارتِ قانون و انصاف کو اس کمیٹی کا کوآرڈنیٹر مقرر کیا گیا اور کمیٹی کا سیکریٹریٹ بھی وزارتِ قانون و انصاف کو قرار دیا گیا۔ قانونی و عدالتی اصلاحات پیکیج سینیٹ کمیٹی میں پہنچا تو اس کی ہوا چہار اطراف عام ہو گئی۔ یہ دیکھ کر اس وقت کے چیف جسٹس لاہور ہائیکورٹ مسٹر جسٹس خواجہ امتیاز احمد (جو عدالتی نظام کا فرسودہ جامہ اُتار پھینکنے کی خواہش پہلے ہی دل میں لیے بیٹھے تھے) نے جسٹس سید منصور علی شاہ کو صوبہ پنجاب کا ریفارم جج مقرر کیا جنھوں نے انصاف کی جلد فراہمی اور سائلین کی مشکلات کے ازالہ کے لیے عدالتی نظام میں اصلاحاتی عمل کا آغاز کیا۔

ابتدائی طور پر انھوں نے تمام اضلاع کے ججوں، وکلاء اور بار ایسوسی ایشنز سے اصلاحات کے لیے تجاویز طلب کیں۔ ریفارم جج کی طرف سے اعلان کیا گیا کہ عدالتی اصلاحات بشمول کیس اینڈ کورٹ مینجمنٹ‘ انتظامی اصلاحات بشمول فائلنگ سسٹم، احکامات کی تعمیل کے مراحل اور نقول برانچ غیرہ سمیت موجودہ آٹومیشن سسٹم کی خامیاں دُور کرنے سے متعلق کوئی بھی شہری اپنی قابلِ قدر تجاویز و سفارشات نکات کی شکل میں ریفارم سیکریٹریٹ کو بذریعہ خط یا ای میل ارسال کر سکتا ہے۔

ایسا نہیں کہ اس پر عوام الناس یا تکنیکی حلقوں کی جانب سے کوئی جوابی ردِعمل ظاہر نہیں کیا گیا، نکات تو سیکڑوں اور ہزاروں کی تعداد میں ریفارم جج سیکریٹریٹ کو موصول ہوئے لیکن افسوس سے کہنا پڑتا ہے کہ مزاحم نظام کی وجہ سے ان میں چند ایک تجاویز پر ہی عمل ہو سکا اور وہ بھی چیف جسٹس کے جاتے ہی کافور ہو گیا۔ اصل مسئلہ تجاویز یا سفارشات مہیا آنے کا نہیں بلکہ عمل نہ ہونے کا ہے۔ پاکستان میں سول سروس کی اصلاح بھی اسی لیے نہیں ہو پائی کہ عقیل و فہیم لوگوں نے ان اداروں کی بہتری کے لیے جتنی تجاویز بہم پہنچائیں ان پر سرے سے غور ہی نہیں کیا گیا۔

اس کی بڑی وجہ یہ ہے کہ اصلاحات متعارف کرانے کے لیے متعلقہ اداروں نے اپنی اپنی ریفارمز کمیٹیاں وضع کر رکھی ہیں جن کا سربراہ اتنا خود سر ہوتا ہے کہ وہ اپنی کمیٹی کی سفارشات کے علاوہ کالم نویسوں، ملازمین اور عوام الناس کی تجاویز کو آنکھ پر بٹھاتا ہی نہیں‘ یہی کارن ہے کہ کسی محکمہ کی انقلابی بنیادوں پر دھلائی ستھرائی نہیں ہو پاتی۔ اس پر مستزاد یہ کہ ریفارمز کمیٹیاں بھی دستورالعمل سے ہٹ کر کوئی تحریک و رائے تجویز نہیں کر پاتیں‘ اس حد سے سوا افزونی یہ کہ ان کمیٹیوں کی سفارشات پر بھی عمل نہیں ہو پاتا جن پر عوام کے اربوں روپے برباد کیے جا چکے ہوتے ہیں۔

بعد میں ہمیں مجبوراً لکھنا پڑتا ہے کہ جو حال سول سروس ریفارمز کمیٹی کے برگ و بار کا ہوا وہی گت وزیر اعظم لیگل ریفارمز کمیٹی کے شجرِ ثمردار کی بھی ہوئی۔ اس بے نتیجہ کاج کا افتراء چیئرمین لیگل ریفارمز کمیٹی کے سر  دھرنا سراسر بہتان ہو گا۔ اس کاجل کے ڈورے ٹیڑھے کرنے کا سہرا صریحاً وزیر اعظم نواز شریف کا ہے جنھوں نے مہینوں سے کمیٹی کی سفارشات پر کوئی داغ بیل نہیں ڈالی۔ چیئرمین لیگل کمیٹی چوہدری اشرف گجر نے اگست 2015ء کو 144 صفحات پر مشتمل اپنی سفارشات وزیر اعظم کو پیش کیں۔

اس کام میں چیئرمین کمیٹی کو جسٹس جواد ایس خواجہ کے فراہم کردہ دو ریسرچ اسکالرز کی مدد بھی حاصل رہی‘ اس کے علاوہ انھوں نے چاروں صوبوں، اسلام آباد، آزاد کشمیر، گلگت بلتستان کے ہائیکورٹس سمیت سپریم کورٹ پاکستان، فیڈرل شریعت کورٹ اور تمام صوبوں کے ضلعی جج صاحبان، وکلاء تنظیموں، نادرا اور ملک کے متعلقہ عمائدین کے ساتھ مشاورت کے بعد لیگل ریفارمز پر سفارشات مرتب کیں جن کے چیدہ چیدہ نکتے پیشِ نذر ہیں: سی سی پی اسلام آباد کے کنوینیر میر افسر امان کے بقول گجر صاحب کا دعویٰ ہے کہ اتنے بڑے کام کے لیے حکومت کو ایک روپیہ بھی خرچ نہیں کرنا پڑا۔ کون نہیں جانتا کہ پاکستان کے عدالتی نظام کے تحت عوام کو انصاف نہیں ملتا اور اگر ملتا بھی ہے تو سالہا سال کے انتظار کے بعد۔ انگریز کے رائج کردہ قانونِ شہادت کے تحت جج صاحبان مقدمات کے فیصلے کرتے ہیں۔

اگر دو آدمی عدالت میں آ کر گواہی دیدیں کہ فلاں شخص نے قتل کیا گو کہ اُس نے قتل نہیں کیا ہو تو جج صاحبان شہادت کی بنیاد پر فیصلہ کرتے ہیں۔  اس میں لوگ دشمنی میں جھوٹی گواہیاں دیتے ہیں‘ ان سفارشات میں جھوٹے مقدمہ میں بھاری جرمانہ تجویز کیا گیا ہے۔ یہ بات تجر بے میں آئی ہے کہ لوگ غلط طور پر حکم امتناعی حاصل کر لیتے ہیں اس پر قانون میں تبدیلی کر کے بھاری جرمانہ اور سزا کی سفارش کی گئی ہے۔

اسی طرح جھوٹے مقدمے قائم کرنیوالوں کے لیے بھی سزا تجویز کی گئی ہے۔ دیوانی مقدمات برسوں چلتے ہیں مگر عدالت کی طرف سے فیصلہ نہیں ہوتا۔ بعض دفعہ اتنے کا مقدمہ نہیں ہوتا جتنے مقدمہ کرنیوالے کے اس پر اخراجات اٹھ جاتے ہیں۔ اس سلسلے میں ان سفارشات میں مقدمات کے فیصلوں کے لیے کم سے کم اور زیاہ سے زیادہ مدت کے تعین کا کہا گیا ہے۔ اس کے لیے قانون میں تبدیلی کی سفارش کی گئی ہے جس کی رُو سے ایک سال کے اندر اندر فیصلہ کرنے کا پابند کیا جائے گا۔

اگر کسی مقدمہ کا فیصلہ عدالت نے کر دیا یعنی ڈگری کے بعد عدالت از خود اجراء کا عمل شروع کرے تا کہ سائل کو پریشانی نہ ہو۔ جو معاملات مقامی طور پر محلے کی بنیاد پر طے ہو سکتے ہیں ان کو لوگ عدالتوں میں لے جاتے ہیں جس سے عدالتوں میںمقدمات کی بھرمار ہو جاتی ہے‘ جج صاحبان پر بھی ضرورت سے زیادہ بوجھ ہوتا ہے لہٰذا زیادہ سے زیادہ ججوں کے تقرر کی سفارش کی گئی ہے۔ جج بھی ہمارے معاشرے کا حصہ ہیں۔ ضرورت تو اس امر کی ہے کہ معاشرے کی اصلاح کے لیے بڑے بڑے پروگرام شروع کیے جائیں مگر ہماری حکومتیں کھیل تماشوں کی طرف زیادہ مائل نظر آتی ہیں۔

جہاں تک جونیئرجج صاحبان کے کام کا تعلق ہے تو ان سفارشات میں ان کو کم از کم چھ ماہ تک اکیڈمی تربیت اور سینئر ججوں کے ساتھ عدالتی کام کی ٹرنینگ دی جانی شامل ہے۔ پیشہ وارانہ اخلاقیات کی تعلیم و تربیت کے مضامین لازمی طور پر پڑھائے جائیں‘ اس کے لیے ورکشاپ اور سیمینارز منعقد کیے جائیں۔ فوجداری مقدمات کی بابت ان سفارشات میں کہا گیا ہے کہ فوجداری عدالت کو پابند کیا جائے کہ کریمینل ٹرائل ترجیحا ً روزانہ کی بنیاد پر ہو۔ بہت غیر معمولی حالت میںدو دن سے زیادہ التواء نہ دیا جائے اور غیرضروری تاخیر کے مرتکب فریق پر جرمانہ عائد کیا جائے۔

مارکیٹ میں مشہور ہے کہ چیک تو کاغذ کا ٹکڑا ہے‘ دھوکہ دینے کے لیے مارکیٹ میں چیک کا لین دین ہوتا ہے‘ ڈس آنر چیک کی برسوں ادئیگی نہیں ہو پاتی‘ ان سفارشات میں6 ماہ سے7 سال کی سزا کا کہا گیا ہے‘اگر 10 لاکھ کا چیک ڈس آنر ہو تو کم از کم7 سال کی سزا تجویز کی گئی ہے۔ ایک خاص بات یہ ہے کہ تفتیش کے شعبہ کو قطعی طور پر انتظامی یا آپریشنل شعبہ سے الگ کر دیا جائے گا۔ دہشت گرد اپنے خلاف گواہوں کو قتل کرتے رہے ہیں بلکہ ان کے حوصلے اتنے بلند ہیں کہ کراچی میں 21 مئی کے واقعات کا مقدمہ سننے والی عدالت کو ایک سیاسی جماعت کے کارکنوں نے گھیر لیا تھا ۔

جس کی وجہ سے وہ مقدمہ نہ سن سکی‘ اسلیے تجویز کیا گیا ہے کہ حکومت کی طرف سے سنگین جرائم اور دہشت گردی کے مقدمات سے متعلق جج صاحبان ، پراسیکیوٹرز اور گواہوں کوفول پروف سیکیورٹی فراہم کرنے کے انتظامات کیے جائیں اور ایسے مقدمات کا ٹرائل ویڈیو کانفرنس کے ذریعے عمل میں لایا جائے تا کہ مجرم مقدمہ کے متعلقان کو نقصان نہ پہنچا سکیں۔ کچھ لوگ جعلی ڈگریوں پر وکالت کرتے ہیں‘ بار کونسلوں سے ہر نئے وکیل کو لائسنس جاری کرنے سے قبل اس کی ڈگریوں کی تصدیق کروائی جائے‘ اس سے جعلی وکلاء کی روک تھام ہو گی‘ذرا سی بات پر آج کل وکلاء ہڑتال پر چلے جاتے ہیںجس سے عوام کو ناقابلِ تلافی نقصان اْٹھانا پڑتا ہے ‘ اس کو ختم کرنے کے لیے بار کونسل ایکٹ میں ترمیم کی جائے کہ کوئی بار کونسل یا بار ایسوسی ایشن ایسی صورت میں ہڑتال نہیں کر سکے گی۔

عدالتوں کے ذریعے انصاف کی فراہمی کو لازمی سروس کے زمرے میں شامل کیا جائے۔ ہڑتال کے باوجود جج صاحبان عدالتوں کو بند نہیں کرینگے اور وکیل بھی بہرحال عدالتوں میں پیش ہونگے۔ ان سفارشات میں سب سے اچھی پیشرفت عدالتوںمیں انفارمیشن ٹیکنالوجی کے بھرپور استعمال کے لیے قانون سازی اور انتظامی اصلاحات کی سفارش کی ہے۔ عدالت کی کارروائی ویب سائٹ پر مہیا ہونی چاہیے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ وزیر اعظم لیگل ریفارمز کمیٹی کی سخت محنت اور عرق ریزی سے تیار کردہ سفارشات سرخ فیتہ کا شکار ہو جائینگی اور عوام پہلے کی طرح ہی عدالتوں میں پیشی پہ پیشی کے طرزعمل کا شکار رہیں گے اور انصاف ملنے میں حسب ِ سابق تاخیر ہوتی رہے گی۔

ہمارے خیال سے اس وقت لیگل ریفارمز کمیٹی کی سفارشات پر عمل کرنے کی اَشد ضرورت ہے کیونکہ ان میں بطورِ خاص ماتحت عدلیہ کے مسائل کو زیربحث لایا گیا ہے اور اصلاحات کی جتنی ضرورت زیریں سطح کی عدلیہ میں ہے‘ اعلیٰ و عظمیٰ سطح پر نہیں ہے۔ جس طرح ہم نے وکیل گردی کے کلچر اور سیشن مافیا پر رائے زنی کی تھی ہمارے ایک فاضل جج صاحب کا کہنا ہے کہ سیشن اور سول ججوں کے مسائل پر بھی بات ہونی چاہیے۔

اس اعتبار سے پنجاب کی ضلعی عدلیہ کے ججز آج کل جس پریشانی، مایوسی، ناامیدی اور بے یقینی کی کیفیت سے گزر  رہے ہیں اس کا اندازہ صرف وہی شخص کر سکتا ہے جو ایک مڈل کلاس سے دن رات سخت محنت کر کے مقابلے کا امتحان پاس کر کے کسی سروس میں شمولیت حاصل کرے اور محنت و ایمانداری سے تیرہ چودہ سال کی سروس کے بعد اس پر اچانک انکشاف ہو کہ اس کے ساتھ اور اس کے بعد اسی مقابلے کے امتحان میں فیل شدہ امیدوار اس کے باس بن کر آ رہے ہیں اور انہیں مقررہ مدتِ ملازمت پوری ہونے کے باوجود نہ تو ترقی دی جا رہی ہے اورنہ ہی آئینی و قانونی طور پر ان کی سروس اور تجربے کو تسلیم کیا جا رہا ہے۔

وفاق اور صوبوں میں مختلف آسامیوں میں ایک خاص تناسب سے ترقی اور براہِ راست بھرتی کی جاتی ہے اور کبھی بھی سروس کے لوگوں کو مطلوبہ معیار پر پورا اترنے پر براہِ راست بھرتی کے امتحان سے محروم نہیں کیا جاتا۔ پنجاب جوڈیشل سروس رولز 1994ء میں بھی ایک خاص تناسب سے ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کی آسامیوں پر ترقی اور براہِ راست بھرتی کا طریقہ کار دیا گیا ہے۔

پنجاب حکومت نے آئینِ پاکستان کے آرٹیکل 193، پنجاب لیگل پریکٹیشنرز اینڈ بار کونسل ایکٹ 1974ء اور وفاق کی دیگر اکائیوں کے جوڈیشل سروس رولز کو مدنظر رکھتے ہوئے پنجاب جوڈیشل سروس رولز 1994ء میں ترمیم کر کے سول ججز کو بھی امتحان میں شرکت کی اجازت دی ہے جو کہ وزیر اعلیٰ پنجاب کی طرف سے سال 2008ء میں جسٹس خلیل الرحمن خان کی سربراہی میں قائم اصلاحاتی کمیٹی، عدالت عالیہ کی امتحانی اور انرولمنٹ کمیٹی اور انتظامی کمیٹی کی سفارشات کی روشنی میں کی گئی۔

جس کا مقصد وکلاء، سرکاری وکلاء، لاء آفیسرز اور سول ججز میں ایک صحتمند مقابلے کا رجحان اور گریڈ 20 کی ایک اہم آسامی پر میرٹ پر امیدواران کی بھرتی تھا‘ لیکن بعدازاں اس ترمیم کو غیرآئینی اور غیرقانونی طور پر ختم کر کے سول ججز کو ایڈیشنل سیشن جج کے امتحان میں شرکت سے محروم کر دیا گیا۔ عدلیہ حکومت/ ریاست کا وہ شعبہ ہے جو عدل و انصاف کے قیام اور تنازعات کے تصفیہ کا اہم فریضہ سرانجام دیتی ہے۔ عدلیہ میں ایڈیشنل سیشن ججز کے عہدے کی ایک خاص اہمیت ہے۔

ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج نہ صرف دیوانی و فیملی اپیلوں کے فیصلے کرتے ہیں بلکہ قتل کیسز میں زندگی اور موت کے فیصلے بھی کرتے ہیں۔ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن جج کے گریڈ20 کے عہدے کی بھرتی کا امتحان عدالت عالیہ خود منعقد کرتی ہے اور عرصہ دراز سے اس طریقہ کار پر قانونی حلقوں کے تحفظات ہیں لیکن اس بار عدالت عالیہ کی انتظامی کمیٹی کے تین ممبران نے بھی بھرتی کے طریق کار اور شفافیت پر عدم اطمینان کا اظہار کرتے ہوئے پہلی دفعہ اختلافی نوٹ تحریر کیا اور 79 امیدواران کی کامیابی کی منظوری نہ دینے کی سفارش کی‘ اس سے قبل 377 سول ججز کی بھرتی پر بھی تحفظات کا اظہار ہو چکا ہے۔ ہماری رائے ہے کہ پنجاب جوڈیشل سروس رولز 1994ء کے تحت سول ججز کی بھرتی پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے ہونی چاہیے‘ جو کہ ایڈیشنل ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن ججز کی بھرتی عدالت عالیہ کے دائرہ اختیار میں ہے۔

سول ججز کی بھرتی سال 2006ء تک پنجاب پبلک سروس کمیشن کے ذریعے اور اس کے بعد کبھی پنجاب پبلک سروس کمیشن اور کبھی عدالت عالیہ کے ذریعے ہو رہی ہے‘ جس سے ایک غیریقینی کیفیت کی صورتحال ہے۔ عدالت ِ عالیہ کے براہِ راست امتحان لینے میں قباحت یہ ہے کہ اس سے امیدوار کسی شکایت کی صورت میں دادرسی کے فورم سے بھی محروم ہو جاتا ہے۔ سال 2015ء میں سول ججز اور ایڈیشنل سیشن ججز کی بھرتی کے عمل سے عدالت عالیہ کی ساکھ بُری طرح مجروح ہوئی۔ ہم چیف جسٹس جناب اعجازالاحسن صاحب سے توقع رکھتے ہیں کہ وہ ان تمام معاملات کا ازخود نوٹس لے کر بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں، بے قاعدگیوں اور عدم شفافیت کی شکایات کا ازالہ کرینگے۔

نظامِ عدل کا مقصد صرف ملزمان کو سزا دینا نہیں ہے بلکہ معاشرے میں توازن اور عدل پیدا کرنا بھی ہے۔ ملک میں امن و امان کی بہتر صورتحال سے بیرونی سرمایہ کاری اور معاشی ترقی کا انحصار بہتر نظامِ عدل پر ہے۔ نظامِ عدل میں بہتری سب سے پہلے نظامِ عدل سے وابستہ لوگوں کو خود انصاف اور مساوی مواقع کی فراہمی میں ہے۔ نظامِ عدل میں سول جج ایک بنیادی اکائی ہے جو کہ مقابلے کے امتحان کے بعد 24،25 سال کی عمر میں بھرتی ہوتا ہے۔

اگر نظامِ عدل کی بنیادی اکائی غیر مطمئن ہو گی تو عام آدمی کے لیے انصاف ایک خواب ہو گا۔ نظامِ عدل میں بہتری کے لیے ضروری ہے کہ سول ججز کی بھرتی کے بعد عدالت عالیہ تک کوئی بھرتی نہ کی جائے اور مقابلے کے امتحان کے بعد منتخب ہونیوالے ان ہی امیدواران کو بہتر ٹریننگ، بیرونِ ملک تعلیم، ریسرچ کی بہتر سہولتوں اور بہتر ماحول کے ذریعے عدالت عالیہ کے ججز تک ترقی دی جائے۔ پنجاب جوڈیشل سروس کا قیام وقت کی اہم ضرورت ہے۔

ضلعی عدلیہ سے عدالت عالیہ تک تمام آسامیوں کی میرٹ پر بھرتی کے لیے ان آسامیوں کو پبلک سروس کمیشن کے ذریعے پُر کیا جانا چاہیے۔ ضلعی عدلیہ میں بھرتی کے عمل میں بے ضابطگیوں اور میرٹ کی پامالی پورے ملک اور معاشرے کے لیے نقصان دہ ہے۔ارشادِ خداوندی ہے: ’’مسلمانو! اللہ تمہیں حکم دیتا ہے کہ امانتیں اہل امانت کے سپرد کر دو اور جب لوگوں کے درمیان فیصلہ کرو تو عدل کے ساتھ کرو‘‘۔النساء۵۸۔

رحمت علی رازی


No comments:

Powered by Blogger.