Header Ads

Breaking News
recent

ہم سے کیا منواؤ گے ؟

وفاقی وزیرِ داخلہ چوہدری نثار علی خان کی یہ نکتہ آفرینی قابلِ غور حد تک دلچسپ ہے کہ ہم دشمن کے خلاف مادی جنگ میں کامیابی حاصل کر رہے ہیں مگر نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں۔

مگر ہم نفسیاتی جنگ کیوں ہار رہے ہیں؟ اور کیا واقعی مادی جنگ جیت رہے ہیں یا ایسا لگ رہا ہے کہ جیت رہے ہیں؟ اس بارے میں چوہدری صاحب نے گزشتہ دو برس کے اعداد و شمار کا حوالہ دینے کے سوا  کوئی وضاحت نہیں کی۔ شائد خرابیِ صحت آڑے آ رہی ہے یا پھر انھیں قائدِ حزب اختلاف خورشید شاہ کو بھی ترکی بہ ترکی جواب دینا ہے کیونکہ شاہ صاحب کو ان دنوں تدارکِ دہشت گردی سے زیادہ تدارکِ نثار علی خان کی فکر ستائے ہوئے ہے۔

تو کیا ریاست واقعی دہشت گردوں پر مادی لحاظ سے حاوی ہو رہی ہے؟
اگر میں اس دعویٰ کی تصدیق پر نکلوں تو فوج کے محکمہ تعلقاتِ عامہ (آئی ایس پی آر)کے سوا کوئی اور بنیادی معلوماتی ذریعہ نہیں۔ آئی ایس پی آرکے وقتاً فوقتاً پریس ریلیزوں اور ٹویٹرز سے ہی اندازہ ہوتا رہتا ہے کہ قبائلی علاقوں (بالخصوص شمالی وزیرستان) میں کس قدر کامیابیاں حاصل ہوئی ہیں‘ دہشتگردوں کی اموات کا تازہ اسکور کیا ہے؟ شہروں میں انٹیلی جینس کی بنیاد پر آپریشنز کی ایفی شنسی کس گریڈ کی ہے؟ دہشتگردوں کی جھنجھلاہٹ کا گراف کیا ہے؟ دہشتگرد ان دنوں سخت اہداف پر ہاتھ ڈالنے کے بجائے نرم اہداف  پر کیوں ہاتھ ڈال رہے ہیں وغیرہ وغیرہ۔

اور پھر ان فراہم کردہ اطلاعات کو حالاتِ حاضرہ کے مقبول چینلز کے خبرناموں اور ٹاک شوز کے ذریعے دلائل و تجزیے کے مصالحے میں اچھے سے بھون کر عوام کے روبرو رکھ دیا جاتا ہے تا کہ انھیں یقین ہو جائے کہ ہر قدم درست سمت میں پڑ رہا ہے لہذا آزادانہ ذرایع کی جستجو، تحقیقاتی رپورٹنگ کی کھکھیڑ اور غیر ملکی ذرایع ابلاغ کی افترا پردازیوں میں پڑنے کی کیا ضرورت؟
اس خبری انتظام و انصرام کے بعد بھی من میں تشکیک کا کیڑا رہ جائے تو گائیڈڈ ٹورز پر لے جائے جانے والے جانے پہچانے مقبول و محبِ وطن و مثبت سوچ کے حامل میڈیا مینیجرز کی چشم کشا رپورٹوں اور چشم دید گواہیوں سے رجوع فرمائیں۔ انشااللہ افاقہ ہونا شروع ہو جائے گا۔

ارے! دہشتگردوں کے ناموں میں کیا رکھا ہے؟ نہ تو ان کا کوئی دین ایمان، نہ شناخت، نہ گھر بار۔ وہ تو بس دہشتگرد ہیں۔ کیا ایک جنرک نام کافی نہیں؟ کیا آپ کو کبھی خون چوس کھٹملوں کو مسلتے ہوئے ان کا نام، پتہ، شناخت اور حیثیت معلوم کرنے سے کبھی دلچسپی رہی؟

ہاں تو کیا ہوا اگر اب بھی کبھی کبھی پولیس، رینجرز، اہم تنصیبات، تعلیمی اداروں اور سیاسی شخصیات پر کچھ نہ کچھ حملے ہو جاتے ہیں۔ مگر یہ بھی تو دیکھیں کہ ایسے ہی ننانوے حملے ہونے سے پہلے ہی ناکام بنا دیے جاتے ہیں؟ اب مچھر دانی میں ایک آدھ مچھر تو کہیں نہ کہیں سے گھس ہی آتا ہے۔ تو کیا ہم یہ کہتے ہیں کہ مچھر دانی ہی خراب ہے؟

پس ثابت ہوا کہ دہشتگرد پسپا ہو رہے ہیں، ان کا کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم تتر بتر ہو رہا ہے، جائے پناہ تنگ ہو رہی ہے، پروپیگنڈے کے راستے مسدود ہو رہے ہیں اور وہ آخری سانسیں لے رہے ہیں۔ بس کچھ مہینے کی تکلیف اور ہے یہ بھی نہ رہے گی۔ اس بیچ وسوسے پھیلانے والوں سے ہوشیار…

کیا ہم نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں؟

چوہدری نثار علی خان کا یہی خیال ہے کہ ہم نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں۔ جب وزیرِ داخلہ کہہ رہا ہو تو پھر تردید کی کوئی معقول وجہ بھی نہیں بچتی۔ مگر ہارنے جیتنے کی بحث سے الگ میں اسی چوہدریانہ سوال کو ایک اور زاویے سے کرنا چاہتا ہوں۔ کیا ہم نے کبھی دہشتگردوں سے کوئی نفسیاتی جنگ لڑی بھی ہے؟
نفسیاتی جنگ تو لڑ رہے ہیں مولانا عبدالعزیز کہ جن کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ جاری ہونے کے ایک برس بعد بھی سرکاری کارندے مشورہ دے رہے ہیں کہ آپ ضمانت قبل از گرفتاری کروا کے ہماری مشکل آسان کیوں نہیں کر رہے۔

 تعجب ہے کہ اس مشورے کا اطلاق، ڈسکے، سمے سٹے یا سٹھارجا کے اس مولوی پر نہیں جسے لاؤڈ اسپیکر پر منافرت پھیلانے کے جرم میں لاک اپ کر دیا گیا تا کہ یہ کہا جا سکے کہ ایک سال میں ہم نے دو ہزار ایک سو انچاس افراد کو نفرت انگیزی بھڑکانے پر تنبو کر لیا۔

نفسیاتی جنگ لڑ رہے ہیں اہلِ مدارس کہ جو دہشتگرد بھی نہیں مگر اپنی آمدن و خرچ کا حساب دینے اور بنیادی نصاب کو اپ گریڈ کرنے کی فرمائش کو بھی دینی معاملات میں گمراہ ریاست کی مداخلتِ بے جا سمجھ رہے ہیں اور سرکار مودبانہ ہے۔ اور جب یہی مودبانہ سرکار کہتی ہے کہ چلیے ہمارا دل رکھنے کے لیے ایک وقت پر اذان دے دیں اور ایک ہی خطبہِ جمعہ پڑھ لیا کریں تا کہ قوم بھی مذہبی یکجہتی کی جانب مائل ہونے لگے۔

تو بیک زبان جواب یہ آتا ہے کہ ہم ایران اور سعودی عرب جیسے جابرانہ و آمرانہ ملک نہیں بلکہ کھلے معاشرے ہیں۔ یہاں دینی اداروں اور شخصیات کو پابند کرنے کی سازش کا ڈٹ کر مقابلہ کیا جائے گا۔ اور پھر انھی میں سے بیشتر گزشتہ روز کہتے ہیں کہ جس نے بھی سعودی عرب کی طرف میلی آنکھ سے دیکھا اسے پھوڑ دیا جائے گا۔ یا ایران کے خلاف یہودی سازشوں کو کبھی کامیاب نہیں ہونے دیا جائے گا۔ اور مودب حکومت کہتی ہے جیسے آپ مناسب سمجھیں کریں حضور۔ آپ کے لیے نیشنل ایکشن پلان لازمی نہیں اختیاری ہے۔

نفسیاتی جنگ لڑ رہی ہے اسلامی نظریاتی کونسل کہ جس کے مجلسی ایجنڈے میں عورت مرد کے تعلقات کی طے شدہ جائز و ناجائز شکلیں بار بار طے کرنے کے سوا کوئی اور موضوع  پچھلے تین چار برس سے جگہ ہی نہیں پا رہا۔ ہر تازہ اجلاس میں کوئی نہ کوئی ایسا شگوفہ کھل اٹھتا ہے کہ دہشتگردی و دہشتگرد کی ایک متفقہ دینی تشریح پر اجماع  کے بارے میں سوچنے کی نوبت ہی نہیں آتی۔
نفسیاتی جنگ لڑ رہی ہے وزارتِ داخلہ کہ جس کے بیانات کو آئی ایس پی آر کے ہوتے کوئی سنجیدگی سے لینے پر تیار ہی نہیں۔

 وزیرِ داخلہ کے بارے میں بھی  طے نہیں کہ قبلہ جزوقتی ہیں کہ کل وقتی۔ کون سے داخلی شعبے عملاً قبلہ کے ماتحت ہیں اور کون سے شعبے تصوراً آپ کو جوابدہ ہیں۔ صوبے قبلہ کی کتنی سنتے ہیں اور قبلہ صوبوں کی کتنی عزت کرتے ہیں؟ پارلیمنٹ آپ کے دعووں کو کتنی سنجیدگی سے لیتی ہے اور آپ پارلیمنٹ کو کے ٹکے سیر سمجھتے ہیں؟

نفسیاتی جنگ ہار رہے ہیں۔ صوبے کہ جنھیں اٹھارویں آئینی ترمیم کے تحت ملنے والی خود مختاری و اختیارات بلدیاتی سطح تک بانٹنے میں انتہائی تحفظات ہیں۔ اور نیشنل ایکشن پلان کے تحت خود پر عائد ذمے داریاں پوری کرنے پر بھی تحفظات ہیں اور خود کو بچانے کے لیے اٹھارویں ترمیم کی ڈھال استعمال کرنا بھی سیکھ گئے ہیں۔

تازہ ترین ثبوت چار سدہ یونیورسٹی پر حملے کے بعد تعلیمی اداروں کے کھل بند ہونے کا ڈرامہ ہے۔ جو صوبے (خیبر پختون خوا اور بلوچستان) دہشتگردی کے سب سے زیادہ تھپڑ کھا رہے ہیں وہاں تو تعلیمی ادارے کھلے ہیں۔ مگر پنجاب اور کراچی میں تعلیمی ادارے بند ہیں۔ حکومتِ پنجاب نے بظاہر بچوں کو سردی سے بچانے کے لیے یہ فیصلہ کیا(حالانکہ خیبر پختون خوا اور بلوچستان میں زیادہ سردی ہے)۔

مگر کراچی میں نہ تو سردی  ہے اور نہ ہی حکومتِ سندھ  کے مولائیوں کو یہ جاننے سے دلچسپی ہے کہ نجی و عسکری تعلیمی ادارے کس چکر میں بند ہیں اور سرکاری تعلیمی اداروں کو وہ خطرات کیوں لاحق نہیں جو نجی اداروں کو ہیں۔ حالانکہ چالیس فیصد سرکاری تعلیمی اداروں کو تو چار دیواری بھی میسر نہیں۔
رہی بات عام آدمی کی تو وہ نیشنل ایکشن پلان نامی بس کی چھت پر بیٹھا ہے۔ 

اسے کون بتائے کہ بس کے اندر بیٹھے مسافروں میں کیا کچھڑی پک رہی ہے اور ڈرائیور کہاں لے جا رہا ہے کیوں لے جا رہا ہے۔ مسافر کی قسمت میں تو کھلے آسمان تلے کھلی ہوا ہی ہے۔ وہ ہوا جو آنسو اڑا لے جاتی ہے۔

ترکِ وفا یا عہدِ محبت جو چاہو سو آپ کرو
اپنے بس کی بات ہی کیا ہے، ہم سے کیا منواؤ گے

وسعت اللہ خان


No comments:

Powered by Blogger.