Header Ads

Breaking News
recent

امریکا میں برف کے طوفان سے زندگی جم گئی، کروڑوں افراد گھروں میں محصور

امریکا کی مشرقی ریاستوں میں برف کے شدید طوفان نے زندگی کو منجمد کرکے رکھ دیا ہے جب کہ کروڑوں افراد اپنے گھروں میں محصور ہوکر رہ گئے ہیں۔
امریکی میڈیا کے مطابق امریکا کے جنوبی خلیجی سمندری علاقے میں جنم لینے والا یہ طوفان ارکنساس، ٹینیسی اور کنٹکی کے بعض مقامات پر برف گراتے ہوئے آگے بڑھتا جا رہا ہے اور سارے علاقے شدید سردی کی لپیٹ میں آتے جا رہے ہیں۔ برفباری کا سلسلہ اگلے ہفتے کے دوران بھی جاری رہنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔ اندرون اور بیرون ملک ہزاروں پروازیں منسوخ کردی ہیں جب کہ متاثرہ ملکوں میں اب تک سیکڑوں ٹریفک حادثات رونما ہوچکے ہیں جن میں 20 افراد کی ہلاکت کی تصدیق کی گئی ہے۔
ٹینیسی، نارتھ کیرولائنا، ورجینیا، میری لینڈ، پینسلوینیا، ڈسٹرکٹ کولمبیا اور دیگر کئی ریاستوں کے بعض علاقوں میں ہنگامی صورت حال کا نفاذ کر دیا گيا ہے، طوفان کے نتیجے میں لاکھوں مکانات بجلی سے محروم ہیں اور ریاست کینٹکی میں جہاں اب تک سب سے زیادہ برف پڑی ہے، ہزاروں گاڑیاں ٹریفک میں پھنسی ہوئی ہیں۔ ٹریفک میں پھنسی ہوئی گاڑیوں کی لائن 35 میل لمبی ہے۔

برف کا یہ طوفان آج دارالحکومت واشنگٹن ڈی سی سے گزرے گا تاہم اس سے قبل ہی یہاں اب تک ڈھائی فٹ برف پڑ چکی ہے۔ شہر برف میں مکمل طور پر چھپ گیا ہے، سڑکیں سنسان ہیں، ریستوران، بار اور سپرمارکیٹس بند ہیں۔ مقامی انتظامیہ نے دارالحکومت کے رہائشیوں کو طوفان کے گزر جانے تک کسی محفوظ مقام پر منتقل ہونے کی ہدایت کردی ہے۔ تلاش کر لیں اور وہیں رہیں۔
نیویارک کے میئر بل ڈی بلاسیو نے شہریوں کو خبردار کیا ہے کہ شہر میں دو فٹ تک برف پڑ سکتی ہے اور یہ طوفان شہر کی تاریخ کے پانچ بدترین برفانی طوفانوں میں سے ایک ہو سکتا ہے۔ اس لئے عوام سڑک سے دور رہیں۔ امریکی وزیر دفاع ایش کارٹر پیرس اور سوئٹزرلینڈ کے پانچ روزہ دورے کے بعد وطن واپس پہنچے لیکن ان کا جدید ترین طیارہ بھی خراب موسم کے باعث واشنگٹن کے قریب میری لینڈ میں نہ اتر سکا۔ ان کی پرواز کو فلوریڈا کی طرف جانا پڑا جہاں وہ موسم ٹھیک ہونے تک کا انتظار کریں گے اور پھر دارالحکومت واپس آئیں گے۔

 

No comments:

Powered by Blogger.