Header Ads

Breaking News
recent

فٹبالر میسی کے مداح 5 سالہ افغان بچے کی تھیلی سے بنی ٹی شرٹ نے اسے مقبول کردیا

 کسی نے سچ ہی کہا ہے کہ کھیل اور کھلاڑیوں سے لگاؤ کی کوئی سرحد نہیں ہوتیں بلکہ یہ تو احساسات ہیں جو کھیلوں سے محبت کرنےوالا اپنے اندر رکھتا ہے اور اس کا اظہار اپنے دستیاب وسائل سے کرتا رہتا ہے ایسا ہی کچھ کیا افغانستان کے 5 سالہ بچے نے  جس نے پلاسٹک کی تھیلی سے بنائی گئی شرٹ پر میسی لکھا اوراپنی تصاویرکو سوشل میڈیا پر ڈال دیا جسے اس بچے کو انٹرنیٹ اسٹار بنا دیا۔
افغانستان کے صوبہ غزنی کے رہائشی 5 سالہ مرتضیٰ احمدی فٹبال کا شوقین ہے اور ارجنٹائن کے سپر اسٹار لیون میسی کو اپنا آئیڈیل مانتا ہے اور چاہتا تھا کہ وہ میسی کی شرٹ پہنے لیکن اس کے پاس اتنے پیسے نہ تھے کہ وہ ایسا کرسکے۔ مرتضی کی اس خواہش کو اس کے بڑے بھائی ہمایوں نے پورا کرنے کا ارادہ کیا اور پلاسٹک کی تھیلی کو شرٹ کی شکل دی اور اس پر مارکر سے ارجنٹائن کے جھنڈے کے رنگ بنائے اور میسی لکھ کر اپنے چھوٹے بھائی کو پہنا دی اورمرتضیٰ کی تصاویر کو سوشل میڈیا پر پوسٹ کردیا جسے لاکھوں لوگوں نے پسند کیا اور اس کو سراہا۔
بارسلونا کے فین اور مرتضیٰ کے بڑے بھائی ہمایوں نے شرٹ بنانے سے متعلق بتایا کہ ان کے پڑوسیوں نے خالی تھیلیاں باہر گلی میں پھینکی تو مرتضیٰ اس کے پاس لے آیا کہ وہ میسی کی شرٹ بنائے جس پر اس نے یہ شرٹ اسے بنا کر دی۔ مرتضیٰ کے والد کا کہنا تھا کہ وہ اتنی طاقت نہیں رکھتے کہ اسے ایسی شرٹ لے کر دیں جب کہ مرتضیٰ کا کہنا ہے کہ وہ ایک پنکچر شدہ بال سے فٹبال کھیلتا ہے اور کوئی میدان بھی ان کے گھر کے پاس نہیں بلکہ وہ چھوٹی سی گلی میں کھیلتا رہتا ہے۔ والد کا کہنا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ ان کا بیٹا ایک دن بڑا فٹبال بنے بلکہ وہ افغانستان کا میسی بن جائے۔

No comments:

Powered by Blogger.