Header Ads

Breaking News
recent

بابری مسجد کا ملبہ کب تک پڑا رہے گا ؟

مدراس ہائی کورٹ نے تمل ناڈو کی ریاستی حکومت کو حکم دیا ہے کہ وہ آئندہ برس سے کسی بھی تنظیم کو چھ دسبر کے روز بابری مسجد یا رام مندر کی حمایت یا مخالفت میں کسی طرح کےجلسے جلوس اور مظاہرے کی اجازت نہ دے۔
عدالت عالیہ نے اپنے مشاہدے میں کہا ہے کہ اس طرح کے احتجاجوں اور مظاہروں سے روزمرہ کی زندگی میں رخنہ پڑتا ہے اوراس سےسرکاری اور غیر سرکاری وسائل بھی ضائع ہوتے ہیں۔

بابری مسجد چھ دسمبر سنہ 1992 کو منہدم کی گئی تھی۔ اس کےبعد ہر برس اس روز بابری مسجد کے حمایتی ’یوم سیاہ‘ مناتے رہے ہیں اور اس کی تعمیر نو کے لیے جلسے جلوس اور مظاہرے ہوتے رہے ہیں۔ اسی طرح رام مندر کےحامی بابری مسجد کےمقام پر رام مندر کی تعمیر کے لیے ہر برس مظاہرے کرتے ہیں۔

نوآبادیاتی نظام سے آزادی حاصل کرنے کے بعد 26 جنوری سنہ 1950 کو آزاد بھارت نے ایک نیا آئین اختیارکیا۔ بھارت کو ایک عوامی جمہوری قرار دیا گیا۔
آئین کے نفاذ سے محض ایک مہینے قبل ایودھیا کے کچھ سادھوؤں نے شہر کی 400 برس پرانی بابری مسجد کے منبر پر ہندوؤں کے دیوتا بھگوان رام کی مورتی رکھ دی تھی۔ ریاستی حکومت اور مقامی اتظامیہ نے بجائے مورتی ہٹانے کے مسجد پر تالہ لگا دیا۔
  
بھارت کے آئین میں ہر شخص کو مذہبی آزادی کی ضمانت دی گئی۔ یہ بات بھی طے پائی کہ 15 اگست سنہ 1947 کو جو عبادت گاہ جس حالت میں تھی اسے جوں کا توں تسلیم کر لیا جائے گا۔ لیکن بابری مسجد کو اس سےالگ رکھا گیا۔ یعنی اسے ایک متنازع عبادت گاہ تسلیم کیا گیا جس کا فیصلہ ہونا تھا کہ اس پرکس کا حق ہے۔

بعض ہندوؤں کا دعوی ہےکہ بھگوان رام اسی مقام پرپیدا ہوئے تھے جہاں بابری مسجد بنی ہوئی تھی۔ ان کے مطابق وہاں ایک مندرتھا جسے بابر نے منہدم کرا کر بابری مسجد بنوا دی۔500 برس پہلے وہاں کیا تھا اور کیا نہیں تھایہ تو ماہرین آثار قدیمہ اور مورخین ہی بتا سکتے ہیں۔ لیکن پچھلے100 برس سے بابری مسجد بھارت میں مذہب اور نفرت کی سیاست کا محور بنی رہی ہے۔
بابری مسجد ڈھائی جا چکی ہے لیکن اس کے ملبے پر نفرت کی سیاست اب بھی جاری ہے۔ آزاد بھارت کی تاریخ میں ہندوؤں اورمسلمانوں کےدرمیان کسی اور ایشو نے ایسی خلیج اور اختلاف نہیں پیدا کیا جیسا بابری - رام مندر کےتنازع نے کیا ہے۔ بھارتی ریپبلک بابری کے ملبے کا ابھی تک یر غمال بنا ہوا ہے۔
بابری مسجد اور رام جنم بھومی کا تنازع بہت پرانا ہے جس پر آج تک سیاست ہو رہی ہے

بھارتی خطے میں یہ کوئی پہلا موقع نہیں تھا جب ایک مذہبی گروپ کی عبادت گاہ کو دوسری مذہبی گروپ کے ہجوم نے زمین دوز کر دیا ہو۔ ماضی میں مقامی حکمراں ایک دوسرے کے خطے پر حملوں میں عبادت گاہوں کو بھی تباہ کرتے تھے۔

بودھ مت کےزوال کےبعد ہندو راجاؤں نے بودھ بھکشوؤوں اوران کی عبادت گاہوں کو بھی نشانہ بنایا تھا۔ ایران، افغانستان اور وسطی ایشیا سے آنے والے مسلم حلہ آور اور لٹیرے لوٹ ماراور غارت گری کے ساتھ ساتھ ہندو مندروں کو بھی اکثر نشانہ بناتے تھے۔

تقسیم ہند کےوقت صدیوں سے ایک ساتھ رہنےوالے ہندوؤں، سکھوں اور مسلمانوں نے ایک دوسرے کی ہزاروں عبادت گاہیں ہی نہیں تباہ کی تھیں، انھوں نے قتل وغارت گری کی ایسی خونریز تاریخ مرتب کی تھی کہ انسانیت اپنےآپ سے شرمسار رہے گی۔

جمہوری بھارت میں بابری مسجد کا انہدام ریاست کی پستی اور لاقانونیت کی فتح کی عکاس ہے۔ جس ریپبلک نے 1947 کی مذہبی جنونیت کے سامنے گھٹنے نہیں ٹیکے تھے وہ ریپبلک ہجومی سیاست کےسامنے بے بس نظر آیا۔ یہ بھارتی آئیڈیل، بھارت کی تہذیبی اورانسانی اقدار اور آئین کی شکست تھی۔
مدراس ہائی کورٹ نے اپنے مشاہدے میں کہا ہے کہ اس طرح کے احتجاجوں اور مظاہروں سے روزمرہ کی زندگی میں رخنہ پڑتا ہے

بابری مسجدگذشتہ ایک طویل عرصے سے جنوبی ایشیا میں مذہبی نفرت اور سیاست کا محور بنی ہوئی ہے۔ بھارت ایک کھلا اور آئینی معاشرہ ہے۔ ملک کا آئین بھارت کےعوام کے اجتما‏عی شعور کا عکاس ہے۔ موجودہ دور میں مذاہب پر کسی گروپ تنظیم یا مخصوص فرقے کی اجارہ داری نہیں ہو سکتی۔ تروپتی، تاج محل اور ایودھیا بلا تفریق مذہب و ملت ہر بھارتی کی میراث ہیں۔

 سوا ارب انسان ماضی کے کھنڈروں کے کب تک یر غمال بنےرہیں گے؟ ان کھنڈروں کے ملبوں اور ان سے وابستہ مذہب کی سیاست کو اب بہت گہرائی میں دفن کردینے کی ضرورت ہے۔

اب وقت آ گیا ہے کہ ملک کےسیکولر عوام اجتماعی طور پر بابری مسجد کے متنازع مقام کو کسی حتمی فیصلے کے لیے ریاست کے حوالےکر دیں اور ریاست سے یہ عزم لیں کہ مستقبل میں اس ملک میں مذہب کے نام پر پھر کبھی کوئی سیاست نہیں ہو گی اور مذہب کےنام پرانسانوں کو ذبح نہیں کیا جائے گا۔

بشکریہ بی بی سی اردو

No comments:

Powered by Blogger.