Header Ads

Breaking News
recent

ہندوتوا کا طوفان ، مزاحمت اور پاکستان

گذشتہ ایک ڈیڑھ ماہ سے بھارت کے چوٹی کے سائنس دان، سابق جرنیل، فنکار، ادیب، سفارتکار، ماہرینِ تعلیم اور دانشور ملک میں اظہارِ رائے کے لیے گھٹتی ہوئی آکسیجن ، ایک خاص طرح کے نظریے کو آگے بڑھانے کی ننگی کوششوں اور رنگارنگ بھارتی سماج کو ایک ہی گیروی ٹوپی اور واسکٹ پہنانے کی منصوبہ بندی کے خلاف چیخ اٹھے ہیں ،  سرکاری اعزازات واپس کر رہے ہیں، قرار دادیں منظور کر رہے ہیں،پریس کانفرنسیں کر رہے ہیں اور دستخطی مہمیں چلا رہے ہیں اور تقریریں کر رہے ہیں۔غرض بات کہنے کا ہر ڈھنگ اور ہر فورم استعمال ہو رہا ہے۔ کوئی دن نہیں جاتا کہ ان بڑھتی آوازوں میں ایک نئی آواز شامل نہ ہو رہی ہو۔

ایڈمرل ریٹائرڈ لکشمی نرائن رام داس انیس سو اکہتر میں مشرقی پاکستان کی بحری ناکہ بندی کے نگراں تھے۔انھیں اس ضمن میں اعلی فوجی اعزاز ویر چکر عطا ہوا۔انیس سو نوے تا ترانوے بھارتی بحریہ کو کمان کیا۔ بعد از ریٹائرمنٹ فلاحی کاموں میں متحرک ہوگئے۔اس وقت رام داس بیاسی برس کے ہیں۔ہونا تو یہ چاہیے تھا کہ وہ دیگر ریٹائرڈ جنرلوں  کی طرح گالف کھیلتے ، کتاب پڑھتے ، ٹی وی دیکھتے یا سورگ کی فکر کرتے ہوئے سنیاس میں جی لگاتے۔مگر انھوں نے راشٹر پتی پرنب مکھر جی کو لمبا چوڑا خط لکھ ڈالا۔

خلاصہ اس خط کا یوں ہے کہ جب پارٹیشن ہوئی تو میں چودہ برس کا تھا۔میں بھی ایک ہندو ہوں مگر میرا ہندو پن مجھے محبت اور دوسروں کی عزت کرنا سکھاتا ہے۔اس میں تشدد اور زور زبردستی کی کوئی گنجائش نہیں۔آج اس ملک میں کم ذاتوں اور اقلیتوں کے ساتھ جو ہو رہا ہے، اس نے بڑھاپے میں میرا سر شرم سے جھکا دیا ہے۔ میں نے اس ملک کی حفاظت کے لیے جس فوج میں پینتالیس برس گذارے اس میں ہر سپاہی بلا امتیازِ مذہب و ملت ایک ساتھ جیتا اور ایک ساتھ مرتا ہے۔مگر جس ملک کی ہم نے حفاظت کی اسی ملک میں آج مسلمان کو اپنی حب الوطنی ثابت کرنے کے لیے خود سے صفائیاں پیش کرنا پڑ رہی ہیں۔پھر بھی وہ ہر نئے دن مزید عدم تحفظ کا شکار ہو رہا ہے یا کیا جا رہا ہے۔

صاف لگ رہا ہے کہ آر ایس ایس کی قیادت اس دیش کو ایک ہندو مذہبی راشٹر میں بدلنے کی کوشش کر رہی ہے اور اس مقصد کے لیے ہجوم کو استعمال کیا جارہا ہے۔خطرناک بات یہ ہے کہ جو لوگ حکومت میں ہیں انھیں اس طرح کی گھٹناؤںسے کوئی پریشانی نہیں۔ ہمدردی تو رہی ایک طرف وہ تو افسوس کا اظہار بھی کھل کے نہیں کرتے۔ پارلیمنٹ کے ممبروں، وزیروں اور پارٹی لیڈروں کے بیانات سے لگتا ہے کہ ایک منظم منصوبے پر آہستہ آہستہ آگے بڑھا جا رہا ہے۔
آگ سے کھیلنا اچھا ہے لیکن یہی آگ قابو سے باہر ہوجائے تو اسے پتہ نہیں چلتا کہ یہ جلنے والے کا گھر ہے کہ جلانے والے کا۔کہاں دنیا میں ہم کچھ عرصے پہلے سب سے بڑی جمہوریت کے طور پر پہچانے جا رہے تھے اور کہاں ہمیں عالمی برادری ایک تنگ نظر اور فاشزم کے راستے پر چلنے والے ملک کے طور پر دیکھ رہی ہے۔وزیرِ اعظم اور ان کے ساتھیوں نے جس بھارتی آئین کے تحت حلف اٹھایا  وہ سب کو بلا امتیاز جان و مال ، عزت و آبرو کے تحفظ کی ضمانت دیتا ہے۔اگر وہ اس حلف کی پاسداری میں ناکام رہتے ہیں تو یہ انتہائی المناک ہوگا۔

بھارت آج سے نہیں پانچ ہزار سال سے طرح طرح کی قوموں اور مذاہب کا گھر ہے۔ شائد ہی دنیا میں کوئی اور ملک اس قدر اچھوتا ہو۔اگر اس رنگا رنگی کو یک رنگی میں بدلنے کی کوشش کی گئی تو کبھی کامیابی نہیں ہوگی۔ یہ وہ راستہ ہے جس میں کوئی وجے ( فاتح ) نہیں۔( آپ کا مخلص ایڈمرل ریٹائرڈ ایل رام داس )۔
پرسوں رومیلا تھاپر ، بی ڈی چٹوپادھیائے ، اوپندر سنگھ ، ایم جی ایس نرائنن اور ڈی این جھا جیسے پچاس قدآور بھارتی مورخین نے ایک مشترکہ بیان میں تاریخ کو مسخ کرنے کی سرکاری کوششوں کو شرمناک قرار دیا۔

اس بیان پر بھارتی تاریخ کے موقر استاد عرفان حبیب کے بھی دستخط ہیں۔بعد ازاں عرفان حبیب نے اخبار ٹائمز آف انڈیا کو ایک انٹرویو میں کہا کہ یہ بات سب جانتے ہیں کہ آر ایس ایس کے نظریاتی گرو ایم ایس گولوالکر ہٹلر اور اس کی نازی پارٹی کے کتنے شیدائی تھے۔ موجودہ حکومت گولوالکر کے خواب کو حقیقت بنانے کے راستے پر ہے۔ نازیوں کی طرح وہ بھی پروپیگنڈے کے ذریعے قومی سطح پر دیوانگی کو عروج پر لے جا رہے ہیں اور مجھے خطرہ ہے کہ تاریخ خود کو دھرا سکتی ہے۔

عرفان جیب نے کہا کہ آر ایس ایس محب ِ وطن نہیں فرقہ وارانہ تنظیم ہے۔ان کی حب الوطنی کی ہندوستان کو انیس سو سینتالیس سے پہلے انگریز کے خلاف ضرورت تھی مگر اس وقت وہ منظر سے غائب رہے۔اب وہ اپنا ایجنڈا بڑھانے کے لیے تاریخ کو مسخ کرنے سے بھی باز نہیں آ رہے۔ غیر سائنسی و سائنسی حقائق میں تمیز اس حد تک ختم ہو گئی ہے کہ اس ملک کا وزیرِ اعظم کہتا ہے کہ شری گنیش کے سر پے ہاتھی کا سر پلاسٹک سرجری سے لگایا گیا۔اٹل بہاری واجپائی بھی وزیرِ اعظم رہے مگر ان کی زبان سے کبھی ایسی نامعقول باتیں نہیں نکلیں۔
عرفان حبیب نے کہا کہ تنگ نظری کی انتہا یہ ہے کہ دلی کی اورنگ زیب روڈ کا نام تو بدل دیا گیا مگر مہارانا پرتاپ کے خلاف بطور مغل سپاہ سالارلڑنے والے مان سنگھ کے نام پر جو سڑک ہے اس کی کسی کو پریشانی نہیں۔یعنی ثابت یہ کیا جا رہا ہے کہ مسلمان غیرملکی ہیں۔آر ایس ایس کی پوری کوشش ہے کہ بھارتی سماج کو وہاں تک لے جائے جہاں آج پاکستانی سماج پہنچا دیا گیا ہے۔

جب ایڈمرل رام داس ، عرفان حبیب ، گلزار صاحب اور سماج کے تمام طبقات کے سرکردہ لوگ ایک ہی بات کہنے لگیں تو اس کا مطلب ہے گڑبڑ بہت سنگین ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ گڑ بڑ کا اندازہ مودی کے برسرِاقتدار آنے کے ڈیڑھ برس بعد ہی لگا لیا گیا اور اب آہستہ آہستہ کسی بھی سوسائٹی کا ضمیر کہا جانے والا سوچ آور طبقہ آواز میں آواز ملا کر زہریلے شور کے مقابلے میں آہنگ بلند کررہا ہے۔عددی اعتبار سے یہ لوگ بظاہر چند سو سے زیادہ نہیں۔مگر یہ بھی تو ہے کہ ہزار بھیڑوں سے زیادہ اہم ایک گڈریا ہوتا ہے۔

پاکستان میں بھی گڈریوں کی کمی نہیں مگر پچھلے پینتیس برس میں کتنے پاکستانی ایڈ مرلز ، سائنسداں ، فن کار ، اہلِ قلم اور دانشور ابھرے جنہوں نے امڈتے طوفان کو چیلنج کرنے کی کھلی جرات کی یا جوق در جوق ایوارڈز و خطابات واپس کیے ؟ بس یہی تو ہوا کہ ریٹائرمنٹ کے بعد ایک آدھ کتاب لکھ ڈالی، یہ ثابت کرنے کے لیے کہ ’’ میں نے تو بہت سمجھانے کی کوشش کی مگر وہ سمجھے ہی نہیں لہذا میں چار و ناچار چپ بیٹھ گیا‘‘۔آج بھی جب مجھ جیسے دانش داروں کو نظریاتی بانجھ پن کی سردی لگتی ہے تو اپنا ذاتی مزاحمتی کمبل بننے کے بجائے مرحوم منٹو ، فیض ، جالب اور فراز وغیرہ کے کفن میں گھسنے کی کوشش کرتے ہیں۔

کبھی طلبا تحریک ، ٹریڈ یونین ازم اور ان سے پھوٹنے والی انقلابیت طالع آزمائی سے پنجہ آزمائی کیا کرتی تھی مگر مدت ہوئی کہ ان سب کو سودے بازی ، زمانہ سازی ، مصلحت آمیزی ، خوف اور ترغیب کے بلڈوزروں سے سرخ قالین کردیا گیا جس پر چلتے چلتے  یہ ملک وہاں پہنچ گیا کہ ضرب المثل ہوگیا۔یعنی بھارت پاکستان بننے کی راہ پر چل نکلا ہے یا ترکی شام میں وہی تجربہ کر رہا ہے جو پاکستان سن اسی کے عشرے میں افغانستان میں کرچکا ہے وغیرہ وغیرہ۔
آج کی پاکستانی انٹیلی جینشیا کی اکثریت  مشرف بہ نظام ہو چکی ہے یا پھر ’’ حق اچھا پر اس کے لیے کوئی اور مرے تو اور اچھا ’’ کے منشور پر کاربند و مطمئن ہے۔مگر بھارتی اہلِ قلم و اہلِ سوچ تک شائد اس منشور کی کاپی ابھی نہیں پہنچی۔خدا کرے نہ ہی پہنچے۔۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.