Header Ads

Breaking News
recent

یورپ کا امن اور اسپین

پہلے چارلی ایبڈو اور اب پیرس میں ہونے والے حملوں نے یورپ کا تشخص خطرے میں ڈال دیا ہے۔ فرانس سمیت متعدد ممالک فری بارڈراور یورپی یونین معاہدے پر نظرثانی کے بیانات دے چکے ہیں۔ یورپ کے حالیہ حالات و واقعات بتارہے ہیں کہ دہشت گردی کے حالیہ واقعات دنیا کا سیاسی منظر نامہ بدلنے میں اہم ثابت ہونگے۔ حالیہ دہشت گردی کے بعد فرانس اور اس کے اتحادیوں نے شام پر اسی انداز میں بے رحمانہ بمباری شروع کردی ہےجیسے 9/11 کے بعد امریکہ نے افغانستان اور پھر عراق پر کی تھی۔

 یورپ کے دیگر ممالک کی طرح اسپین میں رہنے والے لوگوں کی اکثریت کی رائے یہ ہے کہ فرانس کے واقعہ کو جواز بنا کر امریکہ اور اسرائیل گھناؤنی منصوبہ بندی کرنے کا فیصلہ کرچکے ہیں۔

ناقدین کا کہنا ہے کہ فرانس نے چونکہ اسرائیل اور امریکہ پر دباؤ ڈالا تھا کہ فلسطین کو خودمختار ریاست کے طور پر تسلیم کیا جانا چاہئے اور اسکے ساتھ فرانس شام میں ہونے والی بمباری کے معاملے پر اتحادی افواج کو خیرباد کہنے کا عندیہ بھی دے چکا تھا۔ اس لئے یہ سب کچھ باقاعدہ منصوبہ بندی کے تحت کیا گیا ہے۔ پاکستان سمیت مسلم ممالک میں اکثریت کی رائے یہ ہے کہ فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کی مذمت کیوں کی جائے؟مغربی ممالک کے ساتھ وہی کچھ ہوا ہے جو وہ عراق، افغانستان، شام، لیبیا، فلسطین،یمن سمیت بیشتر ممالک میں کررہے ہیں۔ میری رائے اس حساس معاملے پر مختلف ہے۔

یورپ کے حالیہ دورے سے قبل فرانس میں ہونے والی دہشت گردی کی اس طالبعلم نے کھل کر مذمت کی مگر ساتھ ہی فرانس و دیگر یورپی ممالک کی خارجہ پالیسی پر بھی کڑی تنقید کی۔ جس پر پاکستان سمیت دنیا بھر سے ردعمل ملا ۔ بیشتر افراد کی رائے تھی کہ فرانس واقعہ پر بطور مسلمان ہمیں رنج و الم کا اظہار نہیں کرنا چاہئے کیونکہ فرانس کے ساتھ وہی ہوا ہے جو مغربی ممالک مسلمانوں کے ساتھ گزشتہ کئی دہائیوں سے کررہے ہیں۔ جبکہ ایک رائے یہ بھی تھی کہ کیا کبھی کسی مغربی ملک میں مسلمانوں سے اظہار یکجہتی کے لئے ریلیاں نکالی گئیں  جو ہم فرانس واقعہ کی مذمت میں نکالیں۔

 بالا رائے کو کھل کر بیان کرنے کا مقصدیہ ہے تاکہ معزز قارئین و ناظرین کی رائے کا مناسب اور بہتر انداز میں جواب دے سکوں۔ پہلی بات تو یہ ہے کہ فرانس واقعہ کی جو بھی مذمت کی گئی وہ فرانس کی حکومت کے لئے نہیں بلکہ فرانسیسی عوام کے لئے تھی اور فرانسیسی عوام انسان ہیں۔ ہم سب پہلے انسان پھر مسلمان،ہندو، عیسائی یاکچھ اور ہیں۔جب کبھی انسانیت پر ظلم کیا جائے بطور محمدﷺ کے امتی ہماری ذمہ داری ہے کہ مظلوم کے ساتھ کھڑے ہوں۔

ہمارے نبی محمدﷺ نے تو مسجد نبوی میں عیسائی وفد کو قیام پذیر ہونے کا شرف بخشا اور حضرت عمر ؓ نے بیت المقدس کے کلیسا میں عیسائی اکابرین اور دیگر غیر مسلموں کو اطمینان دلایا تھا کہ آپ سب کی حفاظت اہل اسلام کے ذمہ ہے۔ اس دین کے ماننے والے کیسے انسان سے نفرت کرسکتے ہیں۔جو دین مظلوموں کی آہ و پکار پر لبیک کہنے کا درس دیتا ہے ،جو کسی بے گناہ کے قتل کو انسانیت کا قتل قرار دیتا ہے وہ کیسے ابن آدم سے زیادتی کی اجازت دے سکتا ہے؟اس لئے بطور مسلمان ہمیں کسی بھی انسان کے ساتھ ہونے والی زیادتی پر آواز بلند کرنی چاہئے۔

قارئین کی یادداشت کیلئے عرض کرتا چلوں کہ جب بھی امریکہ،برطانیہ اور فرانس کی حکومتوں نے نہتے مسلمانوں پر گولہ باری کی تو اس پر ان ممالک کے عوام کی طرف سے سخت ردعمل سامنے آیا۔ کئی ممالک میں تو میں خود مسلمانوں کے حق میں مغربی عوام کی جانب سے نکالے گئے مظاہروں میں شریک ہوا ہوں۔اسلئے یہ کہنا غلط ہے کہ کبھی یورپی یا دیگر مغربی ممالک کے عوام نے مسلمانوں سے ہونے والی زیادتی پر اظہار یکجہتی نہیں کیا۔ ہاں البتہ فرانس سمیت تمام مغربی ممالک کی پالیسیوں پر ہمیں کھل کر تنقید کرنی چاہئے اور مسلمانوں کے ساتھ ہونیوالی زیادتیوں کے ازالے کے لئے عملی اقدامات کرنے چاہئیں نہ کہ سوشل میڈیا پر بیٹھ کر دہشت گردی کے واقعات کو سراہتے ہوئے ایک متوازی مہم شروع کر دیں۔ 
بھارت، امریکہ، برطانیہ، فرانس سمیت دنیا بھر میں جہاں بھی انسانوں پر ظلم کیا جائے۔ایک مسلمان کی حیثیت سے ہمارا فرض ہے کہ اس پر آواز بلند کریں۔
آج یورپ کا امن گہنایا ہوا معلوم ہوتا ہے۔ تمام ائیر پورٹس، ریلوے اسٹیشن، میٹرو سمیت تمام شاہراؤں پر خوف کا عالم طاری ہے۔مگر بارسلونا پہنچنے پر ایک خوشگوار حیرت تب ہوئی جب ائیرپورٹ سے باہر نکلتے ہی ایک پاکستانی کا اشتہاری بورڈ دیکھا ۔جس سے پتہ چلا کہ محمد اقبال چوہدری نامی ایک پاکستانی اسپین کے عام انتخابات میں حصہ لے رہا ہے۔

 اسپین دنیا کے ان چند ممالک میں ہے جہاں کئی سو سال تک مسلمانوں کی حکومت رہی۔آج بھی اسکے متعدد شہروں بالخصوص بارسلونا میں مسلمانوں کی اکثریت ہے اور یورپ کے دیگر شہروں کے مقابلے میں بارسلونا میں مسلمانوں کا خاصا کنٹرول ہے۔ متعدد کاروبار میں بارسلونا کے مقامی لوگ مسلمانوں کے محتاج ہیں۔لیکن حالیہ حالات اور پھر مختلف مقامات پر اشتہاری بورڈ نے راقم کو حیران کردیا۔ایک طرف تمام یورپی ممالک میں مسلمانوں کے خلاف تعصب اور امتیازی رویہ اور دوسری طرف مسلمان پاکستانی نژاد یورپی کا عام انتخاب میں ممبر قومی اسمبلی کا الیکشن لڑنا اور وہ بھی متوقع اقتدار میں آنیوالی جماعت کے پلیٹ فارم سے۔

دیرینہ دوست برادرم چوہدری امتیاز آکیہ سے اس کی وجہ پوچھی کہ آخر یہ کیا ماجرا ہے؟جس پر پتہ چلا کہ فرانس میں حالیہ دہشت گردی کے واقعات پر پورے یورپ میں مسلمانوں کیخلاف شدید ردعمل پیدا ہوا ہے مگر اسپین میں صورتحال مختلف ہے۔یہاں کے عوام کی اکثریت واقعہ فرانس کو سفارتی نگاہ سے دیکھتی ہے اور یہ شام میں ہونیوالے واقعات اور اسکے رد عمل سے بخوبی آگاہ ہے۔ اسلئے مسلمانوں کو یہاں پر کوئی بڑی مشکل پیش نہیں آرہی۔جبکہ بارسلونا میں ہی مقیم چوہدری امانت حسین مہر بتارہے تھے کہ ان واقعات پر اسپین اور بالخصوص بارسلونا میں مسلمانوں کے خلاف شدید ردعمل نہ ہونیکی ایک وجہ مسلمانوں کی اس ملک سے جڑی 800سالہ حکمرانی کی تاریخ بھی ہے۔

ان تمام بالا حقائق کو پس پشت بھی ڈال دیا جائے مگر ایک بات طے ہے کہ یورپ کے امن کو متاثرکرنے میں کسی کی منصوبہ بندی تھی یا نہیں۔اب اس کا اثر مشرقی وسطیٰ میں نظر آئے گا۔جو مقاصد 9/11 کے بعد پورے کئے گئے تھے۔ واقعہ فرانس کے بعد بھی صورتحال کچھ مختلف نہیں ہوگی۔ دہشتگردی کی حالیہ لہر یورپ کے آقاؤں سے بھی تقاضا کرتی ہے کہ بلاوجہ دیگر ممالک کے معاملات میں دخل اندازی یورپ کے امن کو متاثر کر رہی ہے اور اگر آج یورپی یونین نے مشرقی وسطیٰ میں دخل اندازی بند نہ کی تو واقعہ فرانس کا سلسلہ یہیں نہیں تھمے گا۔ 

بلکہ بات دور تلک جائیگی اور ہم یورپ کے امن کو تار تار ہوتا دیکھ کر صرف مذمت ہی کررہے ہونگے۔ آج یورپ کا تشخص خطرے میں نظر آ رہا ہے تو اس کی بنیادی وجہ یہاں کے ممالک کی امریکہ واسرائیل نواز پالیسیاں ہیں۔اگر یہی پالیسیاں جاری رہیں تو پھر یورپ کی صورتحال بھی مشرقی وسطی سے کچھ مختلف نہیں ہوگی۔

حذیفہ رحمان
 بشکریہ روزنامہ 'جنگ 

No comments:

Powered by Blogger.