Header Ads

Breaking News
recent

اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر فلسطین کا جھنڈا

گزشتہ دنوں نیو یارک میں اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے سالانہ اجلاس کے
موقعہ پر عالمی تنظیم کے ہیدڈکوارٹر پر دیگر رکن ممالک کے جھنڈوں کے ساتھ فلسطین کا جھنڈا بھی لہرا دیا گیا اگرچہ اس واقعہ کی اہمیت محض علامتی ہے اور اس سے نہ تو ریاست فلسطین کی جسے فلسطینی اتھارٹی کہتے ہیں، حیثیت میں کوئی تبدیلی آئے گی اور نہ ہی اس سے مسئلہ فلسطین کے دیرپا اور منصفانہ حل کی طرف کوئی اہم پیش قدمی کی امید ہے؛

تاہم جب ہم فلسطینی عوام کی طویل جدوجہد اور خصوصا اس مسئلہ پر اقوام متحدہ کے بدلتے ہوئے موقف کی دلچسپ تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں تو کئی ایسے حقائق سامنے آتے ہیں جن سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ اسرائیل اور اسکی پشت پناہی کرنے والے مغربی ممالک کی جانب سے فلسطینیوں کے حقوق سلب کرنے کے باوجود مسئلہ فلسطین اب بھی زندہ ہے اور اس وقت تک زندہ رہے گا جب تک دیگر اقوام کی طرح فلسطینی عوام بھی اپنے بنیادی حقوق حاصل نہیں کر لیتے۔ ان حقوق میں فلسطینیوں کی اپنے گھروں کو واپسی اور ایک علیحدہ آزاد اور خودمختار فلسطینی ریاست کا قیام شامل ہے۔

اقوام متحدہ نے گزشتہ تقریبا دار دہائیوں کے دوران فلسطینیوں کی حمایت مٰن متعدد اقدام کیے ہیں۔ ان میں 1970ء کی دہائی میں تنظیم آزادی فلسطین پی ایل او کو اقوام متحدہ جنرل اسمبلی میں آبزرور کی حیثیت سے شرکت کی اجازت دینا ، اسرائل کو ایک نسل پرست ریاست قرار دینا اور 1948ء میں تقسیم فلسطین کے نتیجے میں لاکھوں بےگھر ہونے والے فلسطینیوں کا واپس اپنے گھروں کو لوٹ جانے کے حق کو تسلیم کرنا بھی شامل ہے۔ اس کے علاوہ اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے متعدد قراردادوں کے ذریعے اسرائیل سے مقبوضہ علاقے جن میں بیت المقدس بھی شامل ہے ، خالی کرنے کا مطالبہ بھی کیا جاچکا ہے۔

ان قراردادوں میں سب سے اہم نوامبر 1967ء میں مںظور کی جانے والی سلامتی کونسل کی وہ قرارداد ہے جس میں فلسطینیوں اور عربوں کی طرف سے اسرائیل کو تسلیم کرنے کے بدلے میں اسرائیل سے ان تمام علاقوں کو خالی کرنے کا مطالبہ کیا گیا جن پر اسرائیل نے جون 1967ء کی جنگ کے دوران قبضہ کرلیا تھا۔ اگرچہ اسرائیل نے یہ قرارداد مسترد کردی تھی اور اعلان کیا تھا کہ اسرائیل جون 1967ء سے قبل کی سرحدوں پر کبھی واپس نہیں جائے گا تاہم مشرق وسطیٰ میں عرب اسرائیل تنازع اور مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کئلئے اب بھی یہ قرارداد ایک اہم فریم ورک کی حیثیت رکھتی ہے۔
 کیونکہ اس میں زمین برائے امن کا اصول پیش کیا گیا تھا۔ اس قرارداد کو نہ صرف عرب ممالک بلکہ مغربی حلقوں خصوصا یورپی ممالک کی حمایت بھی حاص ہے۔ مشرق وسطیٰ کے اس دیرینہ اور انتہائی پیچیدہ مسئلے کو حل کرنے کیلئے اب تک جو بھی تجاویز پیش کی جا چکی ہیں ان کی بنیاد یہی قرارداد ہے۔ 2002ء میں سعودی عرب کے فرمانروا مرحوم شاہ خالد نے اسرائیل اور فلسطین کی ساتھ ساتھ دو آزاد ریاستوں کے قیام کی جو تجویز پیش کی گئی تھی، اسکی بنیاد بھی اسی قرارداد پر رکھی گئی تھی۔

اگرچہ مشرق وسطیٰ میں عربوں اور اسرائیل کے درمیان چار جنگوں کے باوجود مسئلہ فلسطین کے مستقل حل کی طرف کوئی اہم پیش رفت نہیں ہوئی بلکہ فلسطینیوں پر اسرائیلی ظلم و ستم میں اضافہ ہوا ہے۔ تاہم فلسطینیوں کی حمایت اور اسرائیل کی مذمت میں اقوام متحدہ کے پلیٹ فارم سے جو قراردادیں منظور کی جاتی رہی ہیں اور اسرائیل سے جو مطالبات کیے جاتے رہے ہیں، انہوں نے نہ صرررف مسئلہ فلسطین کو زندہ رکھا ہے بلکہ انکی وجہ سے عالمی برادری میں فلسطینیوں کے حقوق کے بارے میں بہتر آگاہی اور حمایت میں اضافہ ہوا ہے۔

لیکن دلچسپ بات یہ ہے کہ فلسطینیوں کی موجودہ مشکلات اور مسائل کا ذمہ دار بھی اقوام متحدہ کا ادارہ ہے کیونکہ اسی جنرل اسمبلی نے نومبر 1947ء میں بین الاقوامی قانون کے تمام اصولوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے فلسطین کے دو ٹکڑے کیے تھے اور ایک ٹکڑے پر اسرائیل کی یہودی ریاست کے قیام کے حق میں قرارداد منظور کی تھی۔ حالانکہ فلسطین میں اس وقت بھی یہودی آبادی اقلیت میں تھی اور فلسطین تیرہ سو برسوں سے عالم عرب کا حصہ چلا آ رہا تھا۔ لین اس وقت کی بڑی طاقتوں نے جن میں امریکہ روس برطانیہ اور فرانس شامل تھے، اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی میں تقسیم فلسطین کے حق مین دو تہائی ممبران کی حھمایت حاصل کر کے اسرائیل کے قیام کی راہ ہموار کی تھی۔

فلسطین کی تقسیم اور اسرائیل کے قیام کے ھق میں جنرل اسمبلی کے دو تہائی ممبران کی حمایت کیسے حاصل کی گئی، ،بین الاقوامی سیاست میں جوڑ توڑ ، دباؤ ، دھمکیوں اور لالچ کے استعمال کی یہ ایک دلخراش داستان ہے جس میں سب سے نمایاں کردار امریکہ نے ادا کیا۔ اس وقت یعنی 1947ء میں اقوام متحدہ کے ممبران کی اکثریت کا تعلق یورپ اور لاطینی امریکہ سے تھا۔ امریکہ نے اپنی طاقت کو استعمال کرتے ہوئے اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے دو تہائی ممبران کو اس قرارداد کے حق میں ووٹ ڈالنے پر مجبور کیا۔ پاکستان کے پہلے وزیر خارجہ سر ظفر اللہ نے جنہیں قائد اعظم محمد علی جناح نے فلسطینی مسئلے پر عرب موقف کی حمایت کرنے کیلئے خصوصی طور پر اقوام متحدہ بھیجا تھا، اپنی کتاب تحدیث نعمت میں اس شرمناک جوڑ توڑ اور مذموم ریشہ دوانیوں کو بڑی تفصیل سے بیان کیا ہے۔

27 نومبر 1947ء کو منظور کی جانے والی جنرل اسمبلی کی اس قرارداد کے نتیجے میں مئی 1948ء میں اسرائیلی ریاست قائم ہوگئی لیکن اس سے مشرق وسطیٰ میں جنگ اور نفرت کی ایسی فضا قائم ہوئی جو ابھی تک قائم ہے۔ عربوں کی طرف سے تقسیم فلسطین کی سخت مخالفت کی گئی اور جب اسرائیل کے قیام کا اعلان کیا گیا تو اسکے ساتھ ہی عربوں اور اسرائیل کے درمیان پہلی جنگ چھڑ گئی۔ اسکے بعد 1956ء ، 1967ء ، 1973ء میں تین اور جنگیں ہوئیں۔ ان سب جنگوں کی وجہ مسئلہ فلسطین ہے جسے اقوام متحدہ کی ایک قرارداد نے پیدا کیا تھا۔ اور اس مسئلے کی وجہ سے سب سے زیادہ فلسطینی عوام متاثر ہوئے۔ اقوام متحدہ کے اس فیصلے کے نتائج فلسطینی اب تک بھگت رہے ہیں۔

پہلی عرب اسرائیل جنگ (1948-49)ء میں عددی برتری کے باوجود عرب فوجوں کو اسرائیل کے ہاتھوں شکست ہوئی اور انہیں کئی عرب علاقوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ اس جنگ کی وجہ سے لاکھوں فلسطینی باشندوں کو ان علاقوں سے نقل مکانی کرنی پڑی جنہیں اقوام متحدہ نے اسرائیلی ریاست میں شامل کیا تھا۔ فلسطینی اپنے آبائی گھروں کو چھوڑنا نہیں چاہتے تھے لیکن اسرائیل نے انہیں ایسا کرنے پر مجبور کیا اور اس کیلئے اسرائیل نے تمام حربے استعمال کیے۔ اس مین فلسطینی باشندوں پر حملے اور انکے گھروں کو مسمار کرنے کے اقدامات شامل تھے۔ ان لاکھوں فلسطینی باشندوں نے جن میں مرد، عورت ، بچے اور بوڑھے شامل تھے، بھاگ کر ہمسایہ عرب ممالک یعنی اردن، شام، لبنان اور مصر میں پناہ لی۔

ایک عرصہ تک یہ لاکھوں باشندے کسمپرسی کے عالم میں کیہں کھلے آسمان کے نیچے کہیں سکولوں اور ویران عمارتوں اور کہیں غاروں میں زندگی بسر کرتے رہے۔ چونکہ عرب ممالک جہاں ان فلسطینی مہاجرین نے پناہ لے رکھی تھی خود غریب تھے، اس لیے وہ ان لاکھون فلسطینی باشندوں کو خوراک، صحت اور تعلیم جیسی ضروریات تسلی بخش مقدار میں مہیا نہیں کر سکتے تھے۔ اقوام متحدہ کے ادارے یو این ایچ سی آر کی جانب سے ان مہاجرین کو جو نقد اور جنس کی صورت میں امداد دی جاتی تھی، وہ برائے نام تھی۔ بین الاقوامی برادری خصوصا یورپی اقوام ان کی امداد کیلئے کوئی قابل ذکر قدم اس لیے نہیں اٹھا سکتے تھے کیونکہ یورپ خود دوسری جنگ عظیم کی تباہ کاریوں اور اسکے نتیجے میں مہاجرین اور بے گھر افراد کے مسائل سے دوچار تھے۔

یہ لاکھوں فلسطینی مہاجرین کن حالات میں اپنے کیمپوں میں رہتے تھے انکا حال اقوام متحدہ کی بہت سی رپورٹوں میں ملتا ہے۔
اسرائیل کا خیال تھا کہ اس نے اپنے ہاں سے لاکھوں فلسطینیوں کو زبردستی بےدخل کر کے مسئلہ فلسطین کو ہمیشہ کیلئے دفن کر دیا ہے۔ اسکے خیال مین فلسطینیوں کے نام سے دنیا میں کوئی قوم باقی نہیں رہے گی۔ کیونکہ اسکے ظلم و ستم کی وجہ سے فلسطینی بے گھر ہو کر یا تو ہمسایہ عرب ممالک میں پناہ لینے پر مجبور ہو چکے تھے یا دنیا کے مختلف حصوں میں بکھر چکے تھے۔ اسرائیل کا خیال تھا کہ یہ فلسطینی ہمسایہ عرب ممالک کی ہم مذہب اور ہم نسل آبادیوں میں ضم ہو کر اور دنیا کے مختلف ممالک میں تتر بتر ہو کر اپنی قومی شناخت کھو دیں گے۔

 لیکن ایسا نہیں ہوا۔ اسرائیل کے تمام اندازے غلط ثابت ہوئے۔ فلسطینیوں نے اپنی جدوجہد سے نہ صرف اپنی علیحدہ قومی شناخت کو برقرار رکھا بلکہ بین الاقوامی برادری سے بھی منوایا۔ اقوام متحدہ کے ہیڈکوارٹر پر دنیا کی دیگر اقوام کے جھنڈوں کے ساتھ ساتھ فلسطینی پرچم کا لہرانا اس کا منہ بولتا ثبوت ہے۔

ڈاکٹر رشید احمد خان
بہ شکریہ روزنامہ ’’دنیا‘‘

No comments:

Powered by Blogger.