Header Ads

Breaking News
recent

ورنہ برداشت کر



اسرائیلی وزیرِ اعظم بنجمن نیتن یاہو نے چار روز قبل  بیت المقدس ( یروشلم
) میں عالمی صیہونی کانفرنس سے خطاب میں مفتی ِ اعظم فلسطین الحاج امین الحسینی مرحوم کے یہود دشمن ’’گھناؤنے‘‘ کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے یہ تاریخی دھماکا کیا کہ

’’ ہٹلر یہودیوں کو ختم نہیں کرنا چاہتا تھا صرف بے دخل کرنا چاہتا تھا۔ انیس سو اکتالیس میں حاجی امین الحسینی نے برلن میں ہٹلر سے ملاقات کی تو حاجی نے ہٹلر کی بے دخلی کی تجویز سن کر کہا کہ ایسا مت کرنا کیونکہ بے دخلی کے بعد سب یہودی یہاں ( فلسطین ) آئیں گے۔ ہٹلر نے پوچھا تو حاجی پھر میں کیا کروں؟ امین الحسینی نے کہا ان سب کو جلا ڈالو‘‘۔۔۔۔

نیتن یاہو کو ان کے جس بھی دوست نے یہ تاریخی ٹوپی پہنائی ہے اس نے کوئی بہت ہی پرانا بدلہ چکایا ہے۔ کیونکہ نیتن یاہو کے اس انکشاف کے بعد کہ ہٹلر کو یہودیوں کی نسل کشی کی پٹی حاجی امین الحسینی نے پڑھائی، خود اسرائیلی وزیرِ دفاع موشے یالون (جو نیتن یاہو سے بھی بڑے دائیں بازو کے انتہا پسند ہیں) نے دانتوں میں انگلیاں داب کے اسرائیلی آرمی ریڈیو پر کہا کہ وزیرِ اعظم کا تجزیہ درست نہیں۔ تل ابیب میں جیوش ہالو کاسٹ میوزیم کے نگراں اور عرب تاریخ کے پروفیسر ڈینا پورات نے کہا کہ نیتن یاہو خود بھی ایک معروف مورخ (پروفیسر بین زیون نیتن یاہو) کے صاحبزادے ہیں۔

کم از کم ان کے منہ سے ایسی بات کی توقع نہیں تھی۔ پروفیسر پورات نے وضاحت کی کہ مفتی امین الحسینی سے ملاقات سے دو برس پہلے جنوری انیس سو انتالیس میں ہٹلر نے جرمن پارلیمنٹ (ریشاغ) سے خطاب کرتے ہوئے برملا کہا کہ میں یہودی نسل کو صفحہِ ہستی سے مٹا دوں گا۔
جب کہ ہٹلر کی خود نوشت مین کیمپف ( میری جدو جہد ) انیس سو بیس کے عشرے میں شایع ہوئی۔ اس میں یہودیوں سے انتہائی نفرت ٹپکتی ہے۔ پروفیسر ڈینا پورات کے مطابق انیس سو چالیس میں نازیوں نے کنسنٹریشن کیمپ قائم کرنے شروع کر دیے تھے اور جون انیس سو اکتالیس میں سوویت یونین پر حملے کے ساتھ ہی یہودیوں کا قتلِ عام شروع ہو چکا تھا۔ جب کہ امین الحسینی کی ملاقات پانچ ماہ بعد (اٹھائیس نومبر) کو ہوئی۔

اور تو اور! جرمن چانسلر اینجلا مرکل بھی نیتن یاہو کے انکشاف پر اچھل پڑیں اور انھیں یہ بیان جاری کرنا پڑا کہ یہودیوں کے قتلِ عام کے ذمے دار جرمن نازی تھے اور جرمنی کی درسی کتابوں میں بچوں کو یہی پڑھایا جاتا ہے تا کہ وہ ماضی سے سبق سیکھیں اور مستقبل میں اس طرح کے تاریک دور کے امکانات سے خبردار رہیں۔

خود اسرائیلی شہری سوشل میڈیا پر نیتن یاہوی انکشاف کے خوب چسکے لے رہے ہیں۔ ایک کارٹون میں دکھایا گیا ہے کہ نیتن یاہو ماؤنٹ ہرمن پر ہالوکاسٹ میں مرنے والے یہودیوں کے یادگاری میدان میں ’’معصوم ہٹلر‘‘ کے نام کی یادگاری تختی نصب کر رہے ہیں۔

ایک ٹویٹر میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ جب احمدی نژاد کے اس بیان پر عالمی مذمت ہو سکتی ہے کہ یہودیوں کا قتلِ عام محض فسانہ ہے تو نیتن یاہو پر اینٹی سیمٹ ازم کے الزام میں مقدمہ کیوں قائم نہیں ہو سکتا؟ ایک ٹویٹر میں کہا گیا کہ یہ بھی معجزہ ہے کہ اسرائیلی تاریخ میں فلسطینیوں کا کوئی وجود بھی نہیں پھر بھی وہ ہالوکاسٹ کے زمہ دار ہیں۔ ایک ٹویٹر میں سوال اٹھایا گیا کہ جس حقیقت پر سے نیتن یاہو نے سڑسٹھ برس بعد پردہ اٹھایا ہے وہ اول اسرائیلی وزیرِ اعظم ڈیوڈ بن گوریان سے لے کر آج تک سب کی نظروں سے کیسے اوجھل رہی؟ اسے کہتے ہیں ’’اصلی اور سچی تحقیق‘‘۔۔

پی ایل او کے سیکریٹری جنرل صائب ارکات نے نیتن یاہو کے تاریخی انکشاف پر تبصرہ کیا کہ دراصل اسرائیلی وزیرِاعظم کو فلسطینیوں سے اتنی نفرت ہے کہ وہ اس کے بدلے ہٹلر کو بھی معاف کرنے پر تیار ہیں۔

صائب ارکات شائد درست کہتے ہیں۔ نیتن یاہو کو یہ نفرت سیاسی ورثے میں ملی ہے کیونکہ یہ نفرت زندہ نہ رہے تو اسرائیل کے قیام کی نظریاتی بنیادیں ڈھے سکتی ہیں۔ مثلاً اسرائیل کے قیام سے گیارہ برس قبل انیس سو سینتیس میں ڈیوڈ بن گوریان نے ایک صیہونی اجتماع سے خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ ’’ہمیں ہر صورت میں عربوں کو دھکیل کر ان کی جگہ لینی ہے‘‘ ۔ ایک جگہ فرمایا کہ ’’یہود دشمنی، نازی، ہٹلر، آشوٹز وغیرہ اپنی جگہ حقیقت ہے۔ لیکن اگر اس حقیقت کے پیچھے یہ سوچ تھی کہ ہم نے دراصل ان کا ملک چوری کر لیا ہے تو پھر یہ سب تو ہونا ہی تھا‘‘۔

ڈیوڈ بن گوریان نے اسرائیل کے قیام سے دس برس پہلے (انیس سو اڑتیس) ایک اور صیہونی اجلاس میں کہا ’’ہمیںایک سچ نظر انداز نہیں کرنا چاہیے۔ سیاسی لحاظ سے ہم ( یہودی) حملہ آور ہیں اور وہ (فلسطینی) اپنا دفاع کر رہے ہیں۔ یہ زمین ان کی ہے کیونکہ وہ یہاں آباد ہیں جب کہ ہم یہاں بسنا چاہتے ہیں اور وہ ٹھیک سمجھ رہے ہیں کہ ہم ان کا ملک چھیننا چاہتے ہیں‘‘ ۔

لیکن جیسے جیسے قبضہ مستحکم ہوتا چلا گیا احساسِ جرم بھی جاتا رہا۔ انیس سو سڑسٹھ کی عرب اسرائیل جنگ کی فاتح اسرائیلی وزیرِ اعظم گولڈا مائر نے پندرہ جون انیس سو انہتر کو برطانوی اخبار سنڈے ٹائمز کو انٹرویو میں کہا ’’فلسطینی نامی کوئی شے نہیں پائی جاتی۔ ایسا نہیں کہ ہم آئے، انھیں نکال پھینکا اور قبضہ کر لیا۔ یہاں تو کوئی بھی نہیں تھا۔ ہم مقبوضہ علاقے کسے واپس کریں جب کوئی لینے والا ہی نہ ہو‘‘۔۔۔

پندرہ اکتوبر انیس سو اکہتر کو گولڈا مائیر نے فرانسیسی اخبار لی ماند کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا ’’یہ ملک (اسرائیل) وہ وعدہ ہے جو خدا نے خود سے ایفا کیا، چنانچہ اس کے جائز ناجائز ہونے کی بحث فضول ہے‘‘ ۔
پچیس جون انیس سو بیاسی کو اسرائیلی وزیرِ اعظم مینہم بیگن نے اسرائیلی پارلیمنٹ کنیسٹ سے خطاب کرتے ہوئے کہا: وہ ( فلسطینی ) دو ٹانگوں پر چلنے والے جانور ہیں‘‘ ۔۔

تیس مارچ انیس سو اٹھاسی کو اسرائیلی وزیرِ اعظم ایتزاک شمیر نے فلسطینی انتفاضہ کے موقع پر غربِ اردن میں یہودی آبادکاروں سے خطاب کرتے ہوئے کہا ’’انھیں ( فلسطینی ) ٹڈیوں کی طرح کچل دیا جائے گا۔ ان کے سر پتھروں اور دیواروں سے پاش پاش کر دیے جائیں گے‘‘ ۔۔

جنرل (ر) یہود براک کو نسبتاً ایک اعتدال پسند وزیرِاعظم سمجھا جاتا تھا۔اخبار یروشلم پوسٹ کے مطابق آپ نے اگست دو ہزار میں فرمایا کہ ’’فلسطینی مگر مچھ کی طرح ہیں۔ جسے جتنا کھلا دو بھوک نہیں مٹتی‘‘۔ جب اسرائیلی اخبار ہارٹز کے کالم نگار گیدون لیوی نے یہود براک سے پوچھا اگر تم فلسطینی ہوتے تو کیا کرتے؟ براک کا جواب تھا ’’میں کسی دہشت گرد تنظیم میں ہوتا‘‘ ۔

اسرائیل واحد ملک ہے جہاں فلسطینیوں کے قتل ِ عام اور برٹش فلسطین میں سرکاری املاک کے خلاف دہشت گردی میں مطلوب دو اشتہاری مجرم (مینہم بیگن اور ایتزاک شمیر) بعد میں ملک کے وزیرِ اعظم بنے۔

جب کہ بیروت کے صابرہ اور شتیلہ کیمپوں میں فلسطینیوں کے قتلِ عام کے ایک کلیدی ذمے دار کی حیثیت سے بین الاقوامی عدالتِ انصاف کے سامنے بطور مجرم طلب کرنے کی ایک سے زائد پیٹیشنوں کے ملزم وزیرِ اعظم ایریل شیرون نے پچیس مارچ دو ہزار ایک کو اپنے بیان میں کہا ’’اسرائیل کو حق ہے کہ وہ دوسروں پر مقدمہ چلائے مگر کسی کو یہ حق نہیں کہ وہ یہودیوں یا اسرائیل کو کٹہرے میں لائے‘‘۔۔۔ اس سے پہلے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کے مطابق پندرہ نومبر انیس سو اٹھانوے کو آباد کاروں کی جماعت سومیٹ سے خطاب کرتے ہوئے ایریل شیرون نے فرمایا کہ ’’یہودی بستیوں کے لیے جتنی تیزی سے جتنے علاقوں پر قبضہ ہو سکتا ہے کر لیا جائے کیونکہ جو رقبہ رہ گیا وہ ان ( فلسطینی ) کا قرار پائے گا‘‘۔۔۔

اس تناظر میں موجودہ اسرائیلی وزیرِ اعظم کا یہ انکشاف کہ یہودی قتلِ عام کا منصوبہ دراصل الحاج امین الحسینی نے ہٹلر کے ذہن میں ڈالا، کوئی انہونا انکشاف نہیں بلکہ ایک مسلسل اور مخصوص ذہنیت کی تازہ کڑی ہے۔ ایسے مواقع پر مجھے اس ٹرک کی یاد آتی ہے جس کے پیچھے لکھا ہوتا ہے ’’تپڑ ہے تو پاس 
کر ورنہ برداشت کر ‘‘۔۔۔۔

وسعت اللہ خان

No comments:

Powered by Blogger.