Header Ads

Breaking News
recent

شام میں ماسکو کے عزائم کیا ہیں؟

شام کے بشار الاسد اور انکی اتحادی ایرانی حکومت کے مابین اختلافات کی خبریں کچھ عرصہ سے مل رہی ہیں۔ باہمی مفاد پر مبنی یہ تعلق کافی دیر تک چلتا رہا، بشارالاسد کو ایران کا مشکور ہونا چاہیے جسکی مہربانیوں کی وجہ سے آج تک انکی حکومت بچی ہوئی ہے۔ ایران نے اسد حکومت کے دفاع کے لئے مختلف ملکوں کے رضاکاروں پر مشتمل ایک بڑی فوج ایسے وقت میں تشکیل دی جب شامی فوج بڑھتی ہلاکتوں اور بھگوڑوں میں مسلسل اضافے کے باعث ختم ہونے کے قریب تھی۔

حالیہ چند ہفتوں کے دوران دنیا نے دیکھا کہ روسی صدر ولادمیر پوتن ذاتی طور پر شامی بحران میں دلچسپی لے رہے ہیں۔ امریکی انٹیلی جنس ادارے کی تصاویر شام میں روس کی بڑھتی سرگرمیاں عیاں کرتی ہیں۔ ایک فوٹیج کے مطابق اللذقیہ ایئرپورٹ پر نئے رن وے اور ہیلی کاپٹروں کیلئے ایئر سٹرپ کا اضافہ کیا گیا ہے۔ جہاز کھڑے کرنے کی گنجائش بڑھا دی گئی ہے، جسکے بعد سول ایئرپورٹ مکمل فوجی بیس بن چکا ہے ۔ اسکے علاوہ دمشق کے قریب ایک ائیر بیس روسی استعمال کر رہے ہیں۔

روس سے شام میں سیکڑوں تیار شدہ عمارتی ڈھانچے بھی پہنچے ہیں غالب امکان ہے کہ انہیں دوہزار روسی فوجی اپنی رہائش گاہ کے طور پر استعمال کریں گے۔ امریکیوں کے شک و شبہات مین اضافہ اس وقت ہوا جب روس نے کئی ممالک سے درخواست کی کہ وہ اپنی فضائی حدود سے روس کے فوجی طیارے گزرنے دیں۔ ایک ٹھوس خبر یہ ہے کہ شامی شہر طرطوس کی بندرگاہ کو روسی توسیع دے رہے ہیں تاکہ وہ روس کی نیول بیس بن سکے۔ قبل ازیں یہ بندرگاہ روسی بحرای جہازوں کو گیس اسٹیشن اور مرمت و دیکھ بھال کی سہولت فراہم کر رہی تھی۔

سوال یہ ہے کہ ماسکو کے عزائم کیا ہیں؟ کیا ماسکو نیٹو کیخلاف فوجی اقدامات کر رہا ہے؟ کیا ماسکو اسد حکومت کو بچانے کی کوشش کر رہا ہے؟ آیا روس شام کی تقسیم کے منصوبے پر کام کر رہا ہے جسکا مقصد اسد کو بچانا ، ساحلی علاقے مین است حکومت منتقل کرنا اور علوی ریاست کا قیام عمل میں لانا ہے؟ عربی روزنامے میں چند روز قبل عرب دانش ور ابراہیم الحمیدی کا تجزیہ شائع ہوا جس مین انہوں نے ایک مختلف نقطہ نظر پیش کیا ہے۔ وہ لکھتے ہیں: روس کی فوجی مداخلت کا حقیقی مقصد بشارالاسد کو داعش یا شامی اپوزیشن کے جنگجوؤں سے بچانا نہیں بلکہ اہم ترین اتحادی ایران سے بچانا ہے۔

اسد حکومت کے ساتھ ایرانی تعاون کو دیکھا جائے تو ابراہیم الحمیدی کا نقطہ نظر عجیب دکھائی دیتا ہے، اسکے باوجود انکا آرٹیکل دلچسپ اور اہم ہے۔ الحمیدی کی نظر میں ایرانی کمزور اسد حکومت ہٹانا چاہتے ہیں، ایران اریکا کے ساتھ سیاسی مصالحت کا خواہاں ہے اور جانتا ہے کہ یوکرائن کے مسئلے پر روس اور امریکہ کے مابین تنازعہ چل رہا ہے۔ الحمیدی کے مطابق روسیوں اور ایرانیوں کے مابین بھی تنازعات چل رہے ہیں، روس ایرانی عزائم کے خلاف ہے جن میں ایک شام کا سیاسی ڈھانچہ اور آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کی ایرانی کوشش ہے۔

روسی وزیر خارجہ ایران کی اس کوشش کو سوشل انجینئرنگ قرار دیتے ہیں۔
ایران شام کے دو قصبوں کی شیعہ آبادی کو الذبدانی نامی شہر مین منتقل کرنے کی کوشش میں ہے اور سنی آبادی کو وہاں سے نکال رہا ہے۔ ایران کی اس کوشش کی ناکامی طے ہے جسکی وجہ شام مین مختلف فرقوں کی آبادی کا تناسب ہے۔ لبنان اور عراق کے برعکس شام میں شیعہ ایک اقلیت یعنی آبادی کا صرف پانچ فیصد ہیں جبکہ سنی کل آبادی کا 80 فیصد ہیں۔ شام میں ایران کی ناکامی وجہ بھی یہی ہے۔

غیر ملکی طاقتیں شام کیلئے جو منصوبے لے کر آئیں، انہیں حاصل کرنا صرف مشکل نہیں، ناممکن تھا، جیسے کہ تمام فریقین پر مشتمل ایک حکومت بنانا۔ دوسرے منصوبے مین داعش کو واحد دشمن تصور کیا گیا ہے۔ تیسرا منصوبہ شام کی تقسیم اور بحیرہ روم کے ساتھ علوی ریاست قائم کرنا ہے۔ روس اور ایران نے چار سال تک ایک ہی منصوبے یعنی اسد حکومت برقرار رکھنے پر توجہ دی، بتدریج انہیں احساس ہوا کہ ایسا ممکن نہیں کیونکہ شام کے لوگ اسکی سکیورٹی فورسز منقسم ہو چکی ہیں۔ اس دوران بشار الاسد سے نفرت میں اضافہ ہوا کیونکہ وہ اڑھائی لاکھ شہریوں کے قتل کا ذمے دار ہے۔ ان حالات میں واحد قابل عمل منصوبہ اسد حکومت کا خاتمہ ہے، مگر مسئلہ یہ ہے کہ اس کی جگہ کون لے گا؟ مسلح شامی اپوزیشن کو یہ ذمہ داری اس وقت تک سونپی نہیں جا سکتی جب تک علاقائی سطح پر عرب ریاستوں، ایران اور ترکی کے درمیان اتفاق رائے نہ ہو۔ شام کا معاملہ انتہائی پیچیدہ ہے ، ایران روس تنازعہ اگر حقیقت ہے تو پھر شام کی صورت حال مزید پیچیدہ ہوگی۔

ایرانی نیوکلیئر ڈیل کے بعد مشرق وسطی کے حالات میں تبدیلی ناگزیر ہے۔ روسی پالیسیوں کے خلاف ایران کا جھکاؤ تو امریکا کی جانب ہوگا۔ پوتن کے اقدامات مشرق وسطیٰ میں ممکنہ تبدیلی کے پیش نظر ہو سکتے ہیں ، کیونکہ روس کے پاس بھی اس بحران کا ایک حل مووجد ہے؛ اسد اور کچھ اپوزیشن قوتیں پر مشتمل حکومت کا قیام جنہیں روس کی سرپرستی حاصل ہے، اور جس میں ایرانی پاسداران انقلاب ،ک جنرل قاسم سلیمانی کی قدس فورس، حزب اللہ اور افغانی و عراقی رضاکاروں پر مشتمل ملیشیاؤں کا کوئی کردار نہ ہو۔

عبدالرحمان الراشد

No comments:

Powered by Blogger.